Sunday, 17 May 2015

نباتاتی نام: ازادی رکتا انڈیکا Botanical Name:Azadirachta indica (L) A. Juss.



نباتاتی نام: ازادی رکتا انڈیکا Botanical Name:Azadirachta indica (L) A. Juss.
خاندان
©:میلی ایسی Family:Meliaceae
انگریزی نام:مارگوسا ٹری Margosa tree
دیسی نام: نیم۔نم،بال نیم، نمبا Neem,Nim, Bal Nim, Nimba
 مستعمل نام:۔ویپا Telgu:. Vepa نیمNeem Common:-
تعارف:۔یہ ایک میڈیم سے بڑے سائز کا درخت ہوتا ہے۔ 15 to 20 meterاونچائی ہوتی ہے۔ تنے کے اندر تقریبا
¿ سات میٹر تک صاف قسم کا بور اونچائی کے رُخ ہوتا ہے۔ اسکی گرے سے ڈارک رنگ کی لکڑی ہوتی ہے۔ اس کے ایک ہی ڈنڈی پر چھوٹے سے دونوں اطراف کے نیم جیسے ڈیزائن کے پتّے جو چمکدار سے سر سبز سے ہوتے ہیں۔ اس درخت کی دور سے ہی پہچان کراتے ہیں۔
ابتدائی مسکن(ارتقائ) : بھارت، برما، بنگلہ دیش، میں بڑھتی ہوئی سری لنکا، ملائیشیا اور پاکستان، ٹراپیکل اور سب ٹراپیکل خطے، ، نیپال، افغانستان، چین،سری لنکا اور پاکستان میں سندھ ، جنوبی پنجاب، بلوچستان اور زیریں، سرائے عالمگیر، مغرب جہلم دریا ۔ ۔اس نسل کا درخت عملی طور پر پورے انڈیا میں بارانی سے نم دار علاقوں میں اور خزاں پت جھڑ بردار جنگلوں میں ملتا ہے۔ اس کے علاوہ ملک کے دیگر علاقوں میں بھی اُگایا جاتا ہے۔


