Sunday, 17 May 2015

نباتاتی نام :بمبوسا بمبوس Botanical Name: Bambusa bambos


نباتاتی نام :بمبوسا بمبوس Botanical Name: Bambusa bambos
خاندان ©: پوایسی Family:Poaceae
انگریزی نام: کامن بمبو ، Indian Thorny Bamboo,Common Bamboo,Spiny bamboo
دیسی نام: بانس، کالک، کانٹا بانس، نال بانس Bans, Nal Bans Bans, Kalak, Kanta
ابتدائی مسکن(ارتقائ):جنوبی اور مشرقی ایشیا۔ بھارت، پاکستان، سری لنکا، بنگلہ دیش، برما، تھائی لینڈ، لاو ¿س، Kampuchea، ویت نام اور چین
قسم:سدا بہار                                قد:20-24میٹر                             قطر: 10 - 18 سینٹی میٹر
ڈنٹھل: بانس کی تیزی سے بڑھتی ہوئی، مضبوط ووڈی ڈنٹھل اوسط قطر 10 -18 سینٹی میٹر ۔ قد 20-30 میٹر کے درمیان. internodes بہت موٹی دیواروں کے ساتھ رنگ کے گہرے سبز رنگ کی ہیں. نوڈ تھوڑا سا سوجی ہوئی ہیں اور کچھ نیچے والی نوڈس مختصر فضائی جڑ پیدا کرتی ہیں۔
پتے: پتیاں ایک طویل نکیلے کونے کے ساتھ نیزہ کی شکل کی ہیں. ہر ایک مرکب پتے میں تقریبا 10 پتیاں ، فی پتی 15-30 سینٹی میٹر لمبی اور 8-15 ملی میٹرچو ڑی ۔ نوڈ ایک یا دو اطراف والی شاخوں کے ساتھ ایک مرکزی غالب شاخ پر مشتمل ہےں ۔ اور اکثر ریڑھ کی ہڈی کی طرح ہیںکانٹے دار چھوٹی شاخیں طویل اور wiry ہیں، اور عام طور پر زمین کی طرف جھکی ہوئی اوپری پتیدار شاخیں پنکھا نما بناتی ہیں۔ جن پر چھوٹے کانٹے ہوتے ہیں



