Tuesday, 14 July 2015

Millingtonia hortensis



نباتاتی نام : ملنگٹونیا ہار ٹینسی Botanical Name: Millingtonia hortensis Linn
خاندان ©: بگنو نی ایسی Family: Bignoniaceae                              
ا نگریزی نام:انڈین کروک ٹری Indian Crok Tree
دیسی نام: ولایتی نیم،نم چمیلی Valayati Neem ،Nim Chameli
ابتدائی مسکن(ارتقائ):برما اور ملائشیا
قسم:سدا بہار
شکل:                         قد:30-25 میٹر  پھیلا : 30 ۔ 40فٹ
پتے :پتے لمبے ،سیدھے3۔ 2 پرا دار ، پتیاں5-2.5سینٹی میٹر لمبی اور acununate چھال پیوند دار اور دڑاڑ دار،اس کا تنا سیدھا اور استوائی نما ہوتا ہے ،
 پھولوں کا رنگ:سفید ،                       پھول آنے کا وقت: جون ۔ نومبر ،چھوٹے ، خوشبودا ر ، گچھوں میں ،
پھل: چھریرے چپٹے ، ایک سے 1/2 1 فٹ
کاشت: قلم ۔بنیادی طور پر زیر بچہ۔
جگہ کا انتخاب:مختلف قسم کی زمینیں، ہلکی ریتلی۔اچھی زمینوں میں پیدا وار اچھی ہوتی ہے ،
نمایاں خصوصیات:میدانوں میں لگایا جانے والا بڑا سایہ دار در خت ۔پاکستان میں اس کی کاشت زیبائشی طور پر کی جاتی ہے۔
شاخ تراشی:
بیماریاں:
پیداوار:بڑھوتری تیز اور ایک سال میں 2 میٹر بڑھتا ہے۔
استعمال ©:چھال سے کارک بنتا ے،لکڑی فرنیچر سا زی میں استعمال ہوتی ہے ، ایندھن اور زیبائشی۔




Millettia ovalifolia


نباتاتی نام : ملیٹیا اویلی فولیا Botanical Name: Millettia ovalifolia
خاندان ©: فابیسی Family: Fabaceae
انگریزی نام: ملیٹیا
دیسی نام: ولایتی شیشم Valayati Shisham Amercan Tahli
ابتدائی مسکن(ارتقائ): امریکہ
قسم:سال بہ سال پتے جھاڑنے والا
شکل:                         قد:10-12 میٹر پھیلا 15 سے 20 فٹ پتے برگچوں کے 9 ۔ 6 جوڑے ، ہر ایک 1 انچ لمبا پھولوں کا رنگ:ارغوانی                  پھول آنے کا وقت: اپریل۔مئی
پھل : بیج پھلی چپٹی ہوتی ہے ،
کاشت:بیج ،
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات : لکڑی گہرے رنگ کی اور بھاری ،      
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©: زہر کے طور پر


Michelia champaca


نباتاتی نام :مچیلیا چمپاکا Botanical Name: Michelia champaca
خاندان ©: مگنولی ایسی Family:Magnoliaceae
انگریزی نام: چمپا ٹری Champa tree
دیسی نام: سون چمپا
ابتدائی مسکن(ارتقائ):    
قسم:سدا بہار
شکل:                         قد:20 میٹر پھیلا تیس فٹ
پھولوں کا رنگ:مدھم سفیدی مائل ذرد ، خوشبودار                          پھول آنے کا وقت:فروری
پھل: کیپسول تین ۔ چار انچ قطر ، بیج سرخ بھورے
کاشت:بیج ، مرطوب آب و ہوا میں یہ درخت اچھے رھتے ہیں ، گٹھی ،
جگہ کا انتخاب: تین ہزار فٹ کی بلندی تک ہوتے ہیں
نمایاں خصوصیات:         
شاخ تراشی:
بیماریاں
استعمال ©: ذرد رنگ پھولوں سے حاصل ہوتا ہے ۔درخت کے مختلف حصے دوا ں میں استعنمال ہوتے ہیں ۔ عورتیں پھولوں کو بالوں میں
سجاتی ہیں ۔
ٓآرائشی استعمال۔ خوشبودار ، پاکستان میں اتنا مشہور نہیں جتنا ہندوستان میں ۔

