Sunday, 12 July 2015

Ficus hispda بوکڈا

نباتاتی نام : فائیکس ہسپیڈا Botanical Name: Ficus hispda
دیگرحوالہ جات: ایف ڈائیمونا٬  ایف اوپّوزیٹی فولیا٬ (Syn:-F Oppositifolia, F daemona)
خاندان ©: موریسی Family: Moraceae
انگریزی نام: Ficus



دیسی نام: بوکڈا  Bokeda
 مستعمل نام:۔  بیمبیڈّی چیتّو Telgu:.Bembeddi chittu 
ابتدائی مسکن(ارتقائ): ڈسٹری بیوشن:۔یہ درخت پورے انڈیا میں عام پایا جاتا ہے۔ یہ درخت سیکنڈری نم دار جنگلوں کا یہ عام درخت ہے۔ اور زیادہ ترندیوں کے کناروں پر پایا جاتا ہے۔
قسم:سال بہ سال پتے جھاڑنے والا
قد : 30,20فٹ  پھیلا  30,20فٹ
تعارف:۔چھوٹا سا درخت ہوتا ہے۔جسے جھاڑی بھی کہ سکتے ہیں۔نوجوان ٹہنے کٹے پھٹے زخمی سے ہوتے ہیں۔درمیانے درجہ کے ٹہنے کھوکھلے ہوتے ہیں۔
پتّے:۔ پتّے مخالف اطراف میں ہوتے ہیں۔جو کہ27x 11 cmسائز کے ہوتے ہیں۔ Petiole 4.5 cm لمبا ہوتا ہے۔ پتّے کا بلیڈبیضوی لمبا سا ہوتا ہے۔ جب کہ آخری کنارا نوکدار سا ہوتا ہے۔ پورے پتّے کے اطراف پر یا کچھ حصّے پر آری نما کٹنگ ہوتی ہے۔ پتے:23,4انچ 6,2انچ ،سطح کھردری ،بیضوی لمبوترے،اساس گول
پھول:۔پھول کچے گولر کے اندرچھپا ہوا ہوتا ہے۔M0n0cious     پھولوں کا رنگ:              پھول آنے کا وقت: مارچ
پھل: ۔پھل گول مٹول سی گولر ہوتی ہے۔ یہ گولر کسی ٹہنے کے کسی حصّے پر لگتے ہیں۔ یا علیحدہ کسی ایسی جگہ لگتے ہیں جہاں پتّے نہیں ہوتے ہیں۔ یہ زیادہ تر بڑے تنے کے قریب ہی لگتے ہیں۔ پکنے کے بعد پھل پیلاہٹ مائل ہو جاتا ہے۔
کاشت:قلموں سے ہوتی ہے،جڑوں سے شگوفے اور ٹہنیا ں نکالتا ہے،
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:          
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:اسکے مختلف حصے بطور دوا استعمال ہوتے ہیں۔

