Monday, 20 February 2017

Ravenala madagascariensis بنانا پالم


نباتاتی نام : روینیلا مڈغاس کیری انسس Botanical Name:Ravenala madagascariensis 
خاندان ©: موزیسی Family:Musaceae 
انگریزی نام: بنانا پالم،ٹریولرز پالم Banana palm, Travellers palm 
دیسی نام: 
ابتدائی مسکن(ارتقائ):
قسم:سدا بہار 
شکل: قد:8-10 میٹر 
پھولوں کا رنگ: پھول آنے کا وقت:بریکٹ نومبر میں کھلتی ہے ۔
کاشت:بیج 
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات: Bract beauty,
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:



Randia Uliginosa الو


نباتاتی نام:رانڈیا الگنوسا Randia Uliginosa Botanical Name:
خاندان ©:روبائیسی Family: Rubiaceae 
انگریزی نام: رانڈیا Randia 
دیسی نام: الو Olwo
ابتدائی مسکن(ارتقائ):
قسم:پت جھاڑ
شکل: قد: 0 30.2فٹ پھیلاﺅ 20.15 فٹ
پتے:5.3انچ لمبے اور دو انچ چوڑے بیضوی اور لمبوترے۔نوکیں گول۔واحد پتے۔
 پھولوں کا رنگ: ملائی سفید واحد پھول6.5پنکھڑیاں خوشبودار۔ پھول آنے کا وقت:
پھل دو انچ لمبا جس میں بیج ہوتے ہیں،پھل کھایا جاتا ہے۔
کاشت:بیج سے۔ یہ درخت مرطوب جگہ پر خوش رہتا ہے ،ان چھوٹے چھوٹے کانٹے ہوتے ہیں۔
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:پھل رنگوں میں رنگ گہرا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ دوسری سبزیوں کے ساتھ ملا کر پکا یا جاتا ہے۔دستوں کی بیماری کی دوا بنتی ہے۔کچا پھل مچھلی کے لیے زہر ہے۔


Quercus semicarpifolia بنجر


نباتاتی نام :کر کس سیمی کارفولیا Botanical Name: Quercus semicarpifolia
خاندان ©: فاگیسی Family: Fagaceae  
انگریزی نام: براو ¿ن اوک Brown Oak 
دیسی نام: بنجر Banjar
ابتدائی مسکن(ارتقائ):پاکستان،بھارت،افغانستان اورنیپال۔
قسم: پت جھاڑ  ، سدا بہا ر 
 شکل: قد: 30-25میٹر   پھیلاﺅ : 1 میٹر
پتے: پتے 12-5 سینٹی میٹر لمبے،اور7-2.5 سینٹی میٹر چوڑے،بیضوی ،لمبوترے،بغیر بالوں کے اور چھال گہری سبز ،اوپر سے زنگ آلود یا بھوریtomentous نیچے سے، چھال سیاہ خاکستری۔
 پھولوں کا رنگ: پھول آنے کا وقت: مئی اور جون۔نر پھول( catkins) کیٹ کنز 15-5 سینٹی میٹر لمبا،مادہ پھول چھوٹی میخوں کی طرح۔
پھل : پھل ایک واحد acron اوہے ،2.5ر سخت سینٹی میٹر قطر میں۔پھل جولائی اور اگست کے درمیان پکتا ہے۔
کاشت:بیج , 
جگہ کا انتخاب:یہ درخت مرطوب درجہ حرارت اور آب و ہوا کو ترجیح دیتا ہے۔بارش کی حد 1100 ملی میٹر سالانہ۔سطح سمندر سے بلندی 3800-2500 میٹر 
نمایاں خصوصیات:
شاخ تراشی:
بیماریاں:کیڑوں اور بیماریوں کے بارے میں نہیں جانا گیا۔
پیداوار: آہستہ بڑھوتری ، 
لکڑی کی خصوصیات 
دانہ : بنددانہ
مظبوطی :مضبوط
استعمال ©:چارہ ،جلانے کی لکڑی اور چارکول۔

Friday, 10 February 2017

Quercus incana رین


نباتاتی نام:کرکس انیکا Botanical Name: Quercus incana Roxb
خاندان ©: فاگیسی Family: Fagaceae  
انگریزی نام: وائٹ اوک  White oak
دیسی نام: رین Rein
ابتدائی مسکن(ارتقائ):پاکستان،بھارت،نیپال اور بالائی برما۔پاکستان میں ہمالیہ کی پہاڑیوں مجموعی طور پر سوات ،ہزارہ،مری کے پہاڑ اور آزاد کشمیر میں پایا جاتا ہے۔
قسم: سدا بہا ر 
 شکل: تاج نما،گول قد: 24-18 میٹر   پھیلاﺅ : 1.0-0.8 میٹر
پتے: پتے سادہ ہیں۔لمبوترے اور بیضوی،15-6 سینٹی میٹر لمبے،چھال بھوری ہے چمکدار بھوری،چھال جب جوان ہو تو چاندی رنگ کی ہوتی ہے جب چھا اترتی ہے تو برف کے گولوں کی طرح گول ہوتی ہے 
 پھولوں کا رنگ: پھول آنے کا وقت: اپریل اور مئی۔یہ ایک نر پھول بید مجنوں اور صنوبر کے غنچے اور پھول بالیاں خوشوں میں لٹکے ہوئے14-6 سینٹی میٹر لمبے،مادہ پھول اکیلے2-1سینٹی میٹر لمبے۔ ہیں14-6سینٹی میٹر لمبے،مادہ پھول اکیلا 2-1سینٹی میٹر لمبا
پھل : پھل بلوط جیسا میوہ دار سخت قطر میں پھل2.5 سینٹی
 میٹر،پل نومبر تا جنوری تک رہتا ہے۔
کاشت:بیج , اور غیر جنسی طریقے دونوں سے،۔ یہ پھل سخت پوست میوہ،تنہا،اگاﺅ کم ہے اور سٹور کافی مشکل ہے۔ 
جگہ کا انتخاب:ایک اعتدال غیر روادار درخت جو گہری،زرخیز،نیم ،اچھی نکاسی والی زمینوں پر اگتا ہے اور نیم سائے والی جگہ کو ترجیح دیتا ہے۔بارش کی حد 2300-1000 ملی میٹر سالانہ یا اس سے زیادہ۔مرطوب،نیم مرطوب ،ٹھنڈی آب و ہوا کو ترجیح دیتا ہے درجہ حرارت منفی35-10 ڈگری سینٹی گریڈسطح سمندر سے بلندی 2400-1600 میٹر۔
نمایاں خصوصیات:جھاڑی آسانی سے بنا لیتا ہےshoot may be heavily browsed.
شاخ تراشی: 
بیماریاں:
پیداوار: آہستہ بڑھوتری ، 10 cm قطر تیس سالوں میں۔
لکڑی کی خصوصیات 
دانہ :سیدھا ،بہت عمدہ،عموار لچکدار،کھردرہ کم،
رنگ :سخت لکڑی سرخ مائل براﺅن،
کثا فت: sg o.97 ۔ کلوریز کی مقدار 4600کلوریز فی کلو گرام 
مظبوطی :سخت،بھاری اور لچکدار.
استعمال ©:ایندھن،دستے،زرعی آلات،چارہ،چارکول اور (Tannin)چمڑا رنگنے کے لئے۔ 