پھولوں کا رنگ:                            پھول آنے کا وقت:
کاشت: سکرز یعنی زیرزمین تنوں ۔ رائیزوم یعنی زیربچہ سے
جگہ کا انتخاب:یہ ٹراپیکل علاقے کا پودا ہے - نیم مرطوب ۔ مرطوب آب و ہوا ،گہری ،دلدلی ،گہری زمینیں، دریا کے کناروں، ذرخیز ، نم مٹی کے ساتھ دریا کی وادیوں
کے ساتھ ساتھ سب سے بہتر اگتا ہے۔
نمایاں خصوصیات:اس کی کئی اقسام ہیں جو قد اور موٹائی کے حوالے سے مختلف ہیں ۔تیز بڑھوتری     
تعارف:      بانس گھاس کے خاندان سے تعلق رکھتا ہے عام طور سے اس کی1250 اقسام خیال کی جاتی ہیں جن کی لمبائی 6 انچ سے لیکر 100 فٹ تک بتائی جاتی ہے بانس کی دو اقسام خاص کر قابل ذکر ہیں ۔
(ا)اس قسم کے بانس کی جڑوں سے شگوفے نکل کر پودوں کے جھنڈ بن جاتے ہیں اس کی مندرجہ ذیل تین جنس ہیں۔
(i) BAMBUSA (ii) DENDROCALAMUS (iii) GVADUA
ٰیہ سب گرمی پسند ہیں سرد آب ہوا کو ہرگز برداشت نہیں کرتے ۔BAMBUSA خاندان کی بہت سی اقسام / نسلیں ہیں جن میں سے اکثر بیشتر افریقہ اور جاپان میں پائی جاتی ہے۔
(ب)دوسری قسم کے بانس کی جڑیں زیر زمین جال کی مانند پھیلتی ہیں ان پر نکلنے والے شگوفے سے صرف اور صرف ایک ہی پودا بنتا ہے جو کہ جھنڈ کی نسبت کافی فاصلہ ہر ہوتا ہے ان کو Single stem/culm بانس پکارا جاتا ہے اس کے بھی مندرجہ ذیل تین جنس ہیں۔
ARUNNDINARIA  (ii)OSTACHYS  (iii)MELOCANNA ( i)
ٰیہ بھی گرم خطے میں پائے جاتے ہیں پاکستان میں اس قسم کا بانس متعارف نہیں ہوا محولہ بالا اقسام ،ا ، او ر ،ب، کے درمیان بانس کا ایک اور خاندان ہے جسے CHUSQUEA کہا جاتا ہے یہ سطح سمندر سے کافی بلندی پر پایا جاتا ہے۔بانس صرف جنگل کا خود رو پودا ہی نہیں بلکہ اس کو انسانی تدبر اور وسائل سے بھی کاشت کیا جاتا ہے اسکی کاشت کا پھیلاو ¿ بڑی سرعت سے ساری دنیا میں عام ہوتا جارہا ہے ۔کیونکہ یہ کسی صورت میں ہر فرد بشر کے لئے مفید ہے اور پائیداری میں بے مثال ہے اس کی لکڑی تعمیراتی منصوبوں میں کام آتی ہے اس کے لمبے لمبے ستونوں (Poles )سے تہواروں پر سجاوٹی محرابیں بنائی جاتی ہیں کاغذ سازی میں استعمال ہوتا ہے اس سے پانی کے پائپ ،ٹوکریاں ،کپڑے اور بے شمار روز مرہ استعمال کی سجاوٹی / زیبائشی اشیاءتیار کی جاتی ہیں۔چونکہ اس کی لکڑی میں لچک ہوتی ہے اس لئے اس کو زرا سا تاو ¿ دے کر موڑنا بڑا ہی آسان طریقہ ہے لہٰذا اس کو خم دے کر بھی استعمال کیا جاتا ہے جیسے حقے کی نڑیاں وغیرہ بنائی جاتی ہیں مزید یہ کی اس کی تازہ اور نرم نرم سرسوں کی طرز کی گندلیں بطور خوراک استعمال کی جاتی ہیں جبکہ اس کا رس اور گودا دوا سازی کے کام آتا ہے۔
بانس کی کاشت / افزائش:
بانس کی کاشت / افزائش کے لئے بالعموم مندرجہ ذیل قابلِ عمل ہیں ۔
(1 )بیج                      (2)چشم دار جڑRhizomes                            (3) شاخ تراشے
(1 )بیج:                     بانس کا پودا زندگی میں ایک دفعہ بار آور ہوتا ہے اور پھر مر جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس کی افزائش بذریعہ بیج ایک طویل اور صبر آزما کام ہے مزید یہ کہ اس کا بیج بالعموم دو ماہ تک پیداواری قوت و صلاحیت برقرار رکھتا ہے مگر جدید سائینٹفک حفاظتی اقدامات اختیار کرنے سے پیداواری قوت دو سال تک برقراررکھا جا سکتا ہے ۔مگر یہ طریقہ ہمارے ہاں رائج نہیں ،جونہی پودے سے بیج حاصل ہو ہر ممکن جلدی بو دینا چاہیے بیج بوائی سے دو تین ہفتے بعد اگنا شروع کر دے گا پودوں کی نقل و حمل میں آسانی کے پیش نظر بیج کی بوائی (Polythene Tubes) پلاسٹک کی تھلیوں میں (جن کا سائز 9x6 انچ ہو)یا مٹی کے گملوں میں کرنی چاہیے اچھے اگاو ¿ کے لئے پلاسٹک یا گملوں میں دریائی مٹی (Silt ) یعنی بھل ڈالنی چاہیے۔
جھلسا دینے والی گرمی اور سخت سردی سے بچاو ¿ کی خاطر تھلیوں / گملوں کو سایہ کے نیچے منتقل کرنا ضروری ہے بوائی سے ایک سال بعد پودوں کو کھیت میں 4 تا6 میٹر کے فاصلہ پر گڑھے نکال کر منتقل کر دینا چاہیے ،پودوں کے اچھے جڑاو ¿ اور مناسب پرورش کے لئے بھل ور گلی سڑی کھاد گڑھوں میں ضرور ڈالنی چاہیے اس طرح بانس کا پودا بفضلِ خدا4-3 سال تک پختگی کی حالت کو پہنچ جائے گا ،بانس کی کاشت کے لئے جہاں مناسب قسم کا خیال واجبی ہے وہاں زمین کی موزونیت کو ملحوظ رکھنا بھی ازبس ضروری ہے مثلاََ درج ذیل جدول میں ہر قسم کے بالمقابل موزوں زمین ظاہر کی جاتی ہے۔
                نام بانس                                                                                     قسم زمین
1 ۔Bambusa polymorpha                      اس قسم کے بانس کے لئے نم دار اور زرخیز زمین جو کہ پانی جلد جذب کر سکے در کار                                                                   ہے۔
2 ۔Dendrocalamus strictus                   یہ بانس خشک زمین میں بھی پروان چڑھ سکتا ہے۔
(لاٹھی بانس)
3 ۔Bambusa tulda                                  اس کے لئے خالصتاََ دریائی مٹی(بھل۔Silt )سے بنی ہوئی زمین درکار ہے ندی                                                                             نالوں کے ساتھ پایا جاتا ہے۔
4 ۔Dendrocalamus longispthus            اس قسم کا بانس دریائی رقبہ جہاں زیادہ نمی ہو پایا جاتا ہے۔
5 ۔Bambusa arundinacex (کنڈیالہ)         بانس ندی نالوں کے کنارے اور نم دار میرا قسم کی زمین میں خوب پروان چڑھتا ہے
6 ۔Dendrocalamus hamiltoni                               اس کے لئے خالصتاََ دریائی مٹی (بھل)سے بنءہوئی زمین درکار ہے ندی نالوں
(کالا بانس )یا چواڑی                                                      کے ساتھ لگایا جاتا ہے۔
7 ۔Thyrsostachys oliveri                       اس کے لئے خالصتاََ دریائی مٹی (بھل)سے بنءہوئی زمین درکار ہے ندی نالوں
(ڈنگوری)                                                                    کے ساتھ لگایا جاتا ہے۔
8 ۔Bambusoides                                    اس کے لئے خالصتاََ دریائی مٹی (بھل)سے بنءہوئی زمین درکار ہے ندی نالوں
(ساوا )                                                                       کے ساتھ لگایا جاتا ہے۔
بانس کی کاشت کے لئے کلر اٹھی زمین مناسب نہیں۔
2 ۔قلمات/ یا چشم دار جڑیں(RHIZOMES)
ؓبانس کے پودے اپنی عمر کے ساتھ ساتھ زیر زمین جڑوں کا جال بچھا دیتا ہے ان پر چشم دار گانٹھیں ہوتی ہیں جہاں سے شگوفے نکل کر پودے بنتے رہتے ہیں۔ان جڑوں کو قلمات (چشمدارجڑیں)یا(RHIZOMES)کا نام دیا گیا ہے اگر ان کو اوائل موسم بہار میں بصدا حتیاط پودے سے الگ الگ کر کے کسی دوسری جگہ لگا دیا جائے تو اس طریقہ سے بھی افزائش ممکن ہے (RHIZOMES)دراصل جڑ کی بجائے زیر زمین تنا ہوتا ہے ۔(RHIZOMES) کی کٹائی کرتے وقت مٹی ہٹا کر جڑوں کو ننگا کر لینا چاہیے ۔پھر تعین کر لیا جائے کہ ان قلمات کی عمر واقعی چھ ماہ ایک سال ہے تو اس کے بعد قلم کو کسی تیز دھار آلے کے ذریعے ترچھا گھاو ¿ دے کر درخت سے الگ کر دیا جائے تو کٹائی کے وقت احتیاط یہ برتنی چاہیے کہ قلمات زخمی نہ ہونے پائیں۔دوسرے یہ کہ گھاو ¿ اوپر سے نیچے کی طرف ترچھا ہو ۔تیسرے یہ کہ جس قدر ممکن ہو زیر زمین سرے کے ساتھ جڑیں رہنے دیں پھر6-4 میٹر کے فاصلے پر بنائے ہوئے گڑھے جو کہ دریائی مٹی (بھل۔Silt )اور گلی سڑی کھاد کے آمیزہ سے پر ہوں میں منتقل کر دیا جائے جڑوں کو موزوں و مو ¿ثر طریقہ سے اس قدر زمین میں دبا دیا جائے کہ تنا بھی سطح زمین سے نیچے چلا جائے مگر تنے کا سرا شمال کی جانب 40-60 ڈگری درجے کا زاویہ بناتا ہو اس طریقے سے قلمات کو کو سورج کی گرمی سے بچانا محل نظر ہے۔اگر گرمی کو مزید کم کرنا ہو تو تنے کے سرے پر گوبر لگا دینا چاہیے اس طریقہ کاشت کا فائدہ یہ ہے کہ Rhizomes یعنی قلمات بیج کی نسبت با آسانی وافر مقدار میں دستیاب ہوسکتی ہیں اور بانس کی کاشت و افزائش کی رفتار تیز کی جا سکتی ہے لیکن اس طریقہ کاشت کے نقصان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ممکن ہے جس مادری پودے بانس سے قلمات حاصل کی گئی ہوں وہ بار آور حالت میں آئے اور پھر مر جائے۔اس کا اثر تمام قلمی پودوں پر پڑے گا۔اور وہ سب بار آور حالت میں آکر مر جائیں گے ،جبکہ بذریعہ بیج لگائے ہوئے درختوں کی لمبی عمر کی ضمانت دی جاسکتی ہے۔