Melia azedarach


نباتاتی نام : میلیا ازیدرک Botanical Name: Melia azedarach Linn.
خاندان ©: میلی ایسی Family:Meliaceae
انگریزی نام:پریسن لیلک  Persian Lilac
دیسی نام: بکائن ،دھریک Bakain Dharaik
ابتدائی مسکن(ارتقائ): پاک و ہند ، جنوبی چین ، آسٹریلیا
قسم:پت جھاڑ
شکل:تاج نما ،پھیلی ہوئی گول                               قد:9-12 میٹر پھیلا 30 ۔ 25 فٹ  قطر:0.70-0.57 میٹر
پتے :پتے مرکب ہیں۔60 سینٹی میٹر لمبے،چھال سیاہی بھوری پشت پر لمبی
پھولوں کا رنگ:ارغوانی ۔                    پھول آنے کا وقت:مارچ اور مئی ۔پھول خوشبودار چھوٹے
پھل :گول 4۔ 5 بیجوں پر مشتمل ہے پھل جون تا جنوری تک رہتا ہے
کاشت:بیج,اور غیر جنسی طریقے دونوں سے،۔تقریبا 70/ بیج اگا کے قابل ہوتا ہے۔تقریبا ایک سال تک بغیر نقصان کے اگا کے قابل ہوتا ہے۔
جگہ کا انتخاب:ایک غیر روادار درخت اچھی قسم کی نکاسی والی اور کھائی والی،کھرا چشمہ والی زمینوں پربڑھتا ہے۔بارش کی حد 1000-600 ملی میٹر سالانہ۔
نمایاں خصوصیات:میدانوں میں اگنے والا تیز رو سایہ دار درخت ،         شاخ تراشی:
بیماریاں:
پیداوار :اچھی بڑھوتری ، اوسط 17.5m/ha/yr ہے۔
لکڑی کی خصوصیات :
دانہ :سیدھا،غیر ہموار لچکدار
رنگ : گیلی لکڑی زرد مائل سفید،سخت لکڑی سرخ مائل بران
کثا فت: sg 0.56 ۔ کلوریز کی مقدار 5100کلوریز فی کلو گرام
مظبوطی : درمیانی سخت،ہلکی،لچکدار
استعمال ©: بیجوں سے تیل نکلتا ہے ، ادویاتی خواص رکھتے ہیں ، پختہ لکڑی ، فرنیچر سازی میں استعمال۔ جڑ یں دواں میں استعمال ہوتی ہیں ۔ لکڑی میں دیمک کو بھگانے کی خصوصیات ہیں۔   

Melaleuca leucadendron


نباتاتی نام : میلا لیوکا لیوکا ڈنڈرون Botanical Name: Melaleuca leucadendron
خاندان ©: مر ٹیسی Family:Myrtaceae
انگریزی نام: پیپر بارک Paper Bark
دیسی نام:
ابتدائی مسکن(ارتقائ):
قسم:سدا بہار
شکل:                         قد:10-18 میٹر
پھولوں کا رنگ:سفیدی مائل مدھم ذرد ،سفید                               پھول آنے کا وقت:جون۔اگست
کاشت:بیج
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:                          
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:


Manilkara hexandra


نباتاتی نام :منیلکرا ہیگزنڈرا Botanical Name: Manilkara hexandra
خاندان ©: سپوٹیسی Family:Sapotaceae
نگریزی نام: Mimusops
دیسی نام: رنجن،کھرنی ۔خیرنی Khirni
ابتدائی مسکن(ارتقائ): جنوبی ایشیا ، چین ، پاک و ہند، سری لنکا
قسم:سدا بہار
شکل:                          قد:10-12 میٹر 40 to 80 feetفٹ    پھیلا  40,30فٹ
پتے:واحد5,2انچ لمبے اور ایک سے دو انچ چوڑے بیضوی لمبوترے،سخت چمٹریلے
پھولوں کا رنگ:سفیدملائی گلابی ستارے کی طرح6,2انچ پتوںکے بغل گوشہ پر لگتے ہیں،  پھول آنے کا وقت: جولائی۔دسمبر
کاشت:بیج ۔کاشت:بیج سے،جٹروڈنٹھل چیکو کی پیوند کاری میں استعمال ہوتا ہے،
جگہ کا انتخاب: ٹراپیکل اور اعتدال پسند
نمایاں خصوصیات:آہستہ بڑھوتری،جنگلات کے طور پر لگایا جاتا ہے۔
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:گوند گم حاصل ہوتی ہے، پھل کھا یا جاتا ہے، سیاہ بیجو ں سے تیل نکلتا ہے اور کھائے جاتے ہیں ،لکٹری سخت ہوتی ہے اور تعمیرات میںاستعمال ہوتی ہے،