Quercus glauca بانی


نباتاتی نام :کرکس گو لاکا Botanical Name: Quercus glauca Thurb
خاندان ©: فاگیسی Family: Fagaceae  
انگریزی نام: برین اوک  Barin Oak
دیسی نام: بانی Banni
ابتدائی مسکن(ارتقائ):پاکستان،بھارت،افغانستان اورنیپال۔
قسم: سدا بہا ر 
 شکل: قد: 20 میٹر   پھیلاﺅ : 75 سینٹی میٹر 
پتے: پتے لمبوترے،نوکدار10 سینٹی میٹر لمبا،اور 3 سینٹی میٹر چوڑا،چھال ہموار اور خاکستری رنگ کی ہوتی ہے۔ 
 پھولوں کا رنگ: پھول آنے کا وقت: مارچ اور اپریل۔نر پھول catkins ہیں اور مادہ پھول چھوٹے بغلیPedunder ۔
پھل : پھل بلوط اور nut ،قطر میں2 سینٹی میٹر ۔
کاشت:بیج 
جگہ کا انتخاب:نیم اور پہاڑی نالوں کے اردگرد والی جگہوں کو ترجیح دیتا ہے اورمنجمنددرجہ حرارت سردیوں میں ،بارش کی حد 900 ملی میٹر سالانہ سطح سمندر سے بلندی 2000-800 میٹر
نمایاں خصوصیات:
شاخ تراشی:
بیماریاں:کیڑوں اور بیماریوں کے بارے میں نہیں جانا گیا۔
پیداوار: آہستہ بڑھوتری ، 
لکڑی کی خصوصیات 
دانہ : بنددانہ
رنگ : سیاہ
کثا فت: سخت 
مظبوطی :بہت مضبوط اور پائیدار۔
استعمال ©:ایندھن،چارہ اور عمارتی لکڑی۔

Quercus dilatata بارونجی


نباتاتی نام :کرکس ڈیلاٹا  Botanical Name: Quercus dilatata Royle
خاندان ©: فاگیسی Family: Fagaceae  
انگریزی نام:  
دیسی نام: بارونجی  Barunji
ابتدائی مسکن(ارتقائ):پاکستان ،بھارت اور افغانستان ۔پاکستان میں ہمالیہ کی پہاڑیوں پر اور خاص طور پردیر،چترال،سوات،ہزارہ ،تیرہ اور کُرم ایجنسی،مری کے پہاڑ اورآزاد کشمیرکے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
قسم: سدا بہا ر 
 شکل: تاج نما قد: 30-24 میٹر   پھیلاﺅ : 1.5-1.7 میٹر 
پتے: پتے سادہ ہیں کنارہ سے ہموار 12-4 سینٹی میٹر لمبے 
 پھولوں کا رنگ: پھول آنے کا وقت: اپریل اور مئی۔نر پھول katkins اور گروپوں میں لٹکے ہوئے5-3 سینٹی میٹر لمبے،مادہ پھول چھوٹے گروپوں میں ہوتے ہیں 
پھل : پھل بلوط اور nut ،قطر میں2.5 سینٹی میٹر ،پھل مئی اور اکتوبر میں پکتا ہے،pollination) ) پولینیشن 1 سال بعد پھل لگتا ہے۔
 کاشت:بیج , اور غیر جنسی طریقے دونوں سے،۔ اس کا اگاﺅ بہت کم ہے ۔
جگہ کا انتخاب:ایک اعتدال اور غیر روادار درخت جو سائے میں کھڑا ہو سکتا ہے اور مرطوب oaks پر زیادہ اچھا اگتا ہے یہ گہری ،زرخیز ،اور اچھی نکاسی والی اور نیم سائے والی جگہوں کو ترجیح دیتا ہے بارش کی حد 1200-500 ملی میٹر سالانہ یا اس سے زیادہ۔مرطوب اور نیم مرطوب ٹھنڈا آب و ہوا کو ترجیح دیتا ہے درجہ حرارت منفی 35-20ڈگری سینٹی گریڈ،سطح سمندر سے بلندی 2900-1600 میٹر
نمایاں خصوصیات:جھاڑی آسانی سے بنا لیتا ہے۔
شاخ تراشی:
بیماریاں:
پیداوار: آہستہ بڑھوتری ، اوسط MAI 0.4 cm کیو بک میٹر فی ہیکٹر سالانہ قطر بڑھوتری 0.75m پانچ سالوں میں،3mپندرہ سالوں میں،
لکڑی کی خصوصیات 
دانہ: ہموار لچکدار،بیت عمدہ ،سیدھا
رنگ : گیلی لکڑی بھوری اور سخت لکڑی سرخ مائل بھوری کیساتھ سیاہ لہر دار،
کثا فت: sg 0.95 ۔ کلوریز کی مقدار 4900کلوریز فی کلو گرام 
مظبوطی :سخت،بھاری اور لچکدار.
استعمال ©:ایندھن،دستے،زرعی آلات،چارہ ،چارکول، (Tannin)چمڑا رنگنے کے لئے اوربرف پہ پھسلنے والی گاڑیاں۔