Ficus glumerata گو لر


نباتاتی نام : فائیکس گلومیریٹا یا بنجمینا کموسا Botanical Name:Ficus glumerata
دیگرحوالہ جات: فکّس راسے موسا٬  (Syn:- Ficus racemosa)
خاندان ©: موریسی Family:Moraceae 
انگریزی نام:فائکس گلومیریٹا Ficus Glomerata
دیسی نام: گو لر ، گلہر Gulhar
 مستعمل نام:۔اٹتھی Telgu:.Atthi 
ابتدائی مسکن(ارتقائ): آ سٹریلیا ، جنوب مشرقی ایشیا ڈسٹری بیوشن:۔یہ درخت خزاں میں پت جڑ کا عام درخت ہے۔ اور یہ سدا بہار سر سبز ہوتا ہے۔ یہ پہاڑی اور میدانی علاقوں دونوں میں ملتا ہے۔ یہ زیادہ تر پانی سے بھرے تالابوں جوہڑوں کے کنارے ملتا ہے۔
قسم:سدا بہار
قد : 60,50فٹ پھیلا  40,30فٹ
تعارف:۔ایک عام سا درخت ہوتا ہے۔ جو 50میٹر تک اونچائی کرتا ہے۔ اس کا تنا سفیدی مائل ہوتا ہے۔ اور جوان درختوں میں ہموار سا اور سیدھا ہوتا ہے۔ بوڑھا ہونے پر کچھ ٹیڑھا میڑھا ساگرہہ دارہو جاتا ہے۔
پتّے:۔اوول شیپ کے ٬ بل دارسے ٬ نیزہ کی طرح لمبے سے اور صفراءسے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ پتے:واحدdeciduous 4,3انچ بیضوی لمبوترے،
پھول:۔ کچّے پھل کے اندرجو کہ ایک گولر ہی ہوتا ہے؛ چھپے ہوئے ہوتے ہیں۔ پھولوں کا رنگ:        پھول آنے کا وقت:اپریل۔مئی
 پھل:۔یہ ایک گولروں کا گچھا ہی ہوتا ہے۔ جو کہ بڑے تنے کے ساتھ لگے ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر تنوں پر بھی اسی طرح لگتے ہیں۔ پھل پک جانے پر سُرخ ہو جاتا ہے۔ یہ پھل 3 cm دور تک کیڑوں سے لدا ہوتا ہے۔
کاشت:بیجوں اور قلموںسے،سایہ دار درخت جو پاکستا ن اور انڈیا میدانی علاقوں میں شاہراہوں پر نظر آتا ہے،
جگہ کا انتخاب:
 نمایاں خصوصیات:پھل تنے کے ساتھ قریب لگتا ہے۔
 شاخ تراشی:                 بیماریاں:
استعمال ©:پھل کھایا جاتا ہے ،گوند حاصل ہو تی ہے،پتے بطور خوراک استعمال ہوتے ہیں،تنے سے نکلے والا رس بطو ر دوا استعمال ہوتا ہے، اس کی چھال کئی اقسام کی دیسی ادویات بنانے کے کام آتی ہے۔

Ficus elastica ربڑ پلانٹ


نباتاتی نام : فائیکس الاسٹکا Botanical Name: Ficus elastica
خاندان ©: موریسی Family:Moraceae 
انگریزی نام: Rubber plant rubber fig, rubber bush,
دیسی نام: ربڑ پلانٹ
ابتدائی مسکن(ارتقائ):  شمال مغربی بھارت اور جنوبی ایشیا


قسم:سدا بہار
شکل:                         قد:30-40 میٹر 98-130 فٹ
پھولوں کا رنگ:                              پھول آنے کا وقت:
کاشت: قلم، گٹھی
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:          
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:




Ficus carica انجیر


نباتاتی نام :فائیکس کیریکا  Botanical Name: Ficus carica  
خاندان ©: موریسی Family:Moraceae 
انگریزی نام: فگ  Fig  
دیسی نام: انجیر  Anjeer
ابتدائی مسکن(ارتقائ):جنوب مشرقی ایشیا



قسم:سدا بہار
قد:  متوازن سائز  23-33 فٹ  6.9-10 میٹر
پھیلا 20,30فٹ
پتے: 4.7-9.8 انچ لمبے ، 3.9-7.1 انچ چوڑے deeply lobed with three or five lobes
 پھولوں کا رنگ:
پھل : 3-5 centimeters (1.2-2.0 in)
long, with a green skin.
کاشت:بیجوں اور قلموں سے ، گٹھی
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:                         
شاخ تراشی: بمطابق ضرورت
بیماریاں: تھرپس، تیلہ ،
استعمال ©:


Ficus benjamina


نباتاتی نام :فائیکس بنجامینا Botanical Name: Ficus benjamina
خاندان ©: موریسی Family:Moraceae 
انگریزی نام: بنجمن فگ،گولڈن فگ، Golden Figweeping fig, Benjamin's fig
دیسی نام: کالی فائیکس ، Kubra
ابتدائی مسکن(ارتقائ):
قسم:سدا بہار ۱قد:12-15 میٹر             متوازن سائز 30,40فٹ   پھیلا 20,30فٹ
پتے:2سے ساڑھے چار انچ لمبے،چمکیلے گہرے سبز ،بیضوی،
 پھولوں کا رنگ: موٹے ناشپاتی نما،، سبز سے سرخ پھول



کاشت:بیجوں اور قلموں سے ، گٹھی
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات: ،اندرون خانہ آ رائش کا اچھا پودا ہے، 
شاخ تراشی: بمطابق ضرورت
بیماریاں: تھرپس، تیلہ ،
استعمال ©: پتے زیبائش میں استعمال ہوتے ہیں،


Ficus bengalensis var.