شاخ تراشے:(Branch Cuttings)
شاخ تراشوں کے ذریعے کاشت کا انحصار زمین کی زرخیز اور گرد پیش کے ساز گار ماحول پر ہے زیادہ سے زیادہ کامیابی حاصل کرنے کے لئے (Bed Nursery) چوڑی چوڑی وٹوں پر لگانے کی سفارش کی جاتی ہے نرسری کے بیڈ کی مٹی (Silt)بھل+گلے سڑے گوبر اور پتوں کی کھاد کا آمیزہ ہونی چاہیے تاکہ پانی جلد جذب کر سکے اور پودے کو کافی غذا فراہم کرے مناسب آبپاشی بھی ضروری ہے اس طریقہ کاشت سے 20-40% تک کامیابی کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
دیکھ بھال:
بانس کا پودا زرخیز بھر بھری جلد جذب کرنے والی میرا زمین میں بخیر و خوبی پپنتا ہے بروقت کاشت،گوبر اور پتوں کی گلی سڑی کھاد تو سونے پر سہاگے کا کام دے گی۔نو کاشتہ پودوں کو تو ہفتے عشرے بعد باقاعدگی سے پانی دینا چاہیے زمین کی خاصیت اور ہیئت کو پیش نظر رکھتے ہوئے اور آبپاشی میں کمی بیشی بھی ممکن ہے لیکن مثال کے طور پر دریاو ¿ں اور ندی نالوں کے نواح میں لگائے ہوئے پودوں کو دیر بعد پانی درکار ہوگا جبکہ دور افتادہ جگہوں پر پودوں کو جلدی آبپاشی کی ضرورت ہوگی ۔اسی طرح جہاں زیر زمین پانی نزدیک ہو گا اور نمی بالعموم برقرار رہتی ہوگی ۔وہاں بانس کو بھی پانی کم درکار ہو گا جبکہ اس کے برعکس خشک علاقوں میں لگائے ہوئے پودوں کو نسبتاََ پانی جلدی دینا چاہیے۔لیکن ضرورت سے زیادہ پانی نہ دیں وگرنی پھپھوندی حملہ کر دے گی ۔کھیتوں کو باقاعدگی کے ساتھ جڑی بوٹیوں سے پاک و صاف رکھنا چاہیے تاوقتیکہ پودے بڑھ کر پھیلاو ¿ سے ان پر پوری طرح غالب نہ آجائیں مناسب گوڈی نشوونما کے لئے مفید ہے۔پہاڑی علاقوں اور سطح مرتفع میں لگائے پودوں کے گرد مٹی چڑھانا چاہیے تاکہ بارش کی وجہ سے جڑ ننگی نہ ہونے پائے وگرنہ پودے کی بڑھت رک جائے گی میدانی علاقوں میں ایسا کرنے کی چنداں ضرورت نہیں ،بانس کے پودوں کو سو ¿روں ،چوہوں اور سیہ (خارپشت)کے حملوں سے محفوظ رکھنا چاہیے اگر کسی قسم کی بیماری لاحق ہوجائے تو قریب ترین دفاتر محکمہ جنگلات/ زراعت سے رجوع کریں۔
برداشت:
جڑوں کا پھیلاو ¿ باہر کی جانب مسلسل جاری رہتا ہے ان پر چشم دار گانٹھیں بنتی رہتی ہیں جن سے شگوفے نکل کر پودے بنتے ہیںپودوں کے اس بیرونی حلقے کو چال(Chal)کہتے ہیں ان کو ہر گز کاٹنا نہیں چاہیے کیونکہ یہ قلمات کی فراہمی میں معاونت کرتے ہیں سیدھے پودوں کو تین سال کے عرصہ تک نہیں کاٹنا چاہیے اس سے قبل یہ پختہ نہیں ہوتے۔جو بانس کے تنے پختہ ہو جاتے ہیں۔ان میں لچک آجاتی ہے اور ایک جانب جھک جاتے ہیں ان کا رنگ اور پتے بھی پختگی کی حالت کا پتہ دیتے ہیں۔بانس کا پودا 3-4 سال کی مدت ک جوبن میں آجاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ طاقت پکڑ لیتا ہے ۔البتہ بارآور حالت تک پہنچنے میں کافی عرصہ درکار ہوتا ہے تمام تر معمر ناقص اور گئے گذرے پودے کاٹ دینے چاہئیں ۔تا کہ مناسب اور صحت مند پودوں کو بڑھنے کا موقع ملے کٹائی کے دوران یہ بات بطور خاص یاد رکھنی چاہیے کہ بقیہ پودوں کو گنجان نہ چھوڑیں ۔اور حتی الامکان یکساں فاصلے پر رکھیں ۔جن پودوں پر بار آور ہونے کے اثرات نظر آئیں ن کاٹیں ۔تا کہ آئندہ کے لئے بیج حاصل کر سکیں ۔
جیسا کہ اوپر مفصل ہے کہ بانس کی کٹائی3-4 سال سے پہلے ہرگز نہیں کرنی چاہیے ۔اس کے برعکس اگر پہلے کاٹ لیا جائے تو لکڑی پچک جائے گی چونکہ لکڑی نرم ہوگی اس لئے چنداں کار آمد نہ ہوگی ایسے تنوں کو بلکل کاٹنا نہیں چاہیے جن پر ابھی پتوں کے پردے بنے ہوئے ہوں۔پودوں کو پہلے جھنڈ ہی سے کاٹنا چاہیے ۔کٹائی کا بہترین موسم جولائی کا موسم ہے یا پھر موسم برسات کے بعد کا عرصہ جب سردی کی آمد آمد ہوتی ہے اس وقت بانس میں نشاستے کے اجزاءکم ہوتے ہیں۔
لکڑی خشک کرنے کا عمل:
کٹائی کے بعد لکڑی کو خشک کرنے کے لئے دو ماہ تک پانی میں رکھنا چاہیے تا کہ پہلے سے موجود کیڑا یا دیمک مر جائے ۔اس عمل کے لئے گدلا پانی زیادہ موزوں ہے اس طریقہ سے سکھائے ہوئے بانس میں آیندہ کے لئے کیڑوں کے حملوں کے خلاف قوت مدافعت پیدا ہوتی ہے دوسرے یہ کہ پائیداری اور مضبوطی عود کر آتی ہے ۔لہٰذا بڑے یقین کے ساتھ بھاری کاموں میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔
حجم اور پیداواریاستعداد:
بانس کی فروخت عام طور سے رقبہ یا پودوں / تنوں کی تعداد کی بنیاد پر ہوتی ہے تین سال کے دوران بانس کے نوکاشتہ پودے سے 12 تا60 لڑے Culms یا(Poles)تک حاصل ہونے کی اطلاعات ملی ہیں ۔
بارآوری:
جیسا کہ پہلے مفصل ہے کہ بانس سدا بہارگھاس کے خاندان سے متعلق ہے اس کی زندگی کا آغاز بیج کے اگنے سے ہو تا ہے اور پھل پھول دینے پر تمام ہو جاتا ہے اس دوران جس قدر اس سے قلمات حاصل کرکے افزائش کی جا چکی ہوں گی تمام پودے بیک وقت بار آوری کی حالت میں آ جائیں گے اور بیج دیتے ہی مر جائیں گے ۔ایک محتاط انداز ے کے مطابق بانس کا پودا30-40 سال لگ بھگ بیج دیتا ہے عام طور پر دسمبر اور جنوری میں پھول نکلتے ہیں بیج فروری سے اپریل اور بسا اوقات جون تک بیج بن جاتا ہے ۔بانس کے جدید بیج بالمعموم دو ماہ تک قوت روئیدگی برقرار رکھتے ہیں۔اس لئے بہتر یہی ہے کہ بیج حاصل کرتے ہی بو دینا چاہیے تاکہ ضائع نہ ہو ۔پشاور میں بانس کا بار آور حالت میں آنے کیلئے عمر کا تعین کرنے سے متعلق بڑا کام کیا گیا ہے لیکن ابھی تک کو ئی کامیابی حاصل نہیں ہوسکی یوں بھی ہوتا ہے کہ مختلف عمروں کے پودے بیک وقت پھول لیتے ہیں۔
مشورے:                    بانس تیزی سے بڑھنے والا پودا ہے بڑے قد کے بانس کو (قلمات یا پولی تھین ٹیوب میں تیار شدہ پودوں) 20x20 فٹ کے فاصلے پر اور پتلے سائز کے پودوں کو 10x10 فٹ کی دوری پر باغ کی طرح لگانا چاہیے اس لئے کے اوائل موسم بہار موزوں ترین موسم ہے بانس کا بیج چونکہ جلد خراب ہو جاتا ہے اس لئے جوں ہی دستیاب ہو زمین خوب تیار کر کے پولی تھین ٹیوب میں مٹی (بھل)اور گلی سڑی کھاد کا آمیزہ ڈال کر فوراََ لگا دینا چاہیے۔جو حضرات تجارتی پیمانے پر بانس لگانے کے حق میں نہ ہوں وہ کم از کم اتنا بانس تو ضرور کاشت کریں جو ان کی اپنی ضرورت کو پورا کر سکے۔
پاکستان میں بانس کی کاشت کا ایک نظر جائزہ:                      قیام پاکستان سے پہلے ہی Dendrocalamus strictus (بانس) کا ایک تجرباتی ذخیرہ مارگلہ کی پہاڑیوں میں موجود تھا جو آج بھی محفوظ جنگل froest Reserve کے طور پر C.D.A اسلام آباد کے زیر انتظام ہے یہ بانس ہو شیار پور اور ڈیرہ دون (ہندوستان)کے بانس کے مقابلہ میں گھٹیا ہے عین ممکن ہے اس وجہ سے یہ سرکاری یا نجی سطح پر افزائش کے لئے مر غوب نہ ہو سکا۔Dendrocalamus hamiltonii (بانس) گورنر ہاو ¿س لاہور کی رونق تو بنا لیکن اس سے استفادہ کرنے کے لئے عام لوگوں سے متعارف نہ کرایا گیا۔غالباٰاس لئے کہ خطہ کی ضروریات مشرقی پاکستان سے پوری کی جاتی تھیں تا ہم محکمہ جنگلات (پنجاب) نے کوئی 20-15 سال قبل لاپور اور چیچہ وطنی میں بانس کی نرسریاں اگائیں اور عوام میں امدادی قیمت پر پودا جات تقسیم کئے چونکہ یہ بانس بھی (اولذکر قسم) گھٹیا تھا۔اس لئے زمیندار حضرات میں کاشت کے لئے مقبول عام نہ ہو سکا اس طرح بانس کاشت/ افزائش میں نا قابلِ ذکر پیش رفت نہ ہو سکی ۔یہ جمود 1970ء تک طاری رہا۔جب1971ء میں ملک کا مشرقی حصہ الگ ہو کر بنگلہ دیش کی صورت میں دنیا کے نقشے پر ابھرا تو ساتھ ہی پاکستان میں بانس کا قحط پڑ گیا ۔منڈی میں قیمت یک لخت بڑھ گئی ضروریات پوری کرنے کے لئے مجبوراََ دستِ طمع دوسروں کے ہاں دراز کرنا پڑا ۔گویا ہماری بے توجہی اور بے نیازی نے نوشتہءدیوار مجبور کر دیا ۔سو کثیر زرمبادلہ کے تصرف سے بانس درآمد کرنے کا سلسلہ شروع ہوا جو بد قسمتی سے آج جاری ہے بنگلہ دیش کے قیام کے ساتھ ہی  © ©،،ضرورت ایجاد کی ماں ہے،، کے مصدق بانس کی پیداوار میں خود کفیل ہونے کے خیال نے جنم لیا جسے پورا کرنے کے لئے عوامی حلقے اور جنگلات حب الوطنی کے ساتھ رُوبہ عمل ہیں لہٰذا آج بھی پتوکی (ضلع قصور)سرگودھا،فیصل آباد،ساہیوال اور جھنگ کے اضلاع میں نجی سطح پر بانس کے چھوٹے چھوٹے ذخیرے اور پود گاہیں دیکھنے میں آتے ہیں۔
Dendro Calamus (کالا بانس)Bambusa Aurdinace D.Bambosides (ساوا بانس) اور نیم بانس کی اقسام اچھی ہیں یہ مضبوط اورقد آور ہیں اس کے علاوہ ڈنگوری ،لاٹھی بانس کی بھی کاشت کی جارہی ہے۔