Quercus baloot بونج

نباتاتی نام :کرکس بلوٹ Botanical Name: Quercus baloot Griff.
خاندان ©: فاگیسی Family: Fagaceae  
انگریزی نام: ہولی اوک  Holy Oak
دیسی نام:بونج  Bunj
ابتدائی مسکن(ارتقائ): پاکستان ،بھارت اور افغانستان ۔پاکستان میں ہمالیہ اور ہندوکش کی پہاڑیوں پور اور خاص طور پر دیر،چترال،سوات،ہزارہ ،تیرہ اور کُرم کے علاقوں میں پایا جاتا ہے۔
قسم: سدا بہا ر 
 شکل: قد: 12-2 میٹر   پھیلاﺅ : 0.6-0.5 میٹر 
پتے: پتے سادہ ہیں اور کنارے ہموار یا دنددانوں والے ہوسکتے ہیں ،چھال کھردری اور ہلکی خاکستری کے ساتھ سیاہ۔
 پھولوں کا رنگ: پھول آنے کا وقت: اپریل اور مئی۔نر پھول katkins اور گروپوں میں لٹکے ہوئے5-3 سینٹی میٹر لمبے۔اور مادہ پھول
گروپوں ہوتے ہیں 4-2 سینٹی میٹر لمبے
پھل : پھل بلوط اور nut ،قطر میں 1.3-1.2 سینٹی میٹر،pollination) ) پولینیشن کے 18-12 ماہ بود پھل لگتا ہے۔
کاشت:بیج , اور غیر جنسی طریقے دونوں سے،۔ یہ پھل ایک سخت پوست کا میوہ ہے تنہا اور اسے سٹور نہیں کیا جاتا ۔
جگہ کا انتخاب:ایک اعتدال غیر روادار درخت جو مختلف قسم کی خشک پتھریلی اور بارانی زمینوں پر بڑھتا ہے۔بارش کی حد 1000-200 ملی میٹر سالانہ یا اس سے زیادہ۔نیم مرطوب،نیم بارانی(mediterranean) آب کو ترجیح دیتا ہے درجہ حرارت منفی 35-20 ڈگری سینٹی گریڈ۔سطح سمندر سے بلندی 3000-1500 میٹر۔
نمایاں خصوصیات:جھاڑی آسانی سے بنا لیتا ہے۔       شاخ تراشی:
بیماریاں:
پیداوار: آہستہ بڑھوتری ، اوسط MAI 0.25 cm کیو بک میٹر فی ہیکٹر سالانہ ،اور ایک سیزن میں قطر پیداوار25cm ہے۔
لکڑی کی خصوصیات 
دانہ :سیدھے سے بہت عمدہ،ہموار لچکدار۔
رنگ :سخت لکڑی سرخ سے سرخ مائل براﺅن۔
کثا فت: sg 0.94 ۔ کلوریز کی مقدار 5100کلوریز فی کلو گرام 
مظبوطی :سخت،بھاری اور لچکدار.
استعمال:ایندھن،دستے،زرعی آلات ،چارہ ،چار کول اور Tannin ۔