قسم:سال بہ سال پتے جھاڑنے والا سدا بہا ر
شکل:گول یا بیضوی تاج نما              قد: 15-20 میٹر           قطر:0.57 تا0.86 سینٹی میٹر
پتے: برعکس کونہ پتے۔ 20-40 سینٹی میٹر طویل (میں 7.9-15.7)  ۔ 3-8 سینٹی میٹر ( 1.2-3.1انچ ) طویل پتیاں ۔ پتے کی ڈنڈی مختصر ہیں. (سفید اور خوشبودار) پھول پھل elongate اور بیضوی ۔پتے: کمپاو
¿نڈ ہیں،پتیاں 2.5 تا 7 سینٹی میٹر لمبی ، 4 سے 7 جوڑوں پرہر پتی ، چھال، بال سفید ہو جانا سیاہ ہے
پتّے:۔پتّے کمپاو
¿نڈ قسم کے اور imparipinate ( ایک ہی ایکسز پر دونوں طرف ایک ایک کی قسم میں جوڑے کی شکل میںپتّے نہ ہوں۔یعنی اُن میں ایکoddہو۔) یہ پتّے چھوٹّے ہوتے ہیں۔
پھول:۔پھول کریم کلر یا پیلے ہوتے ہیں۔ یہ ایک ہی ایکسل پرگروپ کی صورت لگتے ہیں۔جو کہ لمبائی کے رُخ کو ہوتا ہے۔ یہ خوشبو دار ہوتے ہیں۔      پھولوں کا رنگ:سفیدی مائل سبز                       پھول آنے کا وقت: اپریل۔مئی ۔پھول چھوٹے ہیں اور خوشبوشہد کی طرح ہے ،گھنے گچھے اور کے درمیان دکھائے جاتے ہیں
پھل : جون اور اگست میں پکتا ہے۔ . پھل ایک گودے دار ۔ ایک مشکل شیل میں منسلک ایک بیج مشتمل drupe. ہر ایک مانسل drupe1.5 لمبوترا، سبز ہے۔ پھل:۔پھل ایک سے دو سینٹی میٹر لمبا اور ایک بیج کا حامل لٹکاو
¿ سا ہوتا ہے ۔ جس پر لکڑی نما شے کا سخت کوَر ہوتا ہے۔پھل جون سے اگست کے دوران پک جاتے ہیں۔ اور اُن کا پیلے سا رنگ ہو جاتا ہے۔بیج بیضوی شکل کے ہوتے ہیں۔ جس کے تیل بردار٬ موٹا ٬مواد سے بھرا cotyledoneہوتا ہے۔
جگہ کا انتخاب: زمین: زمین کے لحاظ سے نیم کے برداشت خاصی ہے اور یہ ہر قسم کے زمین میں چاہے وہ خشک ،پتھریلی ،بھاری چکنی،کم گہری ،ہلکی تھور زدہ،کنکر اور روڈ والی ہی کیوں نہ ہو پرورش پا سکتا ہے۔۔یہ کئی اقسام کی مٹّی جس میں ریتلی٬ چکنی٬بلیک کاٹن سوائل وغیرہ کو شامل کر سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر کئی اقسام کی مٹّی پر اُگ اور پرورش پا جاتا ہے۔ نیم کا درخت ہموار زمینوں پر٬سب سوائل واٹر لیول علاقوں٬اور اچھی ڈرین ہوئی زمینوں پر آسانی سے اُگ آتا ہے۔ یہ0 to 40 deg Cٹیمپر یچر تک برداشت کر لیتا ہے۔ اور1500میٹرسطح سمندر سے بلندیوںتک پنپ آتا ہے۔ یہ اُن علاقوں میں بھی صحیح پنپ آتا ہے۔ جہاں بارش کی شرح سالانہ اوسط 130 mmتک رہتی ہے۔ یہ کافی حد تک خشک سالی بھی برداشت کر لیتا ہے۔
موسمی ضروریات:
نیم کا درخت قدرتی طور پر پاکستان ،ہندوستان،سری لنکا،ملائیشیا،انڈونیشیا تھائی لینڈ اور برما کے خشک جنگلات میں پایا جاتا اور پاک و ہند کے علاوہ افریقہ کے خشک علاقوں میں بھی اسے وسیع پیمانے پر کاشت کیا گیا ہے۔نیم کے درخت کی ضروریات بہت محدودہیںاور کٹھن حالات میں بھی یہ خوب پھلتا ہے یہ 44 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں بھی نشو ونما پاتا ہے اور سخت گرمی برداشت کر سکتا ہے ۔اسے 1500-150 میٹر کی بلندی تک اگایا جا سکتا ہے قدرتی افزائش کے لئے اسے1150-150 ملی میٹر سالانہ بارش درکار ہے لیکن یہ صرف 130 ملی میٹر 5 انچ سالانہ بارش والے علاقوں میں بھی اگایا جا سکتا ہے اور طویل خشک موسم کو بھی یہ آسانی سے بر داشت کر سکتا ہے یہ ہر قسم کی زمین میں چاہے وہ خشک ،پتھریلی،بھاری ،چکنی ،کم گہری ،ہلکی تھور زدہ ،کنکر اور روڑ والی کیوں نہ ہو پھل پھول سکتا ہے ۔زیادہ نمی اور طغیانی کو بر داشت نہیں کرتا۔
ریگستان سے لے کر گیلے نمکین ماحول تک ہر قسم کی زمین پر کاشت کیا جا سکتا ہے ۔ 8.5 تک پی ایچ۔، چکنی ، نمکین اور الکلی والی مٹی۔ مٹی کی تقریبا تمام اقسام۔ گہری، اچھی طرح سوھا مٹی ، خشک، سٹونی، اتلی زمین ، کیلشیئم والی مٹی، خشک سالی کے خلاف مزاحمت کے لئے جانا جاتا ہے . ، ذیلی مرطوب حالات ذیلی بنجر علاقوں میں : کے ایک ابتدائی عمر میں کچھ سایہ بھی مستحکم ہے کہ ایک اعتدال روادار درخت. اس پر اگتا ہے نمکین نہیں ہیں یا سیلاب ہے جس میں کمی سائٹس پانی کی میز سے 18 میٹر اوپر ہے andwhere tonutrient امیر loams پر سے مختلف ہوتی ہیں، گرم اشنکٹبندیی اور ذیلی گرم مرطوب درجہ حرارت 45-1 ڈگری سینٹی گریڈکی حد ساتھ آب و ہوا. ایسا نہیں ہے اپنے قیام کو روکنے کے گا پالا ہارڈی اور گھاس مقابلہ
کاشت:بیج ۔ بڑی عمر کے بیج اکثر نہیں اگتے ۔ بیج ہر ممکن حد تک تازہ ہونا چاہئے. بیج زمین میں براہ راست بویا جا سکتا ہے. دو سے تین بیج ڈھیلا مٹی میں گہرائی 1 سینٹی میٹر رکھی جا ئے . بڑی تعداد جب میں لگاناہو تو ، سب سے پہلے برتن، ٹرے یا پلاسٹک کے گملوں میں کاشت کریں۔ 3 ماہ کے بعد ٹرانسپلانٹیشن منتقلی کی جائے ۔ .سیڈ کم ویوہاریتا ہے اور اچھی طرح سے کی دکان نہیں ہے. یہ جمع کرنا ضروری ہے یہ سمجھدار ہے اور ہر ممکن حد مجموعہ کے بعد جتنی جلدی لگائے۔ بیج , اور غیر جنسی طریقے دونوں سے،یہ آسانی سے جھاڑی بن جاتی ہے۔
افزائش نسل:
نیم کی افزائش بیج اور پودوں سے کی جا سکتی ہے پکا ہوابیج جولائی،اگست میں درختوں سے اکٹھا کرنے کے بعدکاشت کر دیا جاتا ہے ۔نیم کے ننھے پودے کو سال ہلکے سائے کی فراہمی فائدہ پہنچاتی ہے نر سری اگانے کے کئے نیم کا تازہ بیج،گملوں یا پولی تھیں کی تھلیوں میں لگالیں نیم کے درخت انتہائی خشک علاقوں میں مختصر وقفہ کے کئے پتے گرا دیتا ہے وگرنہ یہ ہمیشہ سر سبز رہتا ہے اس کا پھل جون سے اگست کے مہنیوں میں پھل پکتا ہے اور پکا ہوا پھل سبزی مائل زرد رنگ کا 0.5 انچ سے0.7 انچ لمبا ہوتا ہے اس میں عموماََ ایک بیج ہوتا ہے ۔نیم کا بیج اپنی حیاتیاتی اہلیت یا قوت نمو صرف 3-2 ہفتے تک قائم رکھ سکتا ہے۔