Mangifera indica


نباتاتی نام :مینگیفریا انیڈیوسا Botanical Name:Mangifera indica Linn.
خاندان: اینا کارڈیسی Anacardiaceae  Family:
انگریزی نام: مینگو  Mango
دیسی نام: آم Aam
ابتدائی مسکن(ارتقائ): پاکستان،بھارت ،نیپال اور بھوٹان۔دنیا کے گرم حصوں میں کاشت کیا جاتا ہے،پاکستان میں دریاو ¿ں اور پہاڑی علاقوں،چناب،راوی،سیالکوٹ کے نزدیک اور سندھ کے تمام آبپاشی والے حصوں میں کاشت کیا جاتا ہے
قسم:سدا بہار
شکل:چوڑی تاج نما،بیضوی                 قد:21-12 میٹر                             قطر:48-25 سینٹی میٹر
پتے:پتے سادہ ہیں،متبادل،لمبوترے،تیز دھارشکل کے ہیں18سینٹی میٹرلمبے اور8-4 سینٹی میٹر چوڑے،پتے گہرے سبز ہیں چمڑے جیسے،چمکداراور tend گچھے شاخوں کے اختتام پر لگتے ہیں،چھال گاڑھی کھردری اور سیاہی مائل ہے۔
پھولوں کا رنگ:سبزی مائل ،زرد                           پھول آنے کا وقت:فروری اور اپریل،پھول چھوٹے ہوتے ہیں پھول گہرے گچھوں میں لگتے ہیں تقریبا16سینٹی میٹر لمبے
پھل:پھل fleshy drupe اورپھل میں ایک بیج ہوتا ہے drupesبڑے سائز کے 12-5سینٹی میٹر پھل پکنے کے بعد اور لمبا ہو جاتا ہے پھل مئی اور جولائی میں پکتا ہے
کاشت:بیج , اور غیر جنسی طریقے دونوں سے،۔
جگہ کا انتخاب:ایک اعتدال پسنددرخت جو سایہ برداشت کر سکتا ہے اوراچھی نکاسی والی جگہوں پر بڑھتا ہے لیکن گہری اور چکنی مٹی پر اچھی طرح بڑھتا ہے ۔بارش کی حد 1500-750 سالانہ ۔یہ گرم مرطوب،ذیلی گرم مرطوب ،ٹراپیکل،مون سون آب وہوا کو ترجیح دیتا ہے،درجہ حرارت 5.-3 تا40 ڈگری سینٹی گریڈ۔سطح سمندر سے بلندی 600میٹر ۔کہر حساس جب جوان ہو
نمایاں خصوصیات:
بیماریاں: آم کی بیماریاں اور ان کا تدراک             
 سفوفی پھہپوندی (Powdery Mildew)
آم کی ایک اہم بیماری۔اس کے باعث 25 سے 80 فیصد تک پھل ضائع ہوجاتا ہے
پھہپوندی کے بیج ہوا کے ذریعے ایک سے دوسری جگہ پہنچ جاتے ہیں
بیماری کا حملہ شگوفوں اور پھلوں پر ہوتا ہے
پھلوںاور شگوفوں پر سفید دھبے ظاہر ہوتے ہیں
زیادہ حملے کی صورت میں پھول اور شگوفے مکمل طور پر سفید پاڈر سے ڈھک جاتے ہیں
فروری اور مارچ اس بیماری کیلئے اہم مہینے ہیں
پھپوندی کے بیج کے اگا کیلئے خشک اور سرد موسم اور پھیلا گرم اور نم دار موسم موزوں ہیں
 آم کا کوڑھ / انتھرا کنوز