Thursday, 9 February 2017

Pyrus communis ناشپاتی

نباتاتی نام : پائرس کمیونس Botanical Name:Pyrus communis 
خاندان ©: روزیسی Family:Rosaceae 
انگریزی نام: پیئر Pear 
دیسی نام: ناشپاتی Nashpati 
ابتدائی مسکن(ارتقائ): یورپ 
قسم:پت جھاڑ 
شکل: قد:7-12 میٹر 
پھولوں کا رنگ:سفید پھول آنے کا وقت: اپریل تا مئی 
کاشت:پیوند کاری اور بڈنگ ، بیج اکتوبر تا دسمبر پکتے ہیں 
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:
  پھلدار پودوںکی کاشت
( ناشپاتی)
اللہ رب العزت نے پاک دھرتی کو زرخیز مٹی،وسیع و عریض نہری نظام پہاڑوں اور ساحلوں کے طویل سلسلوں کے ساتھ ساتھ چار خوبصورت موسم اور ان کے بہترین امتزاج کی نعمتوںسے نواز رکھا ہے۔فطرت کی ان رعنائیوں کی بدولت دھر تی ا نواع و اقسام کے پھلوں کیلئے جنت نظیر ہے۔ہمارے ملک میں باغات کا کل رقبہ تقریباً16.4 لاکھ ایکڑ ہے جبکہ پیداوار 6 لاکھ ٹن کے قریب ہے باغات سے حاصل ہونے والے پھل اور میوہ جات ہماری غذاکو متوازان بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ولڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی سفارشات کے مطابق متوازن غذا کے حصول کے لئے فی کس تقریباً450 گرام روزانہ پھلاور سبزی کا استعمال ضروری ہے لیکن ہمارے ملک میں یہ استعمال 200 گرام کے لگ بھگ ہے چونکہ ہمارے ہاںباغات کا رقبہ اور پیداوار تسلی بخش نہیں ہے۔اس لئے پھل کا استعمال عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔حالانکہ ہمارے ہاں باغات کی منافع بخش کاشت کیلئے کافی گنجائش موجودہے۔ہم اس کتابچہ میںکاشتکاربھائیوںکی راہنمائی کیلئے چند اہم پھلوں کے جدید زرعی عوامل بیان کر
 رہے ہیں تاکہ وہ اپنے باغات کی بہتر نگہداشت سے منافع پیداوار لے سکیں۔عوامل حسبِ ذیل ہیں
۰ پھلوں کیلئے موزوں آب وہوا ۰ زمین کا انتخاب
۰ ا فزائشِ نسل کا صحیح وقت اور طریقہ ۰ شاخ تراشی
۰ کھادوں کا متوازن استعمال ۰ آ بپاشی کی صحیح منصوبہ بندی
۰ کیڑوں اور بیماروں کا تدراک ۰ بروقت برداشت
  موزوں آب وہوا
باغات کی منصوبہ بند ی کیلئے آب وہوا کو مدِنظررکھنا ضروری ہے تاکہ صحیح طورنشوونماپائیںاور لمبے عرصہ تک بہتر پیداوار دے سکیں۔آب وہوا کا لحاظ رکھے بغیر باغات کی بیل ایک لا حاصل کوشش ہے اس کتابچہ میں درج پھلوں کی بہترنشوونماکیلئے مندرجہ ذیل علاقے اورآب وہوا زیادہ موزوں تصور کیے جاتے ہیں لٰہذا کاشتکاربھائی پھلدار پودوں کی منصوبہ بندی اس لحاظ سے کریں
 پھلدار پودے موزوں آب وہوا علاقہ جات
ناشپاتی       پاکستان کے پہاڑی علاقے جہاں شدید سردی پڑتی ہے   کشمیر، مری ،ہزارہ،سوات،چترال،پارہ چنار ،پشاور اور کوئٹہ و قلات کے
        بعض اقسام گرم علاقوں میں بھی کاشت کی جاتی ہے۔    بالائی علاقے
     زمین کا انتخاب
پھلدار پودوں کی کامیاب کاشت کیلئے بہتر نکاس والی ،گہری اور سیم وتھور سے پاک زمین کا انتخاب کریںچونکہ پھل دار پودوں کی جڑیں گہرائی تک پھیلتی ہیں لٰہذا زیرِ زمین کوئی چٹان کنکر وغیرہ نہ ہوں جو جڑوں کی نشوونما میں رکاوٹ پیدا کریں۔باغات مختلف اقسام کی زمینوں پر کاشت ہوتے ہیں تا ہم بہتر نشوونما کیلئے میرا زمین تصور کی جاتی ہے۔
ّآجکل بلوچستان اور کئی دیگروعلاقوں میں کاشتکار پھلدار پودوں کو لگاتے وقت گہرائی تک مٹی بدل دیتے ہیں۔مذکورہ پھلوں کیلئے موزوں زمین اور اس کا انتخاب حسب ِ ذیل ہیں

پھل            موزوں زمین
بادام گہرائی تک بہتر نکاس والی میرا زمین موزوں ہوتی ہے اس کیلئے بھاری اور کم نکاس والی زمین موزوں ہوتی ہے تاہم کوئٹہ،کشمیر
وغیرہ میں پتھریلی زمینوں میں کامیابی سے کاشت ہورہا ہے

ناشپاتی گہری زرخیزبہتر نکاس والی گہری ریتلی میرا زمین زیادہ بہتر ہوتی ہے یہ اساسی اور سیم زدہ
زمینوں میں جہاں دیگر پھلوں کی کاشت
کامیاب نہ ہو کاشت کی جا سکتی ہے
کاشتکار بھائیوں کو چاہیے کہ باغات کی منصوبہ بندی میں زمین انتخاب کو خاص اہمیت دیں کیونکہ باغات کی کامیابی کیلئے موزوں زمین بہت ضروری ہے ورنہ تمام کاوشیں بے سود اور لا حاصل ہونگی
ترقی دادہ اقسام
باغات کی بہتر منصوبہ بندی کے لئے ترقی دادہ اقسام کی کاشت اور انتخاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے درج ذیل پھلدار پودوں کے لئے ترقی دادہ اقسام ہیں۔
ناشپاتی: سمر قندی،لوکل پیر،لی کونٹی پیر،بیتنگ،چائنیز،ویلم،بارلیٹ،فورٹلٹی، کلیپس فیورٹ،کیفر،کومس،ہارڈی وغیرہ مشہور اقسام ہیں

    افزائش نسل
باغات کی افزائش نسل کے مختلف طریقہ کار ہیں جن میںمندرجہ ذیل طریقے متذکرہ پھلوں کے باغات لگانے میں معاون ہو سکتے ہیں
ؓبیج کے ذریعے افزائش:بیج سے باغات کی افزائش نسل قدرتی طریقہ کار ہے ،لیکن اس طریقہ سے لگائے پودے صحیح النسل نہیں رہتے۔باغات میں یہ طریقہ کار ان پودوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن کی افزائش بذریعہ چشمہ یا پیوند موزوں نہ ہو۔اس کے علاوہ بیج کے ذریعےاچھا روٹ سٹاک تیار کرتے ہیں جس پر پیوند کاری سے اعلٰی قسم کے پودے حاصل ہو سکتے ہیں بیج کے زریعے افزائش کے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
1۔ بیج صحت منداور صحیح النسل پودوں کے اچھی طرح پکے ہوئے اچھی جسامت کے پھلوں سے حاصل کریں۔
2۔سدا بہار پودوں کے بیجوں کو زیادہ دیر تک سٹور نہیں کیا جاسکتا تا ہم اگر سٹور کرنا مقصود ہو تو ان بیجوں کو اچھی طرح دھو کر خشک کرکے بند ڈبوں میںخشک اور ٹھنڈی جگہ پر سٹور کریں۔
3۔کچھ بیج سخت جان ہوتے ہیں جن کا اگاو ¿ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے ایسے بیجوں کو بونے سے قبل ریت کی مختلف تہوں میں مناسب نمی میں ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔

4 ۔بعض اقسام کے بیجوں کو بونے سے قبل 24 گھنٹے تک بگھو کر کاشت کریں۔
داب کا طریقہ: اکثرباغات کی افزائش بذریعہ داب کی جاتی ہے۔خاص طور پر ان باغات کی جن کی افزائش دیگرطریقوں مثلاً قلم وغیرہ سے
 کامیاب نہ ہو۔اس طریقہ میں مادر پودے کی شاخ سے جڑیں پیدا کرتے ہیں اور پھر بعد میں الگ کر کے باغ میں منتقل کر دیتے ہیں داب موسم
بہار یا برسات میں لگائی جاتی ہے ۔داب لگانے کے مندرجہ ذیل طریقے ہیں۔
 1 ۔ سادہ داب: اس طریقہ میں مادر پودے سے زمین کے قریب ایک شاخ بغیر توڑے جھکا کر زمین میں دبا دیتے ہیں۔شاخ کا وہ حصہ جس کو
زمین کے اندر دبانا
مقصود ہو اس پر ایک ترچھا کٹ آنکھ کے نیچے شاخ کی موٹائی کے نصف حصہ تک دیتے ہیں۔اس کٹے ہوئے حصے کو جڑ نے سے بچانے کے لیے اس مین وہ پتھر وغیرہ
دے دیتے ہیں۔اور یہ حصہ مٹی کے اندر3-4 انچ گہرائی میں دبا رہتا ہے ۔مٹی کو مناسب گیلا رکھا جائے تا کہ کٹے ہوئے حصہ سے جڑیں نمودار ہو جائیں جسے بعد میں
 مادر پلانٹ سے الگ کر کے گملے یا باغ میں لگا دیا جاتا ہے
2  ۔ہوائی داب: اس طریقہ میں ایک صحتمد زیادہ ٹہنی لے کر اس کی آنکھ یعنی (Bud)کے نیچے 1 1/2 انچ چوڑی رِنگ نما چھال اتار دیتے ہیں۔یہ عام
سا کٹ دیتے ہیں پھر اس کے کٹے ہوئے حصہ میں پتھر دے کر اس کے گرد چکنی مٹی،راکھ یا لکڑی کا برادہ اور مٹی کا مرکب بنا کر باندھ دیتے ہیں اس کا اوپر کے برتن
کے ذریعے قطرہ قطرہ پانی دیتے ہیں یا پھر تیز گیلی مٹی کے گرد پٹ سن کا کپڑالپیٹ کر اسے تر رکھتے ہیں۔کچھ عرصہ بعد اس میں جڑیں نکل آنے کے بعد میں مادر
پودے سے الگ کر دیا جاتا ہے۔
قلم کا طریقہ: بعض پھلوں کی افزائش جڑوں یا شاخوں کی قلمیں لگا کر کرتے ہیں ۔لیکن اس طریقہ میں کامیابی کی شرح بہت کم ہے جسے
تجارتی پیمانے پر زیادہ استعمال نہیں کرتے ہیں ۔قلمیںعموماً 25 سے 30 سینٹی میٹر لمبی صحتمند شاخ سے جس پر کم از کم 4 سے زائد آنکھیں ہوں
منتخب کریں۔ان قلموں کا 2/3 حصہ باہر رہے۔زمین کو نمی یعنی گیلا رکھیں۔کچھ عرصہ بعد یہ قلمیں پھوٹ آتی ہیںجنہیں بعد میں منتقل کر دیا جاتا ہے
اسی طرح -10 25 سینٹی میٹرلمبی جڑیں بھی منتخب کرکے انہیں اچھی طرح تیار کیاروں میں زمین کے متوازی دبا دیتے ہیں قلم کا طریقہ عموماً باغبان اچھے روٹ سٹاک بنانے کیلئے

استعمال کرتے ہیں
بذریعہ چشمہ: یہ طریقہ نسبتاً آسان اور وسیع پیمانے پر پھلوں کی افزائش کیلئے استعمال ہو رہا ہے اس طریقہ میں شاخ کا ایک چھوٹا چشمہ واحصہ یا چشمہ اتار کر روٹ سٹاک پر لگا دیتے ہیں اس میں دو طریقے زیادہ مقبول ہیں۔
(1 ) ٹی بڈنگ یا شیلڈ بڈنگ  (2)رنگ بڈنگ
اس طریقہ میں رواں سال کی شاخ کے چشمے والے حصہ 1/2 انچ نیچے چھال تک تیز چاقو سے تار کر پھر روٹ سٹاک پر اسی طرح کا کٹ دے کر
اس
پر لگا دیں اور آنکھ کے دونوںا طرف اچھی طرح باندھ دیں اس حصہ کو گیلا رکھیں کچھ عرصہ بعد دونوں حصوں کی چھال آپس میں مل جائے گی روٹ سٹاک
کی باقی شاخیں چشمہ کی کامیابی پر رکاوٹ دیں۔ بڈنگ یا چشمہ روٹ سٹاک پر زمین کے قریب لگائیں۔
گرافٹنگ یا پیوند کاری: اس طریقہ ایک پودے کی وہ شاخ جس پر دو یا تین آنکھیں ہوں اسے روٹ سٹاک پر لگا دیتے ہیں۔اس طریقہ میں سائن اور سٹاک کا مشابہہ ہونا بہے ضروری ہے۔گرافٹنگ کے مختلف طریقے رائج ہیں مثلاًکلفٹ گرافٹنگ،وِپ گرافٹنگ،برجگرافٹنگ وغیرہ
اس کتابچہ میں درج پھلدار پودوں کی افزائش کیلئے مندرجہ ذیل طریقے اپنائے جاتے ہیں۔

پھل           روٹ سٹاک          افزائش کے طریقے
ناشاپاتی          جنگلی ناشاپاتی (بتنگ وامرت)        بڈنگ و گرافٹنگ