بیج کا حصول:
موسم بہار کے آخر میں نیم کے پرانے پتے جھڑے کے ساتھ ساتھ نئے پتے نکلنے لگتے ہیں اور مارچ ،اپریل کے مہینے تک تمام نئے پتے آجاتے ہیں،سفید رنگت کے چھوٹے چھوٹے پھول مارچ سے لے کر مئی کے مہینے تک نمودار ہوتے رہتے ہیں جن میں شہد کی خوشبو آتی ہے اس کے بعد نیم کا پھل جون سے اگست تک پکتا ہے جو گچھوں کی صورت میں ہوتا ہے ہر پھل میں ایک بیج ہوتا ہے چونکہ نیم کا بیج اپنی روئیدگی کی اہلیت زیادہ دیر تک قائم نہیں رکھ سکتا اس لئے اسے کامیابی سے اگانے کے لئے اس کا پکا ہوا بیج درخت سے توڑنے کے بعد فوراََبعد نرسری میں اگانا چاہیے۔
نرسری کی تیاریاں:
آم اور فالسے کی طرح نیم کا بیج بھی تازہ لگایا جاتا ہے چونکہ یہ سدا بہار درخت ہے اور عموماََ گاچی کے سمیت ہی لگایا جاتا ہے ،لہذا اس کی نرسری پولی تھین کے لفافوں یا مٹی کے گملوں میں لگائی جا سکتی ہے لفافوں کو پتوںکی ملی کھاد مٹی اور ریت سے بھر لیا جاتا ہے ہر لفافے مین ایک بیج رکھ کربیج کی موٹائی جتنی مٹی ڈال دی جاتی ہے اور اس کے فوراََبعد فوارے سے پانی دے دیا جاتا ہے ۔نیم کا بیج تقریباََ ایک ہفتہ بعد اگنا شروع ہو جاتا ہے اور یہ عمل تقریباََ 28 دن میں مکمل ہو جاتا ہے خیال رہے کہ اگائی کے بعد غیر ضروری جڑی بوٹیاں لفافے میں سے صاف رکھی جائیں ورنہ پودے مر جانے کا خطرہ ہوتا ہے ان ننھے پودوں کو کہر سے بچانے کا خیال ضرور رکھنا چاہیے کیونکہ کہر میں ننھے پودے مر جاتے ہیں اس لئے پودوں کو ڈھانپنے کے علاوہ سردیوں میں آبپاشی کی ضرورت ہوتی ہے اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا خیال رکھنا بھی نہایت ضروری ہے کہ چھوٹے پودوں کو دھوپ کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ اس وقت ممکن ہے کہ ساتھ اٹھنے والی جڑی بوٹی کو تلف کر دیا جائے ایس اکرنے سے پودوں کو لفافوں میں موجود
مٹی سے خوراک بھی حاصل ہوتی ہے
 یہ بیجوں کے ذریعے اُگایا جا سکتا ہے۔
بیج کے ذریعے افزائش:۔پھل جب پک جاتے توڑ لیے جاتے ہیں۔ یا پھر درخت کے نیچے فرش سے اکٹھے کر لیے جاتے ہیں۔ مکمل کچل مسل کر پلپ کو نکال دیتے ہیں۔بیجوں کو سایہ دار جگہ پر خشک کیا جاتا ہے، مکمل خشک ہونے پر ائیر ٹائٹ کنٹینروں میں سنبھال کر رکھ لیتے ہیں۔ ان بیجوں کی افزائش کے لیے عمر بہت تھوڑی یعنی 2 ہفتے تک ہوتی ہے۔ افزائش کے عمل کو آسان کرنے کے لیے بیجوں کو 24 hrs کے لیے پانی میںبگھو کر رکھتے ہیں۔ اور چھلکا اُتا رلیتے ہیں۔اس مقصد کے لیے تیز چاقو کا استعمال درست رہتا ہے۔ گھٹلی سمیت بھی بیج کو لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن افزائش کم رہتی ہے۔ بیج کو نرسری میں کیاریوں میں لگایا جاتا ہے۔ کیاریوں میں دریائی ریتلی مٹّی ڈال دی جاتی ہے۔ 15 to
20Cmتک ڈالی گئی مٹّی والی کیاری میںبیج2.5 to 5cm دور دور بوئے جاتے ہیں۔ بیج کو ایک سے دو سینٹی میٹر گہرا بونا چاہیے۔ اور اُس پر نرم گیلی مٹی سے ڈھانک دینا چاہیے۔کیاری کو نم آلود رہنا چاہیے۔ یعنی پانی دینے ساتھ ہی گوڈی کر دی جائے۔ لیکن کم پانی دیا جائے۔تاکہ جگہ کرونڈی نہ جائے۔70 to 90 % بیج افزائش کرکے نکل آتے ہیں۔
پودے کی شجر کاری اور ما بعد احتیاطیں:۔ 7 to 10 cmاونچائی کے پودے جس کی 15 cm لمبائی تک جڑ بن چکی ہوتی ہے۔ ان کو پولی تھین کے لفافوںمیں منتقل کر دیا جاتا ہے۔ فیلڈ میں ان پودوں کو ایک سے دو سال بعد لگایا جاتا ہے۔ اور4.5 to 5.5 meterفاصلہ رکھا جانا چاہیے۔ پہلے5 to 6 years میں موسم گرما میں ایک دفعہ پانی دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اس کے یہ خود بخود درخت بنتے جاتے ہیں۔
پودے لگانے کا طریقہ:
نیم کا پودا لگانے کے تین طریقے ہیں ایک تو نرسری میں تیار کئے گئے پودوں سے زمین میں گڑھا کھود کر لفافے کا پیندہ کاٹ اور پھر اس گڑھے میں لفافہ رکھ کر اردگرد مٹی گڑھے میں ڈال کر پاو
¿ں سے اچھی طرح دبا دی جاتی ہے۔جس کے فوراََ بعد پانی دے دیا جاتا ہے دوسرا طریقہ قلم سے ہے ایک سال کے پودے سے جڑ کا 6 انچ حصہ اور تنے کا 3 انچ حصہ لے کر قلم بنا لی جاتی ہے جو براہ راست گیلی زمین میں لگا دی جاتی ہے قلم لگانے سے پہلے لوہے کی سلاخ یا انگلی جتنی موٹی لکڑی سے زمین میں سوراخ کر لیا جاتا ہے اور پھر اس میں قلم لگا دی جاتی ہے۔تیسرا طریقہ ہل چلا کر پانی دینے کے بعد وتر کی صورت میں بیج کی براہ راست بیجائی کر دی جاتی ہے اور اس کے بعد زمین کو ایک ہفتہ تک نم رکھا جاتا ہے جب تک بیج کی اگائی پوری نہ ہوجائے۔
پودوں کی افزائش:
پہلے سال کی بڑھت ذرا سست ہوتی ہے مگر آئندہ سالوں میں مقابلتاََ زیادہ ہوتی ہے اس کی افزائش کے لئے جڑی بوٹیوں کی تلفی ضروری ہے یہ بات اس مشاہدے میں آئی ہے کہ نیم کا پودا تیسرے سال تقریباََ 5 فٹ کا ہو جاتا ہے نیم کا درخت اگر کاٹ لیا جائے اور زمین سے مڈھی نہ اکھاڑی جائے تو پھر سے شاخیں نکل آتی ہیں ان شاخوں میں سے سیدھی اور بہتر شاخ رکھ کر باقی کاٹ دی جائیں تو اس شاخ سے دوبارہ درخت تیار ہو جاتا ہے اس کے علاوہ اگر جڑیں زخمی کر دی جائیں تو وہاں سے بھی نیا پودا تیار کیا جا سکتا ہے۔
 نمایاں خصوصیات:نیم کے پیڑ صوبہ سندھ کے سرکاری درخت ہے اور سندھ کے تمام شہروں میں بہت عام ہے، صوبہ سندھ بھر میں اس درخت لگانے کے لئے منصوبے جاری ہیں. . اس کا پھل اور بیج نیم کے تیل کے ذریعہ ہیں. بڑھوتری قدرے سست ۔ درخت مٹی کی زرخیزی بڑھاتا ہے ۔ اور اپنی خاص خوبی کی وجہ سے تیزابی مٹی کو نیوٹرل مٹی میں بدل دیتا ہے ۔ پانی برقرار رکھنے کی صلاحیت کو بہتر بناتا ہے. ہلکی زمین یہ خاص طور پر ان لوگوں میں ایک فارم جنگلات درخت کے طور پر صلاحیت رکھتا ہے