آم کی ایک اہم بیماری۔ پنجاب میں تقریباً ہر باغ میں اس کا حملہ ہوتا ہے۔
یہ بیماری شاخوں،پتوں کے علاوہ پھل پر بھی نظر آتی ہے۔
پتوں کے کنارے اور نوک پر بھورے سیاہی مائل دھبے نظر آتے ہیں متاثرپتے زیادہ حملے کی صورت میں سوکھنا شروع ہو جاتے ہیں۔
بیماری پتوں سے شاخوں پر پہنچ جاتی ہے اور شاخیںسوکھنا شروع ہو جاتی ہیں ۔شدید حملے کی صورت میں پودا سوکھ جاتا ہے۔
پھل پر حملہ ۔نیا پھل گر جاتا ہے۔بڑے پر سیاہ داغ پڑ جاتے ہیں۔
بیماری پھیلنے کیلئے موزوں سینٹی گریڈ،ہوا میں نمی 80 فیصد سے زیادہ۔
 آم کے ضرر رساں کیڑے اور ان کا تدراک
آم کا مج (Mango Midge)
مادہ کی زندگی کا دورانیہ 72 گھنٹے ہوتا ہے۔بالغ مج پیویا سے دن کے وقت نکلتے ہیں۔
بالغ مادہ اسی شام سے انڈے دینا شروع کرتی ہے اور آدھی رات تک یہ عمل جاری رہتا ہے۔
مادہ اپنی زندگی میں150 تک انڈے دیتی ہیں۔
اس کیڑے کا حملہ جنوری تا اپریل ہوتا ہے اور تین مرحلوں نقصان پہنچاتاہے۔
1 ۔پھول کھلنے کا مرحلہ (شگوفہ مکمل تباہ اور پیدا نہیں ہوتا)
2۔پھل بننے کا مرحلہ(پھل زرد ہوکر گرنا شروع کر دیتا ہے)
3۔ٹہینیاں کے سرے سے یہ کیڑا شاخ کے اندر داخل ہو کر خوراک حاصل کردیتا ہے جس سے ٹہینیاں خشک ہو جاتی ہیں اور پودوں کی بڑھوتری رک جاتی ہے۔
 اسکیل(Mango Scale)
بیضوی شکل کا کیڑا،جسم ٹرانسپرنٹ جھلی سے ڈھکا ہوا۔
مادہ کا سائز نر سے بڑا۔پرندوں اور جانوروں کے ذریعے ایک سے دوسری جگہ پہنچتا ہے۔
نومبر سے جنوری اس کیڑے کا شدید حملہ۔
مادہ انڈے کی بجائے بچے دیتی ہے۔
بچے ایک گھنٹہ ھرکت کے بعد اپنی جگہ فکس (Fix) کر لیتے ہیں۔
کیڑا نرم شاخون سے،پتوں اور پھل سے رس چوستا ہے۔
پھل کی نشوونما رک جاتی ہے۔
پتوں کی سطح جھلی سے ڈھک جاتی ہے اور بننے کا عمل متاثر ہو جاتا ہے
رسولیاں بنانے والے کیڑے
یہ کیڑا بھی آج کل آم کے باغات میں مسئلہ بنتا جارہا ہے۔
اس کے بچے رسولیوں کے اندر پرورش پاتے ہیں۔
بالغ کیڑے رسولیوں میں سوراخ کرکے باہر آجاتے ہیں اور دوسرے پودوں پر بھی حملہ آور ہوجاتے ہیں۔
شدید حملہ نومبر تا جنوری میں ہوتا ہے۔
یہ کیڑا پتوں اور ٹہنیوں پر رسولیاں بناتا ہے۔
باغوں کی صفائی،گوڈی اور شاخ تراشی۔
باغوں میں ہوا اور روشنی کا گزر یققنی بنایا جائے۔
ان کیڑوں کے علاوہ آم کی گدھڑی،پھل کی مکھی اور آم کا تیلا بھی آم کے باغات کا اہم کیڑے ہیں۔