باغات کی داغ بیل
¿ ¿1) ( باغات لگانے کا طریقہ:ہمارے ہاں کے کئی ایک طریقے مثلاً مربع ،مستطیل نما طریقہ شش پہلو طریقہ
 وغیرہ لیکن ان تمام طریقہ کار میں باغ لگانے کا مربع طریقہ کار زیادہ مقبول ہے کوکیونکہ یہ طریقہ نسبتاًآسان ہے۔اس طریقہ میں پودے مربع کے
کونے پر لگائے جاتے ہیں اس طرح پودے سے لائن اور لائن کا فاصلہ یکساں رہتا ہے۔اور پودے کھیت کے تمام کونوں پر اس طرح لگ جاتے ہیں
کہ ان کے درمیان ہو ا اور روشنی گزرنے کے علاوہ آلات کاشتکاری بھی آسانی سے استعمال ہوسکتے ہیں اور کھیت میں کوئی جگہ خالی نہیں رہتی
تاہم کتابچہ میں درج دیگر پھلوں کے علاوہ انگور کی بیل لگانے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے مثلاً(کھائی کا Trench سسٹم) یا تا گر کاطریقہ وغیرہ۔

2)) پودےx پودے اور لائن x لائن کا فاصلہ:پوددں کے درمیانی فاصلے کا انحصار کئی عوامل پر ہے مثلاً پھلدار پودا اور اسکی اقسام ،آب وہوا زمین کی زرخیزی، پانی کی دستیابی، زمین کی قیمت ،اور تیار شدہ مکمل پودے کا سائز وغیرہ اس کتاب میں متذکرہ پھلوں کیلئے مندرجہ ذیل فاصلہ سفارش کیا جاتا ہے۔
 ناشپاتی کیلئے(16x16 سے 24x24 فٹ تک)
(3) گڑھے کھودنا:مندرجہ بالافاصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے پودوں کی نشاندہی کریں نیز نشان والی جگہ پر 3x3x3x فٹ کے گڑھے بنائیں ۔
گڑھے کھودتے وقت اوپر کی ایک فٹ کی مٹی علٰیحدہ رکھ لیں اور گڑھوں کو 10 سے15 روز تک ہوا اور دھوپ کیلئے چھوڑ دیں تاکہ بیماری پیدا کرنے والے جراثیم اور ضرر رساں
کیڑے ختم ہو جائیںبعد ازاں اوپر والے ایک فٹ کی مٹی میں یکساں نسبت سے بھل اور گوبر کی گلی سڑی کھاد ملا کر گڑھے بھر دیں اور پانی لگائیں بعض کاشتکار ان گڑھوں میں ایک ایک مٹھی سونا یوریا،ڈیم اے پی اور پوٹاش بھی ملاتے ہیں تاکہ پودوںکو شروع سے ہی اچھا آغاز دیا جاسکے۔
(4)پودوں کا انتخاب: کاشتکار بھائی باغات کیلئے پودوں کے انتخاب میں مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں
1  ۔پودے ہمیشہ با اعتماد نرسریوں سے خریدیں جن میں کیڑوں اور بیماریوں کے تلف کرنے کے اقدامات کیے گئے ہوں۔
2 ۔پودے کا قد 2 سے 2 1/2 فٹ اور درمیان سے تنے کا قطر نصف انچ ہونا چائیے۔
3۔پودے کا تنا سیدھا اور زمین سے پیوند کا فاصلہ 9سے 12انچ رکھیں۔
4 ۔پودے کے پتے گہرے سبز چمکدار اور داغ دھبوں اور زخموں سے پاک وصاف ہوں نیز تنے پر5-4 شاخیں چھتری نما ہوں۔
5 ۔پودوں کو اکھاڑنے سے پہلے کچھ دیر پہلے فالتو شاخیں تراش دیں تا کہ پتوں سے زائد نمی خارج نہ ہو سکے۔
(5) پودے لگانے کا موسم:پودے کگانے کے دو موسم ہیں موسم بہار اور موسم برسات
(الف) موسم بہار: اس موسم زیادہ تر پت جھڑ والے پودے نئی کونپلیں نکلنے سے پہلے یعنی جنوری تا فروری کے پہلے ہفتہ تک لگائے جاتے ہیں جبلہ سدا 
بہار پودے پندرہ فروری سے آخر مارچ تک لگادینے چاہیے۔
(ب) موسم برسات:موسم بہار کے علاوہ سدا بہار پودے یعنی برسات یعنی جولائی۔اگست میں لگانا زیادہ بہتر ہے۔
 کھادوں کا متوازن استعمال
پھلدار پودوں کی کھاد ضروریات دیگر اجناس سے مختلف ہوتی ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں باغات میں کھادوں کے متوازن استعمال کی طرف
کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہان باغات میں کھادوں کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے اگر ہے بھی تو غیر متوازن

ہے چنداقسام کے پھلوں تک محدود ہے مثلاً آم،ترشاوہ پھل اور کیلا وغیرہ۔کھادوں کے غیر متوازن استعمال کی وجہ باغات کی پیدا وار اور آمدن حوصلہ شکن ہے جو باغات کے فروغ  میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، لٰہذا کاشرکار بھائیوں کو شاہیے کہ وہ باغات میں کھادوں کی باقاعدہ
منصوبہ بندی تجزیہ اراضی کی بنیاد پر کریں۔اس ضمن میں ایف ایف سی کی جدید کمپیوٹرائزڈ لیبارٹیوں سے مفت تجزیہ کروائیںتاہم اگر تجزیہ نہ 
کرواسکیں تو مندرجہ ذیل عوامل کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔
1۔باغات میں گوبر کی کچی تازہ کھاد ڈالیں کیونکہ اس سے دیمک کا اندیشہ ہوتا ہے ہمیشہ اچھی طرح گلی سڑی گوبر والی کھاد استعمال کریں۔
 ۔کھاد ڈالنے سے قبل تنوں کی چھتری کے نیچے تنے ایک فٹ دور بکھیریں گوڈی سے زمین میں ملا دیں نیز اس کے بعد فوراً بعد پانی لگائیں۔

پھل   عمر  گوبر کی کھاد  کمیائی کھادیں فی پودا (کلوگراموں میں )سالانہ      طریقہ استعمال
   (سالوں میں) (کلو گرام پودا) سونا یوریا  سونا ڈی اے پی  ایف ایف سی 
    ( ایس او پی)  پھل نہ دینے والے پودوں کیلئے گوبر کی کھاددسمبر میں جبکہ کیمیائی کھاد چار 
ّ 
 ناشپاتی 6 - 4   20    1    1/2   1/2   میں ڈالیں جبکہ آدھی مقدار سونا یوریا پھول آنے سے قبل فروری میں
   9 - 7    25   1 1/2   1    3/4   اور بقیہ آدھی مقدار پھل بننے کے بعد اپریل میں ڈالیں۔
  10سے زائد   30   2 1/2   1 1/2   2

نوٹ:۔ اجزائے صغیرہ کی کمی کو دور کرنے کیلئے 3کلو گرام سونا یوریا بوران اور 10 کلو گرام زنک سلفیٹ (% 21 ) فی ایکڑ استعمال کریں۔
            شاخ تراشی
پودا لگاتے وقت اس کی مطلوبہ شکل بنانے کی کوشش کریںبصورت دیگر بعد میں پودوں کی بڑھوتری یا پھیلاو ¿ اس قدر زائد ہو جاتا ہے کہ کاشتکار
کانٹ جھانٹ میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں اور یوں پودوں کی مناسب شکل اور صحیح پیداوار حاصل نہیںہوتی۔پھل توڑنے کے بعد موسم گرما

اور موسم سرما کے بعد پودوں کی بیمار سوکھی اور غیر ضروری شاخوں کو کاٹ دیں۔پت جھڑ والے پودوں میں ہر سال کانٹ چھانٹ ضروری ہوتی ہے اس
طرح ان پودوں میں پھوٹ یا شاخوں کو کاٹ کر اعلٰی معیار کا پھل حاصل کیا جا سکتا ہے یہ عمل پتے گرنے سے لے کر نئی پھوٹ آنے تک مکمل کریں۔
سدا بہارپودوں میں کم کانٹ چھانٹ کی ضرورت ہوتی ہے مندرجہ ذیل پھلدار پودوںکی شاخ تراشیاس طرح کریں۔
ناشپاتی:شاخ تراشی کا عمل نئی شاخوں تک محدود رکھیں نیز ٹوٹنے والی،الجھی ہوئی اور کمزور شاخیں بھی کاٹ دیں۔بڑی شاخوں کو بہت کم کاٹنا چاہئے۔

    آبپاشی
باغات کے لئے آبپاشی کی منصوبہ بندی میں کئی عوامل مدِنظر رکھے جاتے ہیں جن میں باغ کی عمر،پودے کی جسامت اور پتوں کا نظام،جڑوں کا نظام
موسمی حالات ،زمین کی کیفیت وغیرہ شامل ہیں۔باغات میں اس امر کا خیال رہے کہ 6 انچ سے نیچے زمین خشک نہ ہونے پائے۔ آبپاشی کے
وقفوں کے دوران صرف زمین کی اوپر والی سطح خشک ہونی چاہیے پودے کے اوپر والے پتے(کونپلیں)جونہی نیچے مڑنے لگیں فی الفور آبپاشی
کریں ۔لیکن اس بات کا خیال رہے کہ جب پودوں پر پھول آرہے ہوں تو اس وقت ہرگز پانی نہ دیں کیونکہ بار آوری متاثر ہوتی ہے نیز
پودوں کو کھاد کے بعد آبپاشی نہایت ضروری ہے ۔اس طرح سردی اور بارشوں میں پانی کا وقفہ زیادہ رکھیں تاہم کور اتارنے پر باغات کو کورے کے 
نقصان دہ اثرات سے بچانے کیلئے پانی دیتے رہیں۔
مزکورہ پودوں کے لئے آبپاشی کا شیڈول یہ ہونا چاہیے     
وقفہ آبپاشی(دونوں میں)  

ناشپاتی موسم گرما 10 - 8 ۔موسم سرما20 - 15 ۔ دیگر اوقات/ مراحل موسم زمین آب و ہوا کے مطابق نیز پھول لگنے لے وقت زائد آبپاشی سے گریز کریں۔ 

نقصان دہ حشرات اور بیماریوں سے تحفظ
منافع بخش باغبانی کے لئے نقصان دہ حشرات اور بیماریوں سے باغات کو بچانا بہت ضرروی ہے کیونکہ ان سے باغات کی آمدن 30 سے 35فیصد
تک کم ہو جاتی ہے۔صاف ستھرے اور بیماروں، کیڑوں کے حملہ سے بچے ہوئے پھل پر کشش اور زائد منافع دینے والے ہوتے ہیں۔اگرچہ
مختلف پھلدار پودوں کی بیماری اور نقصان رساں حشرات مختلف ہیں مندرجہ ذیل مفید تدابیر پر عمل پیرا ہو کر کافی حد تک ہمارے کاشتکار باغات 
کا تحفظ کر سکتے ہیں
۰بیمارویوں سے پاک صحتمند پودوں کا انتخاب کریں اور انہیں موزوں فاصلہ پر کھیت لگائیں۔
۰پودوں کی خوراک کی ضرورت کو صحیح پورا کریں نیز جڑی بوٹیوں اور گھاس پھوس سے باغات کو صاف رکھیں۔
۰باغات کی کانٹ جھانٹ کے دوران بیمار اور سوکھی شاخیں کاٹ دیں نیز بیمار پودوں کی جگہ پودے منتقل کریں۔
مندرجہ بالا عوامل کے علاوہ باغات کو نقصان رساں حشرات اور بیمارویوں سے تحفظ دینے کیلئے درج ذیل حکمت عملی اپنائیں
1 ناشپاتی 
2 پھل کی مکھی ڈپٹرکس گرام 100 لٹر پانی مین ملا کر سپرے کریں۔  تنے اور پتوں کا سیاہ ہونا ناشپاتی کا سکیب ڈائی تھین ایم یار ریڈومل یا ٹاپسن ایم میں سے کوئی ایک پھپھوندکش دوا 2 گرام فی لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔
ناشپاتی کا سلہ  ڈائی میکران 2 ملی لٹر فی لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔
بالوں والی سنڈی   لارسین (175 ملی لٹر) یا ٹیماران 120 ملی لٹر 100 لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں  نرم سٹراند وغیرہ تنوں کے متاثر حصوں پر بورڈ و مسکچر لگائیں
برداشت
ہمارے ہاں پھلوں کی پیداوار کا اچھا خاصا حصہ برداشت اور فرخت کے دوران بے احتیاطی اور لا پر واہی سے ضائع ہو جاتا ہے۔ پھلوں کی برداشت درجہ بندی اور فروخت کو خصوصی اہمیت دینی چاہیے۔اس ضمن میں ذیل میں دی گئی ہدایت پر عمل کریں
پھلوں کو نہ پکنے سے پہلے اور پکنے کے بعد دیر سے توڑیں کیونکہ کچے پھلوں میں تزابیت زیادہ ہوتی ہے جبکہ زیادہ پکے ہوئے پھل جلد گل سڑ جاتے ہیں لٰہذا پھلوں کو صحیح پختہ حالت،مناسب سائزاور صحیح رنگت کی حالت میں توڑیں۔
پھل توڑتے وقت یا اسے سٹور کرتے وقت یا منڈی میں لے جاتے وقت ضرب لگنے سے بچائیں۔کیونکہ ضرب لگنے سے پھل زخمی ہو کر گل سڑ
 جاتا ہے۔
ڈنڈی پھل کی سطح کے برابر قینچی سے کاٹیں۔
پھلوں کوصاف کرکے درجہ بندی کریں اور کریٹوں میں احتیاط سے کاغذ کی تہوں میں ہوا کی آمدورفت کا خیال رکھتے ہوئے پیک کریں اور صحیح جگہ فروخت کیلئے لے جائیں







Putranjiva roxburghii پٹاجن

نباتاتی نام : پترنجیوا روکسبر جائی Botanical Name:Putranjiva roxburghii 
خاندان ©: یو فاربیسی Family:Euphorbiaceae Putranjivaceae
انگریزی نام: پترنجیوا Putranjiva
دیسی نام: پٹاجن Putajan 
ابتدائی مسکن(ارتقائ): ہند و چین 
قسم:سدا بہار 
شکل: قد:12-16 میٹر 
پتے :پتے سادہ اور متبادل گروپوں میں گہرے سبز ،چمکدار،elliptic،distantly،لمبوترے پھیلے ہوئے۔ یہ افقی lenticels ہونے لٹکن شاخیں اور سیاہ بھوری رنگ کی چھال ہے۔
پھولوں کا رنگ:سبز۔ذردی مائل سبز پھول آنے کا وقت: مارچ۔مئی 
کاشت:بیج 
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:

Punica granatum انار

نباتاتی نام :پنشیا گرانٹم  Punica granatum Botanical Name: 
خاندان ©:لٹریسی Family: Lythraceae 
انگریزی نام:پوئم گرانٹ  Pomegranate
دیسی نام:انار Anaar
ابتدائی مسکن(ارتقائ):پاکستان
قسم: سدا بہا ر 
 شکل: درمیانہ قد: 15 میٹر   پھیلاﺅ : فٹ 
پتے:  انچ لمبے  انچ چوڑے  
 پھولوں کا رنگ: چمکدار،سرخ نارنگی پھول آنے کا وقت: موسم گرما۔ا س کے پھول خوبصورت اور دلکش ہوتے ہیں شہد کی مکھیاں پسند کرتی ہیں
پھل : . 2-3 سال کی عمر کے ہوتے ہیں تو پھول پید ا کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ 
کاشت: بذریعہ بیج اور قلم 
جگہ کا انتخاب: سرد علاقوں کو ترجیح دیتا ہے لیکن سجاوٹی قسم بھی گرم علاقوں میں ترقی فراسٹ دنیا بھر کےٹینڈرز اور ہاں نمائش سے مکمل سورج
نمایاں خصوصیات:مغل تاریخ میں بھی اس کی اہمیت ہے  
شاخ تراشی:
بیماریاں:بعض کیڑے انتہائی تباہ کن ہیں. تیتلی pupae 
استعمال:زیبائشی،پاکستان بھرپھل ، کھانے کے لئے استعال کیا جاتا ہے۔ اس درخت کی اہمیت اس بات سے واضح ہوتی ہے کہ انار کا ذکر قرآن مجید میںاوردیگر الہامی کتابوں میں کیا گیا ہے مثال کے طور پر قرآن مجید میں فر مایا گیا ہے "اور ابھی تک مختلف اسی طرح انگور اور زیتون اور انار کے باغات [ہم پیدا کرتے ہیں]". 
 "And [We produce] gardens of grapevines and olives and pomegranates, similar yet varied".
نوٹ: سجاوٹی انار پھل کھانے کے لئے کی کوشش نہ کریں - یہ انتہائی کھٹا ہے اور بیج بہت سخت ں.
شہد کی مکھیا ں انار کے پھولوں سے رس چوس کر شہد بناتی ہیں
  پھلدار پودوںکی کاشت
( انار )
اللہ رب العزت نے پاک دھرتی کو زرخیز مٹی،وسیع و عریض نہری نظام پہاڑوں اور ساحلوں کے طویل سلسلوں کے ساتھ ساتھ چار خوبصورت موسم اور ان کے بہترین امتزاج کی نعمتوںسے نواز رکھا ہے۔