شاخ تراشی:
بیماریاں: چند کیڑے بیماری کا مسائل ہیں
آبپاشی:
پاکستان میں گرم علاقوں میں چونکہ بارش اوسطََ خاصی کم ہے اس لئے آبپاشی کی ضرورت پڑتی ہے ۔البتہ ان جگہوںپر جہاں زیرزمین پانی کی سطح قدرے بلند ہو آبپاشی کی ضرورت صرف چھوٹے پودوں کو ہی رہتی ہیں اس کے علاوہ نیم کے درخت برسات سے پہلے کا گرم و خشک موسم بغیر نقصان اٹھائے برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
پیداوار :آہستہ بڑھوتری ، اوسط MAI 8.5 کیو بک میٹر فی ہیکٹر سالانہ
لکڑی کی خصوصیات:
دانہ : غیر متوازی ،کسی حد تک موٹا
رنگ : گیلی سفید ، سفید بھورا،سخت
کثا فت: sg 0.68 ۔ کلوریز کی مقدار 4990کلوریز فی کلو گرام
مظبوطی : بھاری،سخت،لچکدار۔
نیم کی بڑھت اور استعمال:
فرنیچر، چارے، لکڑی چھید کر اشیاءبنانے ، دواو
¿ں(ایک جور ہٹانےوالا کے طور پر چھوڑ دیتا ہے ایک ٹائیفائیڈ کے علاج)، لکڑی، زراعت آلات اور کے طور ارکٹنین. (بیج سے) تیل ایک کیٹناشک، کیڑے مار، طور پر مارکیٹنگ، اور ہے ۔ نیم کے پتے چاول ذخیرہ کرنے ،کیڑوں کی روک تھام کرنے۔ الماری میں رکھے جاتے ہیں. مچھروں کو دور رکھنے کے لئے ۔ نرم ٹہنیاں اور پھول سبزی کے طور پر ۔ بھوک بڑھانے کے طور پر۔ ترکاریاں۔ پروٹین کا ایک ذریعہ ہے۔ درخت سے بنی مصنوعات ، دوائیں دو صدیوں سے استعمال کی گئی ہےں ۔. کرم کش ، اینٹی فنگل، زیانطس کے علاج، بیکٹریا کش ، اینٹی وائرل، جلد کے امراض ۔ کے لئے مشروع ہے. نیم کا تیل ، جگر کے بہتر خون بنانے ۔ زہریلے مادوں، اور خون میں شکر کی سطح کو متوازن کرنے کے لئے، صحت مند بالوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ طویل مدتی استعمال گردوں یا جگر کو نقصان پہنچا سکتا ہے اسقاط حمل ہو سکتا، بانجھ پن، اور کم بلڈ شوگر سبب بن سکتا ہے۔ نیم مصنوعی ادویات کے ایک قدرتی متبادل کے ظور پر ، غیر پیسٹی سائیڈل کیڑے مار مینجمنٹ (NPM) میں ایک اہم جزو ہے. نیم کے بیج پانی میں رات بھگو کر فصل پر اسپرے کیا جاتا ہے . . نیم کیک اکثر ایک کھاد کے طور پر فروخت کیا جاتا ہے.نیم تیل ، ماحول دوست اور اقتصادی ایجنٹ کے طور پر دیمک کے حملے سے بچنے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے.
 صابن، شیمپو، بالم اور کریم کے ، ٹوتھ پیسٹ ، کاسمیٹکس ۔ مسواک مسوڑھوں کی سوزش کو کم کرنے۔ کار آمد گوند۔
نیم کا درخت خشک خطہ درختوں میں سے ایک بہت کار آمد درخت ہے اس سدا بہار درخت کی چھتر گول،گھنا اور جڑیں لمبی ہوتی ہیں اسکی لکڑی قدرتی طو ر پر دیمک اور گھن سے محفوظ رہنے کی صلاحیت رکھتی ہے اس کی لکڑی ،چھلکا ،گوند ،پتے ،پھول اور بیج الغرض ہر حصہ نہایت ہی کار آمد ہے فصلوں رہائشی علاقوں کے نقصان دہ کیڑوں کو کنٹرول کرنے کے لئے کیمیائی دواو
¿ں کا استعمال اپنے ماحولیاتی نقائص کے باعث نا پسند یدہ ہے اور کئی ممالک میں ترک کیا جا چکا ہے اور کیڑوں پر قابو پانے کے لئے پودوں کے قدرتی اجزاءسے فائدہ اٹھایا جا رہا ہے ان پودوں میں نیم نہایت اہم ہے۔
یہ بات مشاہدے میں آئی ہے کہ بہتر زمین پر جہاں آبپاشی بھی مناسب ہو 15 سال کی عمر میں نیم کا درخت تقریباََ4 فٹ لپیٹ کا ہو جاتا ہے نیم کی لکڑی گھن اور اس قسم کے کیڑوںکے حملوں کی بھرپور مدافعت کی صلاحیت رکھتی ہے یہ تعمیر ات کے کاموں اور فرنیچر تیار کرنے کے لئے بھی استعمال میں لائی جاتی ہے لکڑی اچھی اقسم کا بالن اور کوئلہ بنانے کے کام آتی ہے۔
نیم کے بیج میں تیل کی شرح کا تناسب 40% ہے جو جلانے اور مشینوں کو چکنار رکھنے میں استعمال ہو سکتا ہے تیل نکالنے کے بعد بچنے والی نیم کھل بہترین کھاد تصور کی جاتی ہے اس کا تیل صابن اور جراثیم کش ادویات بنانے کی صنعت کا ایک بہت اور اہم عنصر ہے اسکے بیجوں اور پتوں سے ایک خاص قسم کا کیمیائی مرکب حاصل ہوتا ہے جو کیڑوں اور مچھروں وغیرہ کو دور رکھتا ہے ۔ اسکے پتوں کے اور بھی طبی فوائد ہیں ۔
موجودہ دور میں نیم کے درخت کو اور بھی اہمیت حاصل ہو گئی ہے کیونکہ اس سے کئی قسم کی کرم کش ادویات بنائی جا رہی ہیں ۔ بیج سے تیل نکالا جاتا ہے جو بیکٹریا ، جرثومے ، اور کیڑے مکوڑوں کو مارنے میں استعمال ہوتا ہے ۔ غرضیکہ نیم کے پتے، چھال، پھول، پھل، شاخیں اور لکڑی سبھی کارآمد ہیں ۔
لکڑی کا اوسط وزن 680 گرام فی کیوبک سینٹی میٹر اور حرارت پیدا کرنے کی صلاحیت 4990 کلو کیلری فی کلو گرام ہے ۔
۔اس کی چھال اور پتّے جلدی بیماریوں کے لیے شفاءبخش ہوتے ہیں۔علاوہ ازیں اس کی چھال پھلبہری ٬ ملیریا اورباری کابخار٬اندورنی و بیرونی زخم٬معدے کے السر٬رسولی٬قے آنا٬انتڑی کے کیڑے٬اندرونی سینے وغیرہ کی جلن٬کھانسی اور برونکائیٹس کی بیماریوں کی ادویات کے لیے مفید ہوتی ہے۔
اس کے پھول بھی اندرونی سینے و معدے کی وغیرہ کی جلن٬قولنج٬بد ہضمی ٬انتڑی کے زخم اور جنرل معذوری وغیرہ کی ادویاتشکایات کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔اس کے بیج رسولیوں٬جذامکوڑھ٬جلدی امراض٬انتڑیوں کے زخم٬معدے کے السر٬قبض٬قبل از پیدائش بیماریاں اور ذیا بطیس جیسی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ بیجوں سے ایک تیل اخذ کیا جاتا ہے۔ جو کہ ٬جلدی عوارض٬انتڑی اور پیٹ کے رنگ نماءکیڑے٬کھجلیخارش٬مزمّن ملیریا بخاراور جذام کے عوارض کے لیے مفید ہوتا ہے۔