آم کا فوری مرجھاو ¿ کی بیماری سے تحفظ:
حفاظتی تدابیر ©:آم لذیز ذائقے اور غذائیت کی بنیاد پر دنیا میں پھلوں کا بادشاہ کے نام سے مقبول ہے یہ پاکستان کا ایک نقد آور پھل ہے جو دوسرے ممالک کو برآمد کر کے زرمبادلہ کے حصول کا بھی ایک اہم جزو ہے آم کی خراب کوالٹی اور پیداوار میں کمی کا سبب کیڑے اور بیماریاں ہیں پچھلے چند سالوں سے باغبان حضرات کو آم کی ایک نئی اور خطرناک بیماری کے پودے کا جلد مرجھاو ¿ نے پریشان کر رکھا ہے جس کی وجہ سے پیسٹ وارننگ کے سروے کے مطابق بعض باغات میں 25% تک پودے اس بیماری کے باعث سوکھ چکے ہیں۔
بیماری کی علامات:
بیماری کی ابتدائی مراحل میں متاثرہ ٹہنیوں سے پتوں کا جھڑنا ۔
تنے اور شاخوں سے گوند نکلنا اور گہرے نشانات کا آنا ہے۔
چھوٹی ٹہنیوں پر بھورے دھبوں کا بننا اور ٹہنیوں کا اوپر سے نیچے کی طرف سوکھنا۔
پودے کے پتوں کا اچانک مرجھانا اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے پودے کا سوکھ جانا۔
شدید حملہ کی صورت میں پورے پودے کا اچانک سوکھنا ،پتوں کا مرجھا جانا اور سوکھے پتوں کا پودے پر ہی رہنا ہے۔
شدید حملہ کے ہو کر مل پودوں کی چھال کو چیر یں تو بھورے یا سیاہ رنگ کا بد بو دار پانی نکلتا ہے ۔
بیماری زیر زمین پھلینے کے باعث متاثرہ جڑکا سیاہ ہو کر سوکھ جانا۔
بعض اوقات پودے کی کھال کا پھٹ جانا۔
بیماری کے موافق حالات:
خشک سالی اور درجہ حرارت میں زیادتی۔
پودے پر بے جا ضرب کاری ۔
شاخ تراشی کے بعد زخمی حصوں کا بغیر زہر کے رہنا۔
بڑی جڑوں کا گہری گوڈی سے زخمی ہونا۔