استعمال :اپنی مخصوص گھانٹھوں کی وجہ سے کثیر استعمال رکھتا ہے،سر فرست زیبائشی استعمال،موسیقی کے آلات،پردے اور باغات کے لیے ستون ،کھونٹیاں،چوبییں وغیرہ بنانے کے لئے استعما ل کیا جاتا ہے، برتن ، باڑیں، گھر کی تعمیر، سہاروں، rafters، thatching ، چھت سازی، دستکاری ،فن کی اشیاء ، ٹوکری بنانے، دخش اور تیر ،
فر نیچر، سچل لکڑی، اور رافٹنگ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ خام مال کاغذ گودا پینل کی مصنوعات ، ٹہنیاں اور بیج کھانے کے کابل ہیں ۔ پتیاں چارہ اور دوا کے طور پر استعمال کی جاتی ہیں ۔


نباتاتی نام: ازادی رکتا انڈیکا Botanical Name:Azadirachta indica (L) A. Juss.



نباتاتی نام: ازادی رکتا انڈیکا Botanical Name:Azadirachta indica (L) A. Juss.
خاندان
©:میلی ایسی Family:Meliaceae
انگریزی نام:مارگوسا ٹری Margosa tree
دیسی نام: نیم۔نم،بال نیم، نمبا Neem,Nim, Bal Nim, Nimba
 مستعمل نام:۔ویپا Telgu:. Vepa نیمNeem Common:-
تعارف:۔یہ ایک میڈیم سے بڑے سائز کا درخت ہوتا ہے۔ 15 to 20 meterاونچائی ہوتی ہے۔ تنے کے اندر تقریبا
¿ سات میٹر تک صاف قسم کا بور اونچائی کے رُخ ہوتا ہے۔ اسکی گرے سے ڈارک رنگ کی لکڑی ہوتی ہے۔ اس کے ایک ہی ڈنڈی پر چھوٹے سے دونوں اطراف کے نیم جیسے ڈیزائن کے پتّے جو چمکدار سے سر سبز سے ہوتے ہیں۔ اس درخت کی دور سے ہی پہچان کراتے ہیں۔
ابتدائی مسکن(ارتقائ) : بھارت، برما، بنگلہ دیش، میں بڑھتی ہوئی سری لنکا، ملائیشیا اور پاکستان، ٹراپیکل اور سب ٹراپیکل خطے، ، نیپال، افغانستان، چین،سری لنکا اور پاکستان میں سندھ ، جنوبی پنجاب، بلوچستان اور زیریں، سرائے عالمگیر، مغرب جہلم دریا ۔ ۔اس نسل کا درخت عملی طور پر پورے انڈیا میں بارانی سے نم دار علاقوں میں اور خزاں پت جھڑ بردار جنگلوں میں ملتا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی اُگایا جاتا ہے۔