Botanical Name: Avicennia marina (forssk.) Vierh. نباتاتی نام :ایوسنیا مارینا ویرھ


Botanical Name: Avicennia marina (forssk.) Vierh.  نباتاتی نام :ایوسنیا مارینا ویرھ
خاندان: اویسینیسی Avicennaceae
انگریزی نام: 
دیسی نام:ٹی ور،ٹائمر Tivar, Timar.
ابتدائی مسکن(ارتقائ):پاکستان، بھارت ، بحیرہ عرب کے ساحل ،کراچی سے سندھ مکران ساحل اور سمندری کھائیاں ساتھ بلوچستان میں ساحلپر پایا جاتا ہے۔



قسم: سدا بہا ،
 شکل:چھوٹاجھاڑی نما                        قد: 1 تا 3 میٹر   پھیلاﺅ :      تنے کاقطر: 25 تا 30 سینٹی میٹر
پتے:سادہ ہیں ،3 تا 8 سینٹی میٹر لمبے ، 1.5 تا 3.5 سینٹی میٹر چوڑے ۔اس میں نیومیٹوفورز ہوتے ہیں جو بڑھے ہوئے اعضاءہیںجو گھٹنوں کی طرح ہوتے ہیں اور مرکزی تنے کو سہارا دیتے ہیں
 پھولوں کا رنگ: پیلے            پھول آنے کا وقت: فروری اور جون۔آپس میں بہت قریب قریب ہوتے ہیں گچھا نما ۔خوشبودار

پھل : پھل 12 تا 18 ملی میٹر لمبا،اور 10 تا 12 ملی میٹر چوڑاہوتا ہے۔مئی اور جولائی میں پکتا ہے عام طور پر پھل میں ایک ہی بیج ہوتا ہے
کاشت: بذریعہ بیج ، دونوںبیجوں سے اور پودوں کی طرف سےکا مطلب ہے کہ. سیڈ کم ویوہاریتا ہے.: یہ پیش کیا جا سکتا ہے
جگہ کا انتخاب: ایک غیرروادار درخت ہے جسے مکمل سورج کی روشنی کی ضرورت ہوتی ہے ۔یہ دلدلی نمکین، ساحلی مٹی پر اگتا ہے۔ یہ درخت کی وجہ سے اس کے لئے ضروری ایندھن کی خصوصیات کی کھیتی میں رہا ہے. یہ ساحلی جنگلات کا ایک قابل قدر رکن ہے اور محفوظ کیا جانا چاہئے. مصنوعی تخلیق نو پاکستان میں درخت کے تحفظ کے لئے ضروری ہو سکتی ہے ۔بارش کی حد125 ملی میٹر سالانہ۔ درجہ حرارت5تا40ڈگری سینٹی گریڈ
نمایاں خصوصیات:          
شاخ تراشی:
بیماریاں:معلوم نہیں
کاشت:بیج , اور غیر جنسی طریقے دونوں سے،یہ آسانی سے جھاڑی بن جاتی ہے۔
پیداوار: آہستہ بڑھوتری ، اوسط MAI     7.8m کیو بک میٹر فی ہیکٹر سالانہ ،قطر30cm
لکڑی کی خصوصیات :
دانہ : متبادل تہی،برداشت کرنا،نافت
رنگ: براﺅن،سبز
کثا فت: بھاری
مظبوطی :سخت ٹوٹ جانے والا

استعمال ©:چارہ ،ایندھن او ر ٹینن tannin۔

نباتاتی نام:اوورہیا کیرمبولا Botanical name: Averrhoa carambola


نباتاتی نام:اوورہیا کیرمبولا Botanical name: Averrhoa carambola 
خاندان: آکسیلیڈیسی Family: Oxalidaceae
انگریزی نام: سٹار پھل Star fruit
دیسی نام: ستارہ پھل
ابتدائی مسکن(ارتقائ):ایشیا
قسم:سال بہ سال پتے جھاڑنے والا
شکل:گول تاج نما                            قد:میٹر      
پتے:


 پھولوں کا رنگ:                              پھول آنے کا وقت: مارچ
کاشت:بیج
جگہ کا انتخاب: ریتلی ، بھاری مٹی یا چونے کے پتھر والی مٹی پر اگاےا جا سکتاہے، لیکن تیزی سے بڑھنے کے لیے اچھی میرا loam مٹی ۔ زیادہ بھاری مٹی کو بھی برداشت کرسکتا ہے۔ اچھی نکاسی کی ضرورت ہے، سیلاب برداشت نہیں کر سکتے. درخت کو مکمل سورج کی ضرورت ہے
کاشت:تھائی لینڈ، اسرائیل، فلوریڈا، برازیل، فلپائن، چین، آسٹریلیا، انڈونیشیا اور بھارت اور ایک ہی آب و ہوا کے ساتھ دنیا کے دیگر گرم علاقوں میں کاشت کیا جاتا ہے۔ایک تجارتی فصل بن گیا ہے. پھول کی کراس پولینیشن اچھا پھل پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے، پودے بیج سے اگنے کے بعد تقریبا ایک سال میں پھول اور پھل پیدا کر سکتے ہیں. بڑے پودے موزوں ماحول اور حالات کے علاقوں میں سال بھر پھل پیدا کر سکتے ہیں ۔ د رخت اشنکٹبندیی tropical اور ذیلی اشنکٹبندیی sub-tropical قرار دیا جا سکتا ہے ۔
بیج کی نتیجہ خیزی صرف چند دن تک رہتی ہے اگرچہ وسیع پیمانے پر بیج سے کاشت کیا جاتا ہے ۔موسم گرما میں ایک ہفتے میں اگے گا ، موسم سرما میں 14 سے 18 دن کی ضرورت ہوتی ہے۔پنیری بہت نازک ہوتی ہے اور اچھی دیکھ بھال کی ضرورت ہے.بذریعہ گٹھی ایئر
layeringیا انارچنگ کا طریقہ بھی کامیاب ہے. درختوں کی چھال کی گرافٹنگ ، وینیر گرافٹنگ ،
، سب سے زیادہ کارکنوں کے لئے سب سے بہتر نتائج دیتا ہے. روٹسٹاک کی کم از کم 1 سال کی عمر ہو ، اور 3/8 تا5/7 انچ (1-1.5 سینٹی میٹر) موٹی ہونی چاہئے۔ . 20 فٹ (6 میٹر) کا فاصلہ ، 6-6-6-3 کے تناسب میں (ن)، پی، کے، مگنیشیمآدھا کلو فی سا ل تین سے 4 مرتبہ ۔
نمایاں خصوصیات: پھل ذائقہ، ساخت، اور شکل کے اعتبار سے مختلف حالتوں میں ُٰٓٓپایا جاتا ہے، کچھ اقسام بہت ترش اور کچھ کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے۔ درخت درمیانی تیز رفتار سے بڑھتا ہے۔ ذائقہ کی حدود کے ساتھ ہلکا sweetish اور سیب، اناناس، اور کیوی پھل کا ایک مرکب کی طرح کچھ کا ذائقہ. سلائس کو crosssection میں کاٹنے سے ایک ستارہ کی شکل بنتی ہے.
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:
 پھل میں 90 فی صد پانی ہے اور پھل سلاد، tarts، محفوظ، اور مشروبات میں استعمال کیا جاتا ہے. کل شکر 7 فی صد ، تقریبا نصف گلوکوز اور نصف sucrose ہیں. اچار، jellis، اور سالن لئے استعمال ۔ صحت کے فوائد ، ضروری وٹامن کی ایک شاندار فہرست ، غذائی ریشہ ، فائبر گٹ میں غذائی ایل ڈی ایل کولیسٹرول کی مقدار کے جذب کرنے کو روکنے میں مدد . بڑی آنت میں چپچپا کی جھلی کی حفاظت میں مدد.
 سٹا وٹامن سی ایک طاقتور قدرتی ینٹیآکسیڈینٹ ہے. متعدی ایجنٹوں کے خلاف مزاحمت ، . اہم flavonoids ، quercetin، epicatechin، اور gallic ایسڈ ہیں. ، ربوفلیون، اور pyridoxine (وٹامن B-6) ، معدنیات اور پوٹاشیم، فاسفورس، اور زنک اور لوہے کی طرح الیکٹرولائٹس . پوٹاشیم ۔ دل کی شرح اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے میں مدد . اس طرح سوڈیم کے برے اثرات کا مقابلہ

نباتاتی نام :ارٹو کارپس لکوچا Botanical Name: Artocarpus lakoocha


نباتاتی نام :ارٹو کارپس لکوچا Botanical Name: Artocarpus lakoocha
خاندان ©: موریسی Family:Moraceae 
انگریزی نام: منکی جیک، اندین ویگن monkey jack, cempedak, the indian vegan
دیسی نام:دھیو، بڑھل Dhew/Dheu, Barhal
ابتدائی مسکن(ارتقائ): جنوب مشرقی ایشیا India, southeast Asia بھارت
قسم:سال بہ سال پتے جھاڑنے والا
شکل:                          قد:15-20میٹر