بیماری سے تحفظ ابتدائی حملے کی صورت میں:
پودوں کے گرد ڈیڑھ فٹ کے فاصلے پر مٹی کے دور بنائیں تا کہ پانی تنے کو نہ لگے۔
پودوں کو ہل ،گوڈی اور کیڑوں کے حملے سے ہونے والے زخموں سے بچائیں کیونکہ یہ پھپھوند کو پودوں میں داخل ہونے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔
اگر پودے زخمی ہو جائیں تو فوراََمینکو زیب+ میٹا لکسل+چونا ایک اور آٹھ حصہ تناسب بلحاظ وزن سے زخمی حصہ پر پیسٹ لگائیں۔
بیماری خشک شاخوںکو تھوڑے سے صحت مند حصہ سمیت کاٹ کر جلا دیں۔
زخمی ہونے والے حصہ پر کسی موزوں زہر کا پیسٹ یا سپرے کریں۔
پودے کے تنے کی چھال جہاں سے سیاہ گوند نکل رہی ہو یا کالی ہو یا گلی ہوئی ہو وہاں پر احتیاط سے چھال کو چھیل کر مندرجہ ذیل سرائیت پذیر زہروںمیں سے کسی ایک کا سپرے کر دیا جائےے ۔
ٹاپسن ایم 200 گرام فی100 لیٹر پانی یا
ڈیروسال 200 سی سی فی100 لیٹر پانی میں یا
سکور 50سی سی فی100 لیٹر پانی میں یا
ایلیٹ250 گرام فی 100 لیٹر پانی میں یا
مینکو زیب میٹا لکسل250 گرام100 لیٹر پانی میں یا
دیمک اور دوسرے کیڑوں مکوڑوں کے تدارک کے لئے کیڑے مار ادویات کا سپرے کریں۔
بٹو ر اور بیمار شاخوں کی کٹائی کے فوراََ بعد اوپر دی گئی کسی بھی ایک سرائیت پذیر زہروں میں سے ایک کا سپرے کریں۔
بیماری سے مکمل بچاو ¿ کے لئے ہر سال بتائی گئی سرائیت پذیر زہروںکے کم از کم تین سپرے ضرور کریں۔
پہلا سپرے                   فروری کے آخری ہفتہ میں
دوسرا سپرے                مئی یا جون میں
تیسرا سپرے برسات کے بعد(شاخ تراشی کے بعد)
زمین کا تجزیہ لازمی کروائیں اور متوازن کھادوں کا استعمال کریں۔
کھاد کو پودے کی عمر کے مطابق دو سے تین فٹ کے فاصلے پر ڈالیں۔
شدید حملے کی صورت میں:اس بات کی وضاحت نہایت ضروری ہے کہ اگر بیماری خوراک اور پانی کی نالیوں کے50 فیصد حصہ کو گلا چکی ہو تو کنٹرول مشکل ہو جاتا ہے اس کے بعد تقریباََناممکن ہو جاتا ہے۔
شدید حملے لی صورت میں مندرجہ ذیل تدابیر پر عمل کریں:
زیرزمین جاتے ہوئے تنے کے ساتھ زمین کو انتہائی احتیاط سے کھود کر بڑی متاثرہ جڑیں اس کی ننگی کریں کہ وہ کم سے کم زخمی ہوں۔
پھر ان ننگی جڑوںپر اوپر بتائی گئی سرائیت پذیر زہروں میں سے کسی ایک کا پیسٹ لگائیں یا سپرے کریں۔
پھرجڑوں پر ایک مٹی کی تہہ ڈالیں اور اس پر پتوں کی تیار کردہ یا گوبر کی گلی سڑی کھاد ڈال کر پھر اوپر ایک بار تہہ مٹی کی چڑھا دیں ۔
اوپر دی گئی سرائیت پذیر زہروں کا پندرہ دن کے وقفے سے دو سے تین سپرے اس طرح کریں کہ تنے کے گرد دو سے تین انچ تک دوائی والا پانی کھڑا ہو جائے۔
ضروری بات:اس بات کی طرف نشاندہی کرنا انتہائی ضروری ہے کہ یہ بیماری باغبان کی اپنے باغات سے سالہا سال کی بے تو جہی کا نتیجہ ہے اور مزید غفلت آم کے جلد مرجھاو ¿ کا باعث ہو گی لہذا پودوں کا مناسب وقفوں سے سال میں معائنہ کریں اور بیماری نظر آنے کی صورت میں سفارش کے مطابق فوری عمل کر کے اس کا تدارک کریں۔

آم کے باغات کیلئے اسپرے پروگرام
 اسپرے                     مرحلہ                                       مسئلہ                                                                          حل
 پہلا              بور نکلنے / منہ بننے کا عمل      بور سے زیادہ پھل لینے کیلئے 
دوسرا      25% بور نکلنے پر      انتھرا کنواز، پاڈری ملڈیو آم کا تیلہ ،مج
تیسرا      دانہ پھل بننے کا عمل      پاڈری ملڈیو آم کا تیلہ ،مج
چوتھا      دانہ پھل بننے کا عمل      انتھرا کنواز، پاڈری ملڈیو آم کا تیلہ ،سکیل ،رسولیاں بنانے والے کیڑے
پانچواں    جب ]پھل کا سائز مٹر کے دانے برابر ہوجائے  پھل کا کیرا
چھٹا     نئی منزل/ نئے شگوفے      پودوں کی صحت مند بڑھوتری
پیداوار : آہستہ بڑھوتری ، اوسط بڑھوتری چار میٹر سات سال میں۔
لکڑی کی خصوصیات :
دانہ : آپس جکھڑے ہوئے،بعض اوقات سیدھا،بناوٹ درمیانی عمدہ سے کھردری۔
رنگ : گیلی اور سخت لکڑی واضح صاف نہیں،بھوری سے بادامی مائل بران،سرخ مائل بران کھلی ہوئی،اسی طرح۔
کثا فت: sg 0.55 ۔ کلوریز کی مقدار 4600کلوریز فی کلو گرام
مظبوطی : مضبوط اور پائیدار
استعمال:پھل،lumber اور بناوٹ،chipboard،زیبائشی،پھل جب پکتا ہے تو قبض سے شفاءکی دوائی اور بیج تیز خشک اورvermifugeہیں،خوراک اور اچار،ایک مزیدار پھل،لکٹری تعمیرات میں استعمال ہوتی ہے۔