قسم:سال بہ سال پتے جھاڑنے والا سدا بہا ر
شکل:گول یا بیضوی تاج نما              قد: 15-20 میٹر           قطر:0.57 تا0.86 سینٹی میٹر
پتے: برعکس کونہ پتے۔ 20-40 سینٹی میٹر طویل (میں 7.9-15.7)  ۔ 3-8 سینٹی میٹر ( 1.2-3.1انچ ) طویل پتیاں ۔ پتے کی ڈنڈی مختصر ہیں. (سفید اور خوشبودار) پھول پھل elongate اور بیضوی ۔پتے: کمپاو
¿نڈ ہیں،پتیاں 2.5 تا 7 سینٹی میٹر لمبی ، 4 سے 7 جوڑوں پرہر پتی ، چھال، بال سفید ہو جانا سیاہ ہے
پتّے:۔پتّے کمپاو
¿نڈ قسم کے اور imparipinate ( ایک ہی ایکسز پر دونوں طرف ایک ایک کی قسم میں جوڑے کی شکل میںپتّے نہ ہوں۔یعنی اُن میں ایکoddہو۔) یہ پتّے چھوٹّے ہوتے ہیں۔
پھول:۔پھول کریم کلر یا پیلے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ہی ایکسل پرگروپ کی صورت لگتے ہیں۔جو کہ لمبائی کے رُخ کو ہوتا ہے۔ یہ خوشبو دار ہوتے ہیں۔      پھولوں کا رنگ:سفیدی مائل سبز                       پھول آنے کا وقت: اپریل۔مئی ۔پھول چھوٹے ہیں اور خوشبوشہد کی طرح ہے ،گھنے گچھے اور کے درمیان دکھائے جاتے ہیں
پھل : جون اور اگست میں پکتا ہے۔ . پھل ایک گودے دار ۔ ایک مشکل شیل میں منسلک ایک بیج مشتمل drupe. ہر ایک مانسل drupe1.5 لمبوترا، سبز ہے۔ پھل:۔پھل ایک سے دو سینٹی میٹر لمبا اور ایک بیج کا حامل لٹکاو
¿ سا ہوتا ہے ۔ جس پر لکڑی نما شے کا سخت کوَر ہوتا ہے۔پھل جون سے اگست کے دوران پک جاتے ہیں۔ اور اُن کا پیلے سا رنگ ہو جاتا ہے۔بیج بیضوی شکل کے ہوتے ہیں۔ جس کے تیل بردار٬ موٹا ٬مواد سے بھرا cotyledoneہوتا ہے۔
جگہ کا انتخاب: زمین: زمین کے لحاظ سے نیم کے برداشت خاصی ہے اور یہ ہر قسم کے زمین میں چاہے وہ خشک ،پتھریلی ،بھاری چکنی،کم گہری ،ہلکی تھور زدہ،کنکر اور روڈ والی ہی کیوں نہ ہو پرورش پا سکتا ہے۔۔یہ کئی اقسام کی مٹّی جس میں ریتلی٬ چکنی٬بلیک کاٹن سوائل وغیرہ کو شامل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر کئی اقسام کی مٹّی پر اُگ اور پرورش پا جاتا ہے۔ نیم کا درخت ہموار زمینوں پر٬سب سوائل واٹر لیول علاقوں٬اور اچھی ڈرین ہوئی زمینوں پر آسانی سے اُگ آتا ہے۔ یہ0 to 40 deg Cٹیمپر یچر تک برداشت کر لیتا ہے۔ اور1500میٹرسطح سمندر سے بلندیوںتک پنپ آتا ہے۔ یہ اُن علاقوں میں بھی صحیح پنپ آتا ہے۔ جہاں بارش کی شرح سالانہ اوسط 130 mmتک رہتی ہے۔ یہ کافی حد تک خشک سالی بھی برداشت کر لیتا ہے۔
موسمی ضروریات:
نیم کا درخت قدرتی طور پر پاکستان ،ہندوستان،سری لنکا،ملائیشیا،انڈونیشیا تھائی لینڈ اور برما کے خشک جنگلات میں پایا جاتا اور پاک و ہند کے علاوہ افریقہ کے خشک علاقوں میں بھی اسے وسیع پیمانے پر کاشت کیا گیا ہے۔نیم کے درخت کی ضروریات بہت محدودہیںاور کٹھن حالات میں بھی یہ خوب پھلتا ہے یہ 44 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں بھی نشو ونما پاتا ہے اور سخت گرمی برداشت کر سکتا ہے ۔اسے 1500-150 میٹر کی بلندی تک اگایا جا سکتا ہے قدرتی افزائش کے لئے اسے1150-150 ملی میٹر سالانہ بارش درکار ہے لیکن یہ صرف 130 ملی میٹر 5 انچ سالانہ بارش والے علاقوں میں بھی اگایا جا سکتا ہے اور طویل خشک موسم کو بھی یہ آسانی سے بر داشت کر سکتا ہے یہ ہر قسم کی زمین میں چاہے وہ خشک ،پتھریلی،بھاری ،چکنی ،کم گہری ،ہلکی تھور زدہ ،کنکر اور روڑ والی کیوں نہ ہو پھل پھول سکتا ہے ۔زیادہ نمی اور طغیانی کو بر داشت نہیں کرتا۔
ریگستان سے لے کر گیلے نمکین ماحول تک ہر قسم کی زمین پر کاشت کیا جا سکتا ہے ۔ 8.5 تک پی ایچ۔، چکنی ، نمکین اور الکلی والی مٹی۔ مٹی کی تقریبا تمام اقسام۔ گہری، اچھی طرح سوھا مٹی ، خشک، سٹونی، اتلی زمین ، کیلشیئم والی مٹی، خشک سالی کے خلاف مزاحمت کے لئے جانا جاتا ہے . ، ذیلی مرطوب حالات ذیلی بنجر علاقوں میں : کے ایک ابتدائی عمر میں کچھ سایہ بھی مستحکم ہے کہ ایک اعتدال روادار درخت. اس پر اگتا ہے نمکین نہیں ہیں یا سیلاب ہے جس میں کمی سائٹس پانی کی میز سے 18 میٹر اوپر ہے andwhere tonutrient امیر loams پر سے مختلف ہوتی ہیں، گرم اشنکٹبندیی اور ذیلی گرم مرطوب درجہ حرارت 45-1 ڈگری سینٹی گریڈکی حد ساتھ آب و ہوا. ایسا نہیں ہے اپنے قیام کو روکنے کے گا پالا ہارڈی اور گھاس مقابلہ
کاشت:بیج ۔ بڑی عمر کے بیج اکثر نہیں اگتے ۔ بیج ہر ممکن حد تک تازہ ہونا چاہئے. بیج زمین میں براہ راست بویا جا سکتا ہے. دو سے تین بیج ڈھیلا مٹی میں گہرائی 1 سینٹی میٹر رکھی جا ئے . بڑی تعداد جب میں لگاناہو تو ، سب سے پہلے برتن، ٹرے یا پلاسٹک کے گملوں میں کاشت کریں۔ 3 ماہ کے بعد ٹرانسپلانٹیشن منتقلی کی جائے ۔ .سیڈ کم ویوہاریتا ہے اور اچھی طرح سے کی دکان نہیں ہے. یہ جمع کرنا ضروری ہے یہ سمجھدار ہے اور ہر ممکن حد مجموعہ کے بعد جتنی جلدی لگائے۔ بیج , اور غیر جنسی طریقے دونوں سے،یہ آسانی سے جھاڑی بن جاتی ہے۔
افزائش نسل:
نیم کی افزائش بیج اور پودوں سے کی جا سکتی ہے پکا ہوابیج جولائی،اگست میں درختوں سے اکٹھا کرنے کے بعدکاشت کر دیا جاتا ہے ۔نیم کے ننھے پودے کو سال ہلکے سائے کی فراہمی فائدہ پہنچاتی ہے نر سری اگانے کے کئے نیم کا تازہ بیج،گملوں یا پولی تھیں کی تھلیوں میں لگالیں نیم کے درخت انتہائی خشک علاقوں میں مختصر وقفہ کے کئے پتے گرا دیتا ہے وگرنہ یہ ہمیشہ سر سبز رہتا ہے اس کا پھل جون سے اگست کے مہنیوں میں پھل پکتا ہے اور پکا ہوا پھل سبزی مائل زرد رنگ کا 0.5 انچ سے0.7 انچ لمبا ہوتا ہے اس میں عموماََ ایک بیج ہوتا ہے ۔نیم کا بیج اپنی حیاتیاتی اہلیت یا قوت نمو صرف 3-2 ہفتے تک قائم رکھ سکتا ہے۔
بیج کا حصول:
موسم بہار کے آخر میں نیم کے پرانے پتے جھڑے کے ساتھ ساتھ نئے پتے نکلنے لگتے ہیں اور مارچ ،اپریل کے مہینے تک تمام نئے پتے آجاتے ہیں،سفید رنگت کے چھوٹے چھوٹے پھول مارچ سے لے کر مئی کے مہینے تک نمودار ہوتے رہتے ہیں جن میں شہد کی خوشبو آتی ہے اس کے بعد نیم کا پھل جون سے اگست تک پکتا ہے جو گچھوں کی صورت میں ہوتا ہے ہر پھل میں ایک بیج ہوتا ہے چونکہ نیم کا بیج اپنی روئیدگی کی اہلیت زیادہ دیر تک قائم نہیں رکھ سکتا اس لئے اسے کامیابی سے اگانے کے لئے اس کا پکا ہوا بیج درخت سے توڑنے کے بعد فوراََبعد نرسری میں اگانا چاہیے۔
نرسری کی تیاریاں:
آم اور فالسے کی طرح نیم کا بیج بھی تازہ لگایا جاتا ہے چونکہ یہ سدا بہار درخت ہے اور عموماََ گاچی کے سمیت ہی لگایا جاتا ہے ،لہذا اس کی نرسری پولی تھین کے لفافوں یا مٹی کے گملوں میں لگائی جا سکتی ہے لفافوں کو پتوںکی ملی کھاد مٹی اور ریت سے بھر لیا جاتا ہے ہر لفافے مین ایک بیج رکھ کربیج کی موٹائی جتنی مٹی ڈال دی جاتی ہے اور اس کے فوراََبعد فوارے سے پانی دے دیا جاتا ہے ۔نیم کا بیج تقریباََ ایک ہفتہ بعد اگنا شروع ہو جاتا ہے اور یہ عمل تقریباََ 28 دن میں مکمل ہو جاتا ہے خیال رہے کہ اگائی کے بعد غیر ضروری جڑی بوٹیاں لفافے میں سے صاف رکھی جائیں ورنہ پودے مر جانے کا خطرہ ہوتا ہے ان ننھے پودوں کو کہر سے بچانے کا خیال ضرور رکھنا چاہیے کیونکہ کہر میں ننھے پودے مر جاتے ہیں اس لئے پودوں کو ڈھانپنے کے علاوہ سردیوں میں آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا خیال رکھنا بھی نہایت ضروری ہے کہ چھوٹے پودوں کو دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ اس وقت ممکن ہے کہ ساتھ اٹھنے والی جڑی بوٹی کو تلف کر دیا جائے ایس اکرنے سے پودوں کو لفافوں میں موجود
مٹی سے خوراک بھی حاصل ہوتی ہے
 یہ بیجوں کے ذریعے اُگایا جا سکتا ہے۔
بیج کے ذریعے افزائش:۔پھل جب پک جاتے توڑ لیے جاتے ہیں۔ یا پھر درخت کے نیچے فرش سے اکٹھے کر لیے جاتے ہیں۔ مکمل کچل مسل کر پلپ کو نکال دیتے ہیں۔بیجوں کو سایہ دار جگہ پر خشک کیا جاتا ہے، مکمل خشک ہونے پر ائیر ٹائٹ کنٹینروں میں سنبھال کر رکھ لیتے ہیں۔ ان بیجوں کی افزائش کے لیے عمر بہت تھوڑی یعنی 2 ہفتے تک ہوتی ہے۔ افزائش کے عمل کو آسان کرنے کے لیے بیجوں کو 24 hrs کے لیے پانی میںبگھو کر رکھتے ہیں۔ اور چھلکا اُتا رلیتے ہیں۔اس مقصد کے لیے تیز چاقو کا استعمال درست رہتا ہے۔ گھٹلی سمیت بھی بیج کو لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن افزائش کم رہتی ہے۔ بیج کو نرسری میں کیاریوں میں لگایا جاتا ہے۔ کیاریوں میں دریائی ریتلی مٹّی ڈال دی جاتی ہے۔ 15 to
20Cmتک ڈالی گئی مٹّی والی کیاری میںبیج2.5 to 5cm دور دور بوئے جاتے ہیں۔ بیج کو ایک سے دو سینٹی میٹر گہرا بونا چاہیے۔ اور اُس پر نرم گیلی مٹی سے ڈھانک دینا چاہیے۔کیاری کو نم آلود رہنا چاہیے۔ یعنی پانی دینے ساتھ ہی گوڈی کر دی جائے۔ لیکن کم پانی دیا جائے۔تاکہ جگہ کرونڈی نہ جائے۔70 to 90 % بیج افزائش کرکے نکل آتے ہیں۔
پودے کی شجر کاری اور ما بعد احتیاطیں:۔ 7 to 10 cmاونچائی کے پودے جس کی 15 cm لمبائی تک جڑ بن چکی ہوتی ہے۔ ان کو پولی تھین کے لفافوںمیں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ فیلڈ میں ان پودوں کو ایک سے دو سال بعد لگایا جاتا ہے۔ اور4.5 to 5.5 meterفاصلہ رکھا جانا چاہیے۔ پہلے5 to 6 years میں موسم گرما میں ایک دفعہ پانی دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے یہ خود بخود درخت بنتے جاتے ہیں۔
پودے لگانے کا طریقہ:
نیم کا پودا لگانے کے تین طریقے ہیں ایک تو نرسری میں تیار کئے گئے پودوں سے زمین میں گڑھا کھود کر لفافے کا پیندہ کاٹ اور پھر اس گڑھے میں لفافہ رکھ کر اردگرد مٹی گڑھے میں ڈال کر پاو
¿ں سے اچھی طرح دبا دی جاتی ہے۔جس کے فوراََ بعد پانی دے دیا جاتا ہے دوسرا طریقہ قلم سے ہے ایک سال کے پودے سے جڑ کا 6 انچ حصہ اور تنے کا 3 انچ حصہ لے کر قلم بنا لی جاتی ہے جو براہ راست گیلی زمین میں لگا دی جاتی ہے قلم لگانے سے پہلے لوہے کی سلاخ یا انگلی جتنی موٹی لکڑی سے زمین میں سوراخ کر لیا جاتا ہے اور پھر اس میں قلم لگا دی جاتی ہے۔تیسرا طریقہ ہل چلا کر پانی دینے کے بعد وتر کی صورت میں بیج کی براہ راست بیجائی کر دی جاتی ہے اور اس کے بعد زمین کو ایک ہفتہ تک نم رکھا جاتا ہے جب تک بیج کی اگائی پوری نہ ہوجائے۔
پودوں کی افزائش:
پہلے سال کی بڑھت ذرا سست ہوتی ہے مگر آئندہ سالوں میں مقابلتاََ زیادہ ہوتی ہے اس کی افزائش کے لئے جڑی بوٹیوں کی تلفی ضروری ہے یہ بات اس مشاہدے میں آئی ہے کہ نیم کا پودا تیسرے سال تقریباََ 5 فٹ کا ہو جاتا ہے نیم کا درخت اگر کاٹ لیا جائے اور زمین سے مڈھی نہ اکھاڑی جائے تو پھر سے شاخیں نکل آتی ہیں ان شاخوں میں سے سیدھی اور بہتر شاخ رکھ کر باقی کاٹ دی جائیں تو اس شاخ سے دوبارہ درخت تیار ہو جاتا ہے اس کے علاوہ اگر جڑیں زخمی کر دی جائیں تو وہاں سے بھی نیا پودا تیار کیا جا سکتا ہے۔
 نمایاں خصوصیات:نیم کے پیڑ صوبہ سندھ کے سرکاری درخت ہے اور سندھ کے تمام شہروں میں بہت عام ہے، صوبہ سندھ بھر میں اس درخت لگانے کے لئے منصوبے جاری ہیں. . اس کا پھل اور بیج نیم کے تیل کے ذریعہ ہیں. بڑھوتری قدرے سست ۔ درخت مٹی کی زرخیزی بڑھاتا ہے ۔ اور اپنی خاص خوبی کی وجہ سے تیزابی مٹی کو نیوٹرل مٹی میں بدل دیتا ہے ۔ پانی برقرار رکھنے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے. ہلکی زمین یہ خاص طور پر ان لوگوں میں ایک فارم جنگلات درخت کے طور پر صلاحیت رکھتا ہے
شاخ تراشی:
بیماریاں: چند کیڑے بیماری کا مسائل ہیں
آبپاشی:
پاکستان میں گرم علاقوں میں چونکہ بارش اوسطََ خاصی کم ہے اس لئے آبپاشی کی ضرورت پڑتی ہے ۔البتہ ان جگہوںپر جہاں زیرزمین پانی کی سطح قدرے بلند ہو آبپاشی کی ضرورت صرف چھوٹے پودوں کو ہی رہتی ہیں اس کے علاوہ نیم کے درخت برسات سے پہلے کا گرم و خشک موسم بغیر نقصان اٹھائے برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پیداوار :آہستہ بڑھوتری ، اوسط MAI 8.5 کیو بک میٹر فی ہیکٹر سالانہ
لکڑی کی خصوصیات:
دانہ : غیر متوازی ،کسی حد تک موٹا
رنگ : گیلی سفید ، سفید بھورا،سخت
کثا فت: sg 0.68 ۔ کلوریز کی مقدار 4990کلوریز فی کلو گرام
مظبوطی : بھاری،سخت،لچکدار۔
نیم کی بڑھت اور استعمال:
فرنیچر، چارے، لکڑی چھید کر اشیاءبنانے ، دواو
¿ں(ایک جور ہٹانےوالا کے طور پر چھوڑ دیتا ہے ایک ٹائیفائیڈ کے علاج)، لکڑی، زراعت آلات اور کے طور ارکٹنین. (بیج سے) تیل ایک کیٹناشک، کیڑے مار، طور پر مارکیٹنگ، اور ہے ۔ نیم کے پتے چاول ذخیرہ کرنے ،کیڑوں کی روک تھام کرنے۔ الماری میں رکھے جاتے ہیں. مچھروں کو دور رکھنے کے لئے ۔ نرم ٹہنیاں اور پھول سبزی کے طور پر ۔ بھوک بڑھانے کے طور پر۔ ترکاریاں۔ پروٹین کا ایک ذریعہ ہے۔ درخت سے بنی مصنوعات ، دوائیں دو صدیوں سے استعمال کی گئی ہےں ۔. کرم کش ، اینٹی فنگل، زیانطس کے علاج، بیکٹریا کش ، اینٹی وائرل، جلد کے امراض ۔ کے لئے مشروع ہے. نیم کا تیل ، جگر کے بہتر خون بنانے ۔ زہریلے مادوں، اور خون میں شکر کی سطح کو متوازن کرنے کے لئے، صحت مند بالوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ طویل مدتی استعمال گردوں یا جگر کو نقصان پہنچا سکتا ہے اسقاط حمل ہو سکتا، بانجھ پن، اور کم بلڈ شوگر سبب بن سکتا ہے۔ نیم مصنوعی ادویات کے ایک قدرتی متبادل کے ظور پر ، غیر پیسٹی سائیڈل کیڑے مار مینجمنٹ (NPM) میں ایک اہم جزو ہے. نیم کے بیج پانی میں رات بھگو کر فصل پر اسپرے کیا جاتا ہے . . نیم کیک اکثر ایک کھاد کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے.نیم تیل ، ماحول دوست اور اقتصادی ایجنٹ کے طور پر دیمک کے حملے سے بچنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے.
 صابن، شیمپو، بالم اور کریم کے ، ٹوتھ پیسٹ ، کاسمیٹکس ۔ مسواک مسوڑھوں کی سوزش کو کم کرنے۔ کار آمد گوند۔
نیم کا درخت خشک خطہ درختوں میں سے ایک بہت کار آمد درخت ہے اس سدا بہار درخت کی چھتر گول،گھنا اور جڑیں لمبی ہوتی ہیں اسکی لکڑی قدرتی طو ر پر دیمک اور گھن سے محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس کی لکڑی ،چھلکا ،گوند ،پتے ،پھول اور بیج الغرض ہر حصہ نہایت ہی کار آمد ہے فصلوں رہائشی علاقوں کے نقصان دہ کیڑوں کو کنٹرول کرنے کے لئے کیمیائی دواو
¿ں کا استعمال اپنے ماحولیاتی نقائص کے باعث نا پسند یدہ ہے اور کئی ممالک میں ترک کیا جا چکا ہے اور کیڑوں پر قابو پانے کے لئے پودوں کے قدرتی اجزاءسے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے ان پودوں میں نیم نہایت اہم ہے۔
یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ بہتر زمین پر جہاں آبپاشی بھی مناسب ہو 15 سال کی عمر میں نیم کا درخت تقریباََ4 فٹ لپیٹ کا ہو جاتا ہے نیم کی لکڑی گھن اور اس قسم کے کیڑوںکے حملوں کی بھرپور مدافعت کی صلاحیت رکھتی ہے یہ تعمیر ات کے کاموں اور فرنیچر تیار کرنے کے لئے بھی استعمال میں لائی جاتی ہے لکڑی اچھی اقسم کا بالن اور کوئلہ بنانے کے کام آتی ہے۔
نیم کے بیج میں تیل کی شرح کا تناسب 40% ہے جو جلانے اور مشینوں کو چکنار رکھنے میں استعمال ہو سکتا ہے تیل نکالنے کے بعد بچنے والی نیم کھل بہترین کھاد تصور کی جاتی ہے اس کا تیل صابن اور جراثیم کش ادویات بنانے کی صنعت کا ایک بہت اور اہم عنصر ہے اسکے بیجوں اور پتوں سے ایک خاص قسم کا کیمیائی مرکب حاصل ہوتا ہے جو کیڑوں اور مچھروں وغیرہ کو دور رکھتا ہے ۔ اسکے پتوں کے اور بھی طبی فوائد ہیں ۔
موجودہ دور میں نیم کے درخت کو اور بھی اہمیت حاصل ہو گئی ہے کیونکہ اس سے کئی قسم کی کرم کش ادویات بنائی جا رہی ہیں ۔ بیج سے تیل نکالا جاتا ہے جو بیکٹریا ، جرثومے ، اور کیڑے مکوڑوں کو مارنے میں استعمال ہوتا ہے ۔ غرضیکہ نیم کے پتے، چھال، پھول، پھل، شاخیں اور لکڑی سبھی کارآمد ہیں ۔
لکڑی کا اوسط وزن 680 گرام فی کیوبک سینٹی میٹر اور حرارت پیدا کرنے کی صلاحیت 4990 کلو کیلری فی کلو گرام ہے ۔
۔اس کی چھال اور پتّے جلدی بیماریوں کے لیے شفاءبخش ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں اس کی چھال پھلبہری ٬ ملیریا اورباری کابخار٬اندورنی و بیرونی زخم٬معدے کے السر٬رسولی٬قے آنا٬انتڑی کے کیڑے٬اندرونی سینے وغیرہ کی جلن٬کھانسی اور برونکائیٹس کی بیماریوں کی ادویات کے لیے مفید ہوتی ہے۔
اس کے پھول بھی اندرونی سینے و معدے کی وغیرہ کی جلن٬قولنج٬بد ہضمی ٬انتڑی کے زخم اور جنرل معذوری وغیرہ کی ادویاتشکایات کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔اس کے بیج رسولیوں٬جذامکوڑھ٬جلدی امراض٬انتڑیوں کے زخم٬معدے کے السر٬قبض٬قبل از پیدائش بیماریاں اور ذیا بطیس جیسی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ بیجوں سے ایک تیل اخذ کیا جاتا ہے۔ جو کہ ٬جلدی عوارض٬انتڑی اور پیٹ کے رنگ نماءکیڑے٬کھجلیخارش٬مزمّن ملیریا بخاراور جذام کے عوارض کے لیے مفید ہوتا ہے۔

Botanical Name: Avicennia marina (forssk.) Vierh. نباتاتی نام :ایوسنیا مارینا ویرھ


Botanical Name: Avicennia marina (forssk.) Vierh.  نباتاتی نام :ایوسنیا مارینا ویرھ
خاندان: اویسینیسی Avicennaceae
انگریزی نام: 
دیسی نام:ٹی ور،ٹائمر Tivar, Timar.
ابتدائی مسکن(ارتقائ):پاکستان، بھارت ، بحیرہ عرب کے ساحل ،کراچی سے سندھ مکران ساحل اور سمندری کھائیاں ساتھ بلوچستان میں ساحلپر پایا جاتا ہے۔



قسم: سدا بہا ،
 شکل:چھوٹاجھاڑی نما                        قد: 1 تا 3 میٹر   پھیلاﺅ :      تنے کاقطر: 25 تا 30 سینٹی میٹر
پتے:سادہ ہیں ،3 تا 8 سینٹی میٹر لمبے ، 1.5 تا 3.5 سینٹی میٹر چوڑے ۔اس میں نیومیٹوفورز ہوتے ہیں جو بڑھے ہوئے اعضاءہیںجو گھٹنوں کی طرح ہوتے ہیں اور مرکزی تنے کو سہارا دیتے ہیں
 پھولوں کا رنگ: پیلے            پھول آنے کا وقت: فروری اور جون۔آپس میں بہت قریب قریب ہوتے ہیں گچھا نما ۔خوشبودار

پھل : پھل 12 تا 18 ملی میٹر لمبا،اور 10 تا 12 ملی میٹر چوڑاہوتا ہے۔مئی اور جولائی میں پکتا ہے عام طور پر پھل میں ایک ہی بیج ہوتا ہے
کاشت: بذریعہ بیج ، دونوںبیجوں سے اور پودوں کی طرف سےکا مطلب ہے کہ. سیڈ کم ویوہاریتا ہے.: یہ پیش کیا جا سکتا ہے
جگہ کا انتخاب: ایک غیرروادار درخت ہے جسے مکمل سورج کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے ۔یہ دلدلی نمکین، ساحلی مٹی پر اگتا ہے۔ یہ درخت کی وجہ سے اس کے لئے ضروری ایندھن کی خصوصیات کی کھیتی میں رہا ہے. یہ ساحلی جنگلات کا ایک قابل قدر رکن ہے اور محفوظ کیا جانا چاہئے. مصنوعی تخلیق نو پاکستان میں درخت کے تحفظ کے لئے ضروری ہو سکتی ہے ۔بارش کی حد125 ملی میٹر سالانہ۔ درجہ حرارت5تا40ڈگری سینٹی گریڈ
نمایاں خصوصیات:          
شاخ تراشی:
بیماریاں:معلوم نہیں
کاشت:بیج , اور غیر جنسی طریقے دونوں سے،یہ آسانی سے جھاڑی بن جاتی ہے۔
پیداوار: آہستہ بڑھوتری ، اوسط MAI     7.8m کیو بک میٹر فی ہیکٹر سالانہ ،قطر30cm
لکڑی کی خصوصیات :
دانہ : متبادل تہی،برداشت کرنا،نافت
رنگ: براﺅن،سبز
کثا فت: بھاری
مظبوطی :سخت ٹوٹ جانے والا

استعمال ©:چارہ ،ایندھن او ر ٹینن tannin۔

نباتاتی نام:اوورہیا کیرمبولا Botanical name: Averrhoa carambola


نباتاتی نام:اوورہیا کیرمبولا Botanical name: Averrhoa carambola 
خاندان: آکسیلیڈیسی Family: Oxalidaceae
انگریزی نام: سٹار پھل Star fruit
دیسی نام: ستارہ پھل
ابتدائی مسکن(ارتقائ):ایشیا
قسم:سال بہ سال پتے جھاڑنے والا
شکل:گول تاج نما                            قد:میٹر      
پتے:


 پھولوں کا رنگ:                              پھول آنے کا وقت: مارچ
کاشت:بیج
جگہ کا انتخاب: ریتلی ، بھاری مٹی یا چونے کے پتھر والی مٹی پر اگاےا جا سکتاہے، لیکن تیزی سے بڑھنے کے لیے اچھی میرا loam مٹی ۔ زیادہ بھاری مٹی کو بھی برداشت کرسکتا ہے۔ اچھی نکاسی کی ضرورت ہے، سیلاب برداشت نہیں کر سکتے. درخت کو مکمل سورج کی ضرورت ہے
کاشت:تھائی لینڈ، اسرائیل، فلوریڈا، برازیل، فلپائن، چین، آسٹریلیا، انڈونیشیا اور بھارت اور ایک ہی آب و ہوا کے ساتھ دنیا کے دیگر گرم علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔ایک تجارتی فصل بن گیا ہے. پھول کی کراس پولینیشن اچھا پھل پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے، پودے بیج سے اگنے کے بعد تقریبا ایک سال میں پھول اور پھل پیدا کر سکتے ہیں. بڑے پودے موزوں ماحول اور حالات کے علاقوں میں سال بھر پھل پیدا کر سکتے ہیں ۔ د رخت اشنکٹبندیی tropical اور ذیلی اشنکٹبندیی sub-tropical قرار دیا جا سکتا ہے ۔
بیج کی نتیجہ خیزی صرف چند دن تک رہتی ہے اگرچہ وسیع پیمانے پر بیج سے کاشت کیا جاتا ہے ۔موسم گرما میں ایک ہفتے میں اگے گا ، موسم سرما میں 14 سے 18 دن کی ضرورت ہوتی ہے۔پنیری بہت نازک ہوتی ہے اور اچھی دیکھ بھال کی ضرورت ہے.بذریعہ گٹھی ایئر
layeringیا انارچنگ کا طریقہ بھی کامیاب ہے. درختوں کی چھال کی گرافٹنگ ، وینیر گرافٹنگ ،
، سب سے زیادہ کارکنوں کے لئے سب سے بہتر نتائج دیتا ہے. روٹسٹاک کی کم از کم 1 سال کی عمر ہو ، اور 3/8 تا5/7 انچ (1-1.5 سینٹی میٹر) موٹی ہونی چاہئے۔ . 20 فٹ (6 میٹر) کا فاصلہ ، 6-6-6-3 کے تناسب میں (ن)، پی، کے، مگنیشیمآدھا کلو فی سا ل تین سے 4 مرتبہ ۔
نمایاں خصوصیات: پھل ذائقہ، ساخت، اور شکل کے اعتبار سے مختلف حالتوں میں ُٰٓٓپایا جاتا ہے، کچھ اقسام بہت ترش اور کچھ کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔ درخت درمیانی تیز رفتار سے بڑھتا ہے۔ ذائقہ کی حدود کے ساتھ ہلکا sweetish اور سیب، اناناس، اور کیوی پھل کا ایک مرکب کی طرح کچھ کا ذائقہ. سلائس کو crosssection میں کاٹنے سے ایک ستارہ کی شکل بنتی ہے.
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:
 پھل میں 90 فی صد پانی ہے اور پھل سلاد، tarts، محفوظ، اور مشروبات میں استعمال کیا جاتا ہے. کل شکر 7 فی صد ، تقریبا نصف گلوکوز اور نصف sucrose ہیں. اچار، jellis، اور سالن لئے استعمال ۔ صحت کے فوائد ، ضروری وٹامن کی ایک شاندار فہرست ، غذائی ریشہ ، فائبر گٹ میں غذائی ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی مقدار کے جذب کرنے کو روکنے میں مدد . بڑی آنت میں چپچپا کی جھلی کی حفاظت میں مدد.
 سٹا وٹامن سی ایک طاقتور قدرتی ینٹیآکسیڈینٹ ہے. متعدی ایجنٹوں کے خلاف مزاحمت ، . اہم flavonoids ، quercetin، epicatechin، اور gallic ایسڈ ہیں. ، ربوفلیون، اور pyridoxine (وٹامن B-6) ، معدنیات اور پوٹاشیم، فاسفورس، اور زنک اور لوہے کی طرح الیکٹرولائٹس . پوٹاشیم ۔ دل کی شرح اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد . اس طرح سوڈیم کے برے اثرات کا مقابلہ

نباتاتی نام :ارٹو کارپس لکوچا Botanical Name: Artocarpus lakoocha


نباتاتی نام :ارٹو کارپس لکوچا Botanical Name: Artocarpus lakoocha
خاندان ©: موریسی Family:Moraceae 
انگریزی نام: منکی جیک، اندین ویگن monkey jack, cempedak, the indian vegan
دیسی نام:دھیو، بڑھل Dhew/Dheu, Barhal
ابتدائی مسکن(ارتقائ): جنوب مشرقی ایشیا India, southeast Asia بھارت
قسم:سال بہ سال پتے جھاڑنے والا
شکل:                          قد:15-20میٹر


پھولوں کا رنگ:نارنجی پیلا                    پھول آنے کا وقت: مارچ۔اپریل
کاشت:بیج 10انچ یا 7 انچ کے گملوں میں بوائی کریں۔ میرا مٹی میں 20-25 فیصد کمپوسٹ کھادسے مرکب تیار کر کے گملوں کی بھرائی کا عمل مکمل کریں۔ گملے کے مطابق دو بیج فی گملہ براہ راست بویا جا سکتا ہے؛ اگر فی گملہ زیا دہ بیج اگا لیے جائیں تو فی پودا چھانٹ کر الگ کر لیں اور دوسرے گملوں میں منتقل کر لیں۔ بیج کو 3 ملی میٹر مٹی کی یا ایک mulch کی تہ کے ساتھ ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ . ایک متبادل طریقہ اونچی کیاری میں 1 کلو فی مربع میٹر کی شرح سے بیج بونا ہے۔ 3-4 ہفتوں کے بعدجب پنیری 5 سینٹی میٹر لمبی ہو جائے تو منتقلی کر دیں۔ بیج کی زندہ رہنے کی عمر مختصر ہے۔ صرف مون سون کے آغاز سے قبل بوائی کی جائے . یہ پنیری اگلے مون سون تک 20-25 سینٹی میٹر یا اس سے زیادہ لمبی ہو جا نی چاہئے ۔بوائی کے دو یا تین ہفتوں کے بعد اگاﺅ شروع ہو جاتا ہے۔
 پھل: زیادہ تر علاقوں میں جون کے آخر میں اور اگست کے آغاز تک پکتا ہے۔ ایک درخت پر قریباََ 80 کلوگرام پھل لگتا ہے جس سے 6000 بیج برآمد ہوتے ہیں۔ بیج چند دنوں کے اندر اندر اس کی بار آوری کو کھو دیتے ہیں۔ یہ دو دن سے زیادہ جمع نہیں کیا جانا چاہئے۔ جمع کرنے کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو بویا جائے ، اور اگر یہ ایک یا دو دن نہیں بویا جا سکا تو یہ پھل میں رکھا جانا چاہئے ۔ 1 کلو سے 1900 - 5000 بیج حاصل ہوتے ہیں۔ ہر پھل میں 10-30 بیج موجود ہوتے ہیں.
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:          
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©: پھل آ ور ، فرنیچر، لکڑی، اور فیڈ بطور خوراک۔ ایک قیمتی اشنکٹبندیی درخت . پھل عام طور پر تازہ کھا یا جاتا ہے . خوردنی پھل۔ گودا جگر کے لئے ایک ٹانک کے طور پر کام کرتا ہے۔ . خام پھل او ر پھول کے نر حصے سپائک (تیزابیت اور کسیلی) اچار اور چٹنی (چٹنی) میں استعمال کیے جاتے ہےں۔ لکڑی قابل قدر ہے، مشہور ساگون کی لکڑی کے مقابلے کی ہے. پائیدار باہر کے ماحول کے ساتھ ساتھ پانی کی تہ میں بھی کام آتی ہے۔ جو ، تعمیر، فرنیچر، کشتی سازی، اور الماریاں بنانے کے کام کے لئے استعمال کی جاتی ہے.
درخت کی چھال 8.5 فی صد ٹنین پر مشتمل ۔ سپاری طرح چبائی جاتی ہے۔ جلد کی بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ دھاگہ کے لئے ایک پائیدار فا ئبر کی اچھی پیداوار. لکڑی اور جڑوں سے ایک شاندار رنگ بنایا جاتا ہے۔
 پھل کے علاوہ پودے کے مختلف اعضاء میں haemagglutination سرگرمی کا مظاہرہ دیکھا گیا ہے ۔