پھولوں کا رنگ:نارنجی پیلا                    پھول آنے کا وقت: مارچ۔اپریل
کاشت:بیج 10انچ یا 7 انچ کے گملوں میں بوائی کریں۔ میرا مٹی میں 20-25 فیصد کمپوسٹ کھادسے مرکب تیار کر کے گملوں کی بھرائی کا عمل مکمل کریں۔ گملے کے مطابق دو بیج فی گملہ براہ راست بویا جا سکتا ہے؛ اگر فی گملہ زیا دہ بیج اگا لیے جائیں تو فی پودا چھانٹ کر الگ کر لیں اور دوسرے گملوں میں منتقل کر لیں۔ بیج کو 3 ملی میٹر مٹی کی یا ایک mulch کی تہ کے ساتھ ڈھانپ دیا جاتا ہے۔ . ایک متبادل طریقہ اونچی کیاری میں 1 کلو فی مربع میٹر کی شرح سے بیج بونا ہے۔ 3-4 ہفتوں کے بعدجب پنیری 5 سینٹی میٹر لمبی ہو جائے تو منتقلی کر دیں۔ بیج کی زندہ رہنے کی عمر مختصر ہے۔ صرف مون سون کے آغاز سے قبل بوائی کی جائے . یہ پنیری اگلے مون سون تک 20-25 سینٹی میٹر یا اس سے زیادہ لمبی ہو جا نی چاہئے ۔بوائی کے دو یا تین ہفتوں کے بعد اگاﺅ شروع ہو جاتا ہے۔
 پھل: زیادہ تر علاقوں میں جون کے آخر میں اور اگست کے آغاز تک پکتا ہے۔ ایک درخت پر قریباََ 80 کلوگرام پھل لگتا ہے جس سے 6000 بیج برآمد ہوتے ہیں۔ بیج چند دنوں کے اندر اندر اس کی بار آوری کو کھو دیتے ہیں۔ یہ دو دن سے زیادہ جمع نہیں کیا جانا چاہئے۔ جمع کرنے کے بعد جتنی جلدی ممکن ہو بویا جائے ، اور اگر یہ ایک یا دو دن نہیں بویا جا سکا تو یہ پھل میں رکھا جانا چاہئے ۔ 1 کلو سے 1900 - 5000 بیج حاصل ہوتے ہیں۔ ہر پھل میں 10-30 بیج موجود ہوتے ہیں.
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:          
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©: پھل آ ور ، فرنیچر، لکڑی، اور فیڈ بطور خوراک۔ ایک قیمتی اشنکٹبندیی درخت . پھل عام طور پر تازہ کھا یا جاتا ہے . خوردنی پھل۔ گودا جگر کے لئے ایک ٹانک کے طور پر کام کرتا ہے۔ . خام پھل او ر پھول کے نر حصے سپائک (تیزابیت اور کسیلی) اچار اور چٹنی (چٹنی) میں استعمال کیے جاتے ہےں۔ لکڑی قابل قدر ہے، مشہور ساگون کی لکڑی کے مقابلے کی ہے. پائیدار باہر کے ماحول کے ساتھ ساتھ پانی کی تہ میں بھی کام آتی ہے۔ جو ، تعمیر، فرنیچر، کشتی سازی، اور الماریاں بنانے کے کام کے لئے استعمال کی جاتی ہے.
درخت کی چھال 8.5 فی صد ٹنین پر مشتمل ۔ سپاری طرح چبائی جاتی ہے۔ جلد کی بیماریوں کے علاج کے لئے استعمال کی جاتی ہے۔ دھاگہ کے لئے ایک پائیدار فا ئبر کی اچھی پیداوار. لکڑی اور جڑوں سے ایک شاندار رنگ بنایا جاتا ہے۔
 پھل کے علاوہ پودے کے مختلف اعضاء میں haemagglutination سرگرمی کا مظاہرہ دیکھا گیا ہے ۔

Botanical Name:Artocarpus integrifolia نباتاتی نام :ارٹوکارپس انٹیگری فولیا

Botanical Name:Artocarpus integrifolia نباتاتی نام :ارٹوکارپس انٹیگری فولیا 

خاندان ©:موریسی Family:Moraceae
انگریزی نام:جیک فروٹ Jack fruit
دیسی نام: کٹھل
ابتدائی مسکن(ارتقائ): جنوب مشرقی ایشیا
قسم:سدا بہار  
شکل:                          قد:10-21 میٹر
پتے: چمقدار ، کسی حد تک leathery ، 2-2.5 سینٹی میٹر طویل۔ بیضوی۔
پھولوں کا رنگ:              پھول آنے کا وقت:مارچ۔جون ۔ درخت monoecious ہے۔یعنی ایک ہے پودے پر دونوں جنسو ں کے پھول ساتھ ساتھ۔
پھل: تمام پھل پیدا کرنے والے درختوں میں سب سے بڑا پھل ۔ پھل 8 انچ تا 3 فٹ طویل۔ اور 6 -20 انچ چوڑا۔ 10- 50 kg کلوگرام وزنی۔ پھل کے گودے کی انناس اور کیلے جیسی مہک ہے، . ایک پھل میں 100 یا 500 بیج ہو سکتے ہےں
کاشت:بیج ۔پیوند کاری اور قلم سے ۔ عام طور پر بذریعہ بیج۔ بیج پھل پکنے کے بعد ایک ماہ کے اندر اندر ہی کاشت کر دیے جانے چاہیئں۔ اگاﺅ کے لیے 3 سے 8 ہفتوں کا وقت درکار ہوتا ہے۔ اگاﺅ کا عمل تیز کرنے کے لیے 24 گھنٹے پا نی میں بھگو کر رکھیں۔ بیج کے اگاﺅ کے بعد جب پنیری کے 4 س پتے نکل آئیں تو منتقل کر دیں۔ کیونکہ لمبی اور نازک جڑ بن جانے کے بعد منتقلی میں دیر سے پودے کے مرنے کا خدشہ پیدا ہو جاتا ہے۔budding پھوٹنا کے بارے Forkert کا نظر ثانی شدہ طریقہ ممکنہ طور پر کامیاب تصور کیا جاتا ہے۔ دیسی کٹھل بطور روٹ سٹاک استعمال کیا جاتا ہے۔ اور پیوند کاری سال کے کسی بھی وقت کی جا سکتی ہے ۔ انارچنگ کا طریقہ بھی عام ہے۔ لیکن زیادہ تر نشونما بڑھانے والے ہارمون کی مدد کے ساتھ گٹھی یعنی air-layers کے زریعہ کاشت کیا جا رہا ہے ۔ ایک ماہ کی عمر کی پنیری کو gibberellic ایسڈ (25-200 ppm)  میں ڈبو کر لگانے سے بڑھوتری میں اضافہ ہوتا ہے. Gibberellic ایسڈ سپرے اور پیسٹ سے جڑ کی بڑھوتری میں اضافہ ہوتا ہے. باغات میں لگانے کے لیے درختوں کے درمیان فاصلہ 30 سے 40 فٹ (9-12 میٹر) رکھیں۔ بعض اقسام cultivars کا پھل لگنے میں 2 1/2 to 3 1/2 سال جبکہ عام طور پر 4 سے 14 سال لگ سکتے ہیں
پھل پکنا ۔ جون سے اگست ستمبر تک۔ پھل پکنے کے لیے پھول کھلنے کے وقت سے 8سے 3 ماہ کا وقت درکار ہے،۔
جگہ کا انتخاب:آب و ہوا ۔ مرطوب اشنکٹبندیtropical، and near-tropical.۔ یہ ابتدائی زندگی میں ٹھنڈ اور خشک سالی
برداشت نہیں کر سکتا حساس ہے. بارش کی کمی ہے تو، درخت سیراب ہونا ضروری ہے. گہری ، درمیانی یا کھلے ساخت کی زرخیز ، زمین میں نشوونما پاتا ہے. . یہ "گیلے پاو ¿ں" برداشت نہیں کر سکتے. جڑ پانی کو چھو رہی ہو تو درخت مر سکتے ہیں.
نمایاں خصوصیات: تمام حصوں سے دودھ نما مواد SAP پیدا ہوتا ہے۔
شاخ تراشی:
پیداوار : ۔ اس درخت کی بڑھوتری کافی تیز ہے 20 سال میں58 فٹ کی بلندی تک پہنچ سکتا ہے۔ عمر 100 سال ۔ ایک اچھی پیداوار سالانہ فی درخت 150 بڑے پھل یا فی پودا 250 سے 500 درمیانے یا چھوٹے سائز کے پھل ۔
بیماریاں: نئے لگائے گئے پودوں کو sunscald سے اور جانوروں کے چرنے ، خرگوش، ہرن، وغیرہ سے محفوظ رکھیں۔ میدان میں بیج چوہوں کی خوراک بن سکتا ہے۔ . کیڑے ۔ شوٹ borer کے کیٹرپلر، گرین بگ، اور بھوری بڈ-ویول، لاروا، امراض: گلابی بیماری، پھل سڑاند ۔ چارکول سڑاند، کالر سڑ،
استعمال ©:ایک بہت خوبصورت سدا بہار، میٹھا ہے. یہ تازہ کھایا یا خشک کیا جا سکتا ہے. . تمام حصے ایک چپچپے سفید لیٹیکس latex پر مشتمل ہیں .
 لکڑی، پھل ، وٹامن B1 اور B2 کے اچھے ذرائع، عام طور پر، تازہ بیج، نشاستا۔ اعلی کیلشیم اور لوہے ۔ پھل کچھ علاقوں میںجانوروں کو کھلایا جاتا ہے۔ چراگاہوں میں لگایا جاتا ہے. پتے: مویشیوں کے کھا نے کے لیے۔ اور پتے کھانا پکانے میں کھانے کے لفافوں کے طور پر استعمال کیے جاتے ہےں ۔ لکڑی: ایک اہم سیلون میں لکڑی ۔ اور بیکٹیریا کشی۔ مزاحم دیمک۔، تعمیر۔ ، turnery، masts کے، oars، آلات فرنیچر کے لئے ۔ برش پیٹھ اور موسیقی کے آلات. محلات بالی اور Macassar میں jackwood کے تعمیر . تیز، فورم کے اوزار ۔ . پرانے درختوں کی جڑیں carving اور تصویر ڈھانچوں کے لئے قیمتی ہیں۔