Malus domestica


نباتاتی نام:مالس ڈومیسٹک Botanical name: Malus domestica   
خاندان ©: روسیسی Family: Roseaceae
انگریزی نام : ایپل  Apple
دیسی نام:
ابتدائی مسکن(ارتقائ): درخت اس کے جنگلی پرکھا، الما، اب بھی پایا جاتا ہے جہاں مغربی ایشیا، میں شروع ہو
قسم: پت جھاڑ 
 شکل: تاج نما                                 قد:  3 سے 12 میٹر   پھیلا : فٹ
پتے: پتے باری باری ہیںایک 2 سے 5 پر وسیع طویل اہتمام سادہ ovals کے 5 سے 12 سینٹی میٹر اور 3-6 سینٹی میٹر (1.2-2.4 میں)
 پھولوں کا رنگ:              پھول آنے کا وقت:         
نیچے
پھل :
کاشت: بذریعہ بیج اور قلم
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:          
شاخ تراشی:
بیماریاں:

استعمال ©:

Malpighia glabra


نباتاتی نام:مالپجیا گلبرا        Malpighia glabra :Botanical Name
خاندان ©: مالپجیسی Family: Malpighiaceae
انگریزی نام: بارباڈوس چیری، ویسٹ انڈین چیری اور جنگلی کریپ مرٹل Acerola, Barbados Cherry, Wild Crapemyrtle
دیسی نام:
ابتدائی مسکن(ارتقائ): جنوبی امریکہ، جنوبی میکسیکو، اور وسطی آبائی ہے امریکہ، لیکن اب بھی ٹیکساس کے طور پر اور اس طرح بھارت کے طور پر ایشیا کے ذیلی گرم مرطوب علاقوںمیں
قسم: سدا بہا ر
 شکل: جھاڑی دار                            قد: 15-10 فٹ   پھیلا : فٹ
پتے:  انچ لمبے  انچ چوڑے 
 پھولوں کا رنگ: گلابی                       پھول آنے کا وقت: خوشبو باداموں لی مہک کی طرح ہوتی ہے
پھل :
کاشت: نیم سخت لکڑی کی قلم سے cuttings سے ۔layering سے (گُٹی باندھنا)
جگہ کا انتخاب:گرم علاقوں میں پایا جاتا ہے۔دھوپ پسند کرتا ہے اور درمیانہ سایہ برداشت کر سکتا ہے جزوی سایہ۔. زرخیز، nematode سے پاک زمین۔ اور نمکیات برداشت نہیں کرتا ۔
نمایاں خصوصیات: سجاوٹی پھل سجاوٹی بلومز، پُر کشش باڑہے ، Accent درخت یا جھاڑی، patio پلانٹ کے طور پر گراو ¿نڈکور کے طور پر ، بڑے پیمانے پر پودے لگانے کے لئے(ماس پلانٹنگ) ۔یہ بڑی عمارتوں کے لئے ایک بنیاد کے ساتھ ساتھ لگانے کے لئے موزوں ہیں
شاخ تراشی:
بیماریاں:
پیداوار:سست رفتار سے بڑھتا ہے۔

استعمال ©: ٹراپیکل پھل دارجھاڑی یا چھوٹا درخت ہے ۔یہ بھی وٹامن A، B1، B2، اور B3، کے طور پر بھی اہم nutritive فراہم کرتے ہیں اور ینٹیآکسیڈینٹ بھی مہیا کرتے ہیں۔ جس میں carotenoids اور بوفلاوونوادس شامل ہے،وٹامن سی سے بھر پور ہوتا ہے ۔