نباتاتی نام :فائکس بنگالنسس وار۔ Botanical Name: Ficus bengalensis var.
خاندان ©: موریسی Family:Moraceae 
انگریزی نام:
دیسی نام: کرشنی Krishni
ابتدائی مسکن(ارتقائ):

قسم:سدا بہار
شکل:                         قد:10-12 میٹر
پھولوں کا رنگ:                              پھول آنے کا وقت:
کاشت:بیج ، قلم، گٹھی
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:          
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:



Ficus bangalensis


نباتاتی نام :فائیکس بنگالنسس Botanical Name: Ficus bangalensis
دیگرحوالہ جات:  ایف ٹسائلا٬ ایمپلی سیما (Syn:- F.tsiela)
خاندان ©: موریسی Family:Moraceae 


 انگریزی نام:بنیان Banyan

دیسی نام: بوہڑ Bohr برگد،بڑ            Bohar
 مستعمل نام :۔ Banyan, Telgu:-Marri, Kannada: Alamdara, Tamil:- Al, :- Malyalam:- Peral Common:- 
     پیرال       ٬ آل    ٬ عالم دارہ      ٬ ماری     بنیان  اور پنجابی میں بڑھ کا درخت
ابتدائی مسکن(ارتقائ): برصغیر پاک و ہند ۔ ڈسٹری بیوشن:۔یہ درخت پورے انڈیا اور پاکستان میں عام ہوتا ہے۔دیہاتوں میں پنڈالوں٬مزاروں٬ریلوے پلیٹ فارموں پر اس درغت کو لگایا جاتا ہے۔ تا کہ کافی زیادہ افراد کو سایہ میسّر آ سکے۔اس کا پھل ٬داڑھی٬جڑ٬چھال٬پتّے کئی دیسی ادویات بنانے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔
 قسم:سدا بہار
شکل:                         قد:100فٹ یا زیادہ

تعارف:۔یہ بہت بڑے سے چھتر والا٬جس کی ٹہنیاں اور شاخیں پھیلی ہوئی ہموار سی٬بہت بڑا تنا ور درخت ہوتا ہے۔ اس کا پتّہ توڑنے سے دودھ سا خارج ہوتا ہے۔ اس درخت کی لمبی لمبی مضبوط سی پتلی پتلی سی لچکدار جڑیں ہوتی ہیں۔ جو بڑے تنے کے قریبی چھوٹے ٹہنوں سے نیچے فرش تک آ جاتی ہیں۔ لوگ اس کو بڑھ کی داڑھی بھی کہتے ہیں۔ یہ بعد میںفرش تک چھو جاتی ہیں۔یہ اتنی مضبوط ہوتی ہیں۔ کہ ان کے ذریعے درخت پر بھی چڑھا جا سکتا ہے۔ بہت پرانے درخت ایک ایکڑ تک پھیلے ہوئے بھی ہوتے ہیں۔ اورآدھی درجن کے قریب داڑھیاں لٹک رہی ہوتی ہیں۔اُن کا تنااتنا موٹا ہوتا ہے۔ کہ تین آدمی ہاتھ پھیلا کر اور ہاتھ جوڑ کر گھیرا و ¿کر سکتے ہیں۔ہندوو ¿ں کا یہ ایک مقدّس درخت ہوتا ہے۔
پتّے:۔ اوول شکل کے ہموار٬ چمکدار٬اوپر سے گہرے سبز٬ نچلی طرف سے پیلے سبز اور قدرے مہک دار ہوتے ہیں۔بڈbud کونیکل Stipuleسے ڈھکی ہوتی ہے۔ پتے:۸،۴ انچ چوڑے یا پت جھاڑ
پھول:۔پھول چھوٹی سی گولر fig کے اندر ہی چھپا ہوا ہوتا ہے۔ یہ گولر نما پھول پتّے کے اوپری طرف لگتا ہے۔ جو ڈنڈی اور شاخ کے درمیان ہوتا ہے۔ پھول مارچ اور اپریل کے درمیان جوبن دکھاتے ہیں۔ پھولوں کا رنگ: سرخ                    پھول آنے کا وقت:اپریل اور اکتوبر۔نومبر
پھول چھوٹے پھل کے اندر
 پھل:۔ایک گولر ہی ہوتا ہے۔ جو کہ ایک ایکسل نما ڈنڈی پردونوں اطراف لگتے ہیں۔یہ پھل پک جانے بعد سُرخ ہو جاتا ہے۔ جب یہ پھل نوجوان ہوتا ہے ہلکی مہک دیتا ہے۔ یہ گولر قدرے گولائی مائل ہوتے ہیں۔ ایکراس چورائی 1.5 cmتک ہوتی ہے۔ درخت بہت ہی شان والا معلوم ہوتا ہے۔ جب شاخیں پکے ہوئے پھلوں سے بھری ہوئی ہوتی
ہیں۔ان گولروںپر بہت سے پرندے آ جاتے ہیں۔ نیز گرے ہوئے گولروں پر بہت سے کیڑے بھی آ جاتے ہیں۔
کاشت:بیجوں اور قلموں سے ہوتی ہے،یہ ایک سایہ دار درخت ہے جسکی عمر طویل ہوتی ہے،اپنی ہوائی جڑوں کے ذریعے زمیں پر سفر کر تا اور پیھلتا ہے،
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:


Ficus amplissima


نباتاتی نام : فائیکس ایمپلی سیما Ficus amplissima  Botanical Name:
دیگرحوالہ جات:  ایف ٹسائلا٬  (Syn:- F.tsiela)
خاندان ©: موراسیاMoraceae Family:
انگریزی نام
دیسی نام:
 مستعمل نام:۔اڈوئی راگی Telgu:.Aduvi ragi 
ابتدائی مسکن(ارتقائ):ڈسٹری بیوشن:۔درختوں کا یہ نسلی گروپ خزاں کے پت جھڑ والے جنگلات میں ملتا ہے۔ جنوبی انڈیا اور سری لنکا میں یہ درخت عام پایا جاتا ہے۔

تعارف:۔یہ لمبے درخت ہوتے جن کی ائیریل جڑیں ہوتی ہیں۔
قسم: پت جھاڑ  ، سدا بہا ر
 شکل:        قد:  فٹ میٹر   پھیلا : فٹ
پتے:  انچ لمبے  انچ چوڑے 
پتّے:۔ 2.5 to 6cm لمبےpetioleکے حامل پتّے ہوتے ہیں۔ پتّے کے بلیڈ کی لمبائی بیضوی یا اوول شیپ ہوتی ہے۔جس میں بیسbase پرتین رگیں ہوتی ہیں۔ جب کہ بعد کی رگیں7 to 10 کے جوڑوں میں ہوتی ہیں۔
پھول:۔پھول چھوٹی سی گولر fig کے اندر ہی چھپا ہوا ہوتا ہے۔ پھولوں کا رنگ:                           پھول آنے کا وقت:
 پھل:۔ایک گولر ہی ہوتا ہے۔ جو کہ ایک ایکسل نما ڈنڈی پردونوں اطراف لگتے ہیں۔ جب یہ پھل نوجوان ہوتا ہے ہلکی مہک دیتا ہے۔ یہ گولر قدرے گولائی مائل ہوتے ہیں۔ ایکراسacross چورائی 1.5 cmتک ہوتی ہے۔ جس کی چار عدد بیس کی پھاڑیاں ہوتی ہیں۔
کاشت: بذریعہ بیج اور قلم
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:         
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:


Feronia limonia elephtum


نباتاتی نام: فیرونیا لیمو نیا ایلیفیٹم Botanical Name: Feronia limonia elephtum
خاندان ©: روٹیسی Family: Rutaceae
انگریزی نام: ایلیفنٹ ایپل ۔ ووڈ ایپل  English: Wood Apple, Elephant Apple, Monkey Fruit or Curd Fruit Assamese: Bal, Bael Bengali: Koth Bael Gujarati: Kothu Hindi: Kaitha , Kath Bel or Kabee
دیسی نام: کراتھ، کیتھ، کاگاتھا بیل  Karath kaith kagatha Beal
ابتدائی مسکن(ارتقائ):انڈو ملایا بنگلی دیش، پاکستان ،، سری لنکا
قسم:سال بہ سال پتے جھاڑنے والا
شکل:         قد:9          میٹر یا 30 فٹ
پتے:مرکب بازو دار برگچے پنا نما ، 5-7 پتیاں ۔ ہر پتی 25-35 ملی میٹر لمبی ۔ اور 10-20 ملی میٹر چوڑی ۔ مسلنے پر ترشاوہ پھ؛وں جیسی مہک دیتی ہیں ۔ پھل ایک بیری berry 5–9 سینٹی میٹر قطر کا۔ میٹھا یا ترش ۔ چھلکا بہت سخت ہوتا ہے اور توڑنے پر کریک ہوتا ہے ۔ گودا بھورا چپچپا ، اور بیج چھوٹے سفید ۔ چھال کانٹیدار کھردر
پھولوں کا رنگ: پھول چھوٹے اور نیچے کی طرف جھکے ہوتے ہیں ۔              پھول آنے کا وقت:
پھل:پھل بلگری کے پھل جیسا نظر آتا ہے ۔ پھل کی جلد سخت ہونے کی وجہ سے یہ ایک کٹوری یا ایش ٹرے کے طور پر کھدی ہوئی اور ایک برتن کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے اتنی موٹی اور مشکل ہے.
کاشت:بیج
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:تنے پر تیز کانٹے    
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:گوند واٹر کلر میں استعمال ہوتی ہے۔ پھل کھاےا جاتا ہے۔ دست و پیچس کی بیماری میں بطور دوا استعمال ہوتا ہے ۔ خوردنی گم ۔. درخت سے woodworking کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے .پھل گودا یہ سینکڑوں سال کے لئے ایک گھریلو کلینر بنایا ہے کہ ایک صابن کی طرح کی کارروائی ہے. کچے بیج کے ارد گرد چپچپا پرت بھی زیورات سازی میں استعمال کرتے ہیں پتہ چلا ہے کہ گھریلو گلو ہے. چونے کے ساتھ ملا گلو،، کوں waterproofs اور دیواروں سیمنٹ. کینوس پر ایک کوٹ کے طور پر شامل ہیں جب گلو بھی تیل کی پینٹنگز کی حفاظت کرتا ہے
گراو ¿نڈ Limonia چھال میانمار میں ایک کاسمیٹک نامی thanakha، جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر حصوں میں بھی پھیل گیا ہے کہ ایک پریکٹس کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے. بالوں کے لئے ایک خوشبو کے طور پر مقبول ہے کہ پھل رند پیداوار تیل؛ یہ بھی رنگ silks اور کیلیکو کرنے کے لئے استعمال ایک ڈائی پیدا کرتی ہے.
یہ اس کے تیزی سے ترقی کے لئے اختیار کیا ایک ہیج پلانٹ ہے، خاص طور پر ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی فرد سے cuttings ایک hardily جڑیں پلانٹ، پھل، پودوں کو grafted کر رہے ہیں جب اور سایہ فوری طور پر حاصل کی جا سکتی.
تامل ناڈو پتیوں اور شاخوں جانوروں کی دیکھ بھال کے سلسلے میں کسی نہ کسی کام کے لئے جھاڑو کے طور پر استعمال کیا گیا ہے جبکہ پھلوں روایتی طور پر، ہاتھی کے کھانے کے لئے استعمال کیا گیا ہے میں.
پھلوں کے مشروبات اور مٹھائیوں، یا جام کے طور پر اچھی طرح سے محفوظ کی ایک درجہ بندی میں مرکب، سادہ کھایا جاتا ہے. اس کے پھل سے لیا آو ¿ٹ گودا کے ساتھ یا بغیر شکر کچا کھایا جاتا ہے، یا ایک مشروب کے طور پر ناریل کے دودھ اور کھجور چاشنی اور نشے ساتھ مل جاتا ہے، یا ایک آئس کریم کے طور پر منجمد کر. یہ بھی چٹنی میں استعمال ہوتا ہے اور جام بنانے. پانی اور مصالحے کے ساتھ پھل مرکب کی طرف سے بنائی گئی ایک پینے، Bael-پاس، گرمیوں کے دوران نشے میں ہے.
انڈونیشیا کھجور چینی کے ساتھ پکا ہوا پھل کا گودا شکست دی اور ناشتا میں مرکب کھاتے. میں sugared گودا برصغیر میں شربت کی ایک بنیاد ہے. جام، اچار، مرببا، شربت، جیلی، اسکواش اور ٹافی یہ بہاددیشیی پھل کے کھانے کی چیزوں میں سے کچھ ہیں. نوجوان bael پتے تھائی لینڈ میں ایک ترکاریاں سبز ہیں. بھارتیوں چینی یا گڑ کے ساتھ پکا ہوا پھل کا گودا کھا. پکا ہوا گودا بھی چٹنی بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے. خام گودا دہی کے ساتھ مختلف ہے اور raita میں بنا ہے. پکا ہوا گودا املتا اور مٹھائی کا ایک مرکب ہے کہ ایک بو اور ذائقہ ہے جبکہ خام گودا، ذائقہ میں کڑوا ہوتا ہے.اس پھل سے نا واقف ان لوگوں کے لئے، اس کے منفرد اور غاصب خوشبو یہ تقریبا unpalatable بنا سکتے ہیں. کچھ ایک کو کچھ اس سے بھی کھانے کے قابل ہے کہ شک میں توسیع کرنے سڑی ہوئی یا خمیر پھل کی طرح مہک کے طور پر یہ بیان کیا ہے.
غذائیت
پھل گودا کے ایک سو گرام میں تقریبا 140 کیلوریز کے برابر کاربوہائیڈریٹ کی 31 گرام اور پروٹین کے دو گرام، پر مشتمل ہے. پکا ہوا پھل بیٹا کیروٹین، وٹامن اے کے ایک اگردوت سے مالا مال ہے. یہ بھی بی وٹامن thiamine اور رابوفلاوان کے اہم مقدار، اور وٹامن سی کی تھوڑی مقدار پر مشتمل ہے۔


Ferronia elephantum


نباتاتی نام  :   Ferronia elephantum Botanical Name:
دیگرحوالہ جات:کلوروکسی لون سویٹنیا (Syn:- limonia, Limonia acidissima)
خاندان ©: روٹاسیاRutaceae Family:
انگریزی نام
دیسی نام:
مستعمل نام:۔ ولیگا Velaga Telgu:- ووڈ ایپل Common name:-Wood apple
  ولنگائی Tamil:-Velangai  بیلا ڈیکائی  Kannada:- Beladakai کپتھا Sansikrat :- Kapitha
ابتدائی مسکن(ارتقائ):ڈسٹری بیوشن:۔یہ درخت انڈیا کے خشک جنگلوں اور کھلے علاقوں میں ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ خود سے بھی لگایا جاتا ہے۔



قسم: پت جھاڑ  ، سدا بہا ر
 شکل:        قد:  فٹ میٹر   پھیلا : فٹ
 تعارف:۔ایک بڑا سا بغیر کوئی رویں یا بال والا درخت ہوتا ہے۔ اس کے اوپر کافی خار ہوتے ہیں۔
پتّے:۔پتّے کمپاو ¿نڈفی ڈنڈی پر تین کی تعداد میں لگے ہوتے ہیں۔ پتیّاں جھلّی دار٬ جن کی اطرافحاشیہ پر دندانے ہوتے ہیں۔اور بغیر بالوں کے ہوتے ہیں۔
پھول:۔یہ ڈنڈی کے ایکسل پر گول گچھوں کی صورت میں۔ پھولوں کا رنگ: پھول سُرخ یا اکھڑdull سے سُرخ رنگ کے ہوتے ہیں۔        پھول آنے کا وقت: فروری اور مارچ کے مہینوں میں لگتے ہیں
 پھل: ۔پھل ایک بڑا بیر ہوتا ہے۔ گلوب نماءگول یا اوول شیپ ہوتا ہے۔ پھل کا چھلکا ہموار لکڑی نما ہوتا ہے۔ بیج لا تعداد ہوتے ہیں۔ اور اندر کھبے ہوئے سے ہوتے ہیں۔ Cotyledone موٹا سا اور گودے والا ہوتا ہے۔ پھل تیار ہونے ٬ ترقّی کرنے اورپکنے میں کافی مدّت لیتا ہے۔ نومبر دسمبر کے مہینے میں پک کر تیار ہو جاتا ہے۔
کاشت: بذریعہ بیج اور قلم
نرسری ہدایات:۔درخت کی یہ نسل کھلے میدانوں میں اُگانے کے لیے مناسب ہوتی ہے۔یہ کالی کاٹن مٹّی میں اُگانا مناسب رہتا ہے۔ یہ بیج اورvegetative propagation دونوں سے اُگایا جا سکتاہے۔
بیج کے ذریعے افزائش:۔بیج پوری طرح پکے ہوئے پھلوں سے حاصل کیے جانے چاہییں۔ اس مقصد کے لیے چھلکے کو توڑا جاتا ہے۔ گھٹلی کے ارد گرد کا گودا علیحدہ کیا جاتا ہےدھویا جاتا ہے۔ تاکہ صاف بیج حاصل ہو سکے۔ بیجوں کوحصول کے بعد بغیر دیر کیے اُگا دینا چاہیے۔ کیونکہ اِن کی عمر بہت تھوڑی ہوتی ہے۔ بیجوں کو راکھ کے ساتھ مکس کیا جاتا ہے۔ اور پھر خشک کیا جاتا ہے۔اُگانے سے قبل بیجوں کو ٹھنڈے یا نلکے کے پانی میں پورے ایک روزکے لیے بھگو دینا چاہیے۔ یہ بیج اکتوبر سے نومبر کے مہینوں میں پولی تھین تھیلیوںمیں لگائے جاتے ہیں۔ اور اوپر دیسی کھاد ڈال دی جاتی ہے۔ 10 to 15 days بیجوں سے پودے پھوٹ پڑتے ہیں۔ پودے پھوٹ نکلنے کی شرح 70 % تک نوٹ کی گئی ہے۔ تقریبا ¿ 63 %پنیری پھلنے پھولنے میں کامیاب ہو پاتی ہے۔ پودے کی بڑھوتری بہت ہی سست ہوتی ہے۔ اس لیے گائے بھینس کے گوبر کی پتلی کھاد بڑھوتری دیتی ہے۔
Vegetative propagation :۔اس قسم کی افزائش گرافٹنگ (پیوند کاری) یا نرم لکڑی کی گرافٹنگ سے کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے پہلے بیج سے چند پودے پولی تھین کی تھیلیوں میں لگائے جاتے ہیں۔ 3 to 4 months بعد پنیری کو استعمال میں لاتے ہیں۔ اس مقصد کے لیے scoin کی لمبائی8 to 15 cmہونی چاہیے۔ پھانہ شکل کی scoin کو rootstock میں فِٹ کیا جاتا ہے۔ اور پھر سختی سے پولی تھین کی پٹّی لپیٹ دی جاتی ہے۔ کامیاب گرافٹ پودے کو 6 to 8 monthsکے دوران میں فیلڈ میں لگا دیا جاتا ہے۔
نرسری پودے کی شجر کاری:۔پودوں کو نرسری سے فیلڈ میں شفٹ کرنے کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ کہ اُن کا قد 30 to 45 cm ہو جائے۔
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:         
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمالات:۔اس درخت کا پھل قابل خوردنی ہوتا ہے۔ اور یہ ٹانک اور anticarbutic مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے پتّے خوشبودار٬ ہاضمہ٬ اور معدے کی صفائی کے لیے استعمال کرائے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ درخت اسی مقصد کے لیے ایک تیل بھی مہیّا کرتا ہے۔