Botanical Name:Araucaria heterophylla syn. A. angustifolia، A. excels نباتاتی نام :ایروکیریا ہیٹروفلا


 Botanical Name:Araucaria heterophylla syn. A. angustifolia،  A. excels نباتاتی نام :ایروکیریا ہیٹروفلا
خاندان ©:ایروکیری ایسی Family:Auarcariaceae
انگریزی نام: نار فاک آئی لینڈ پائن Norfolk Island Pine ،منکی پزل ٹری Monkey puzzle tree ۔
دیسی نام: ایروکیریا Araucaria۔ دیسی نام جزیرہ نارفولک پائن ، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور نیو کیلیڈونیا کے درمیان بحر اوقیانوس میں ایک چھوٹے سے جزیرے پر
ابتدائی مسکن(ارتقائ): کیلیڈونیا ، جزیرہ نارفولک، مشرقی آسٹریلیا، نیو گنی، ارجنٹینا، چلی، اور جنوبی برازیل


قسم:سدا بہار
 شکل:ستون نما۔مخروطی                   قد:20-30 میٹر
پتے: افقی، پھیلی شاخوں کے ساتھ leathery یا needlelike چمڑے کی طرح ےا سوئی نما پتے ، براہ راست عمودی تنا، سڈول شاخیں ، نوجوان پتیوں، ، ستاری شکل، اور incurved، 5-10 ملی میٹر طویل اور 2-4 ملی میٹر چوڑی . coning شاخوں پر پیمانے کی طرح پتیوں کے اوپری تاج میں ہیں. شنک 10-12 سینٹی میٹر طویل اور 12-14 سینٹی میٹر قطر بیٹھنے گولاکار، ہیں، 18 ماہ میں پکتی ہیں۔
سائنسی نام heterophylla ("مختلف پتے") نوجوان اور بالغ پودوں کے درمیان پتے میں تبدیلی سے ملا .
پھولوں کا رنگ: سفید                        پھول آنے کا وقت:
کاشت:بیج ۔ موسم گرما میں ٹرمینل (15.2-20.3 سینٹی میٹر)6-8 انچ کی شاخیں (قلم ) لےں اور جڑ پیدا کرنے والے ہارمون میں ڈبو کر لگائیں ۔۔. تجارتی پیمانے پر کاشت بذریعہ بیج ۔
جگہ کا انتخاب:، گہری ریت نمک اور ہوا کے خلاف مدافعت ، ساحلی حالات کے لئے مثالی .. غیر ملکی ، منباون ظہور اور کافی وسیع موسمی ملائمیت بحیرہ روم اور مرطوب subtropical آب و ہوا کے علاقے میں ، . طویل سرد علاقوں میں زندہ نہیں رہتے۔
نمایاں خصوصیات:منطقہ معتدلہ کا پودا، خوبصورت ، بنیادی طور پر بڑے درخت ہیں ۔ وسیع پیمانے پر کاشت، اور سڈول ، سہ رخی خاکہ کے ساتھ مخصوص ظہور ، راستے کنارے یا ایونیو پر مقبول کاشت ، اور کبھی کبھی کرسمس کے درخت کے طور پر ۔ ایک مخصوص conifer ہے.  . یہ ایک حقیقی پائن نہیں ہے اگرچہ یہ کبھی کبھی 'سٹار پائن' کہا جاتا ہے،اس کی وجہ سڈول شکل، 'مثلث درخت' یا 'زندہ کرسمس درخت،
 شاخ تراشی:   بیماریاں:

استعمال ©: بیج کھانے کے قابل۔ ساحلی علاقوں میں بڑے پیمانے پر سجاوٹی درخت، گملوں میں ornamentals زیبا ئشی طور پر ۔نوجوان درخت اکثر houseplants کے طور پر ۔ السر کے خلاف antiulcerogenic سرگرمی. کے علاوہ میں، رال اور الگ تھلگ مرکبات چھاتی اور بڑی آنت کے کینسر کے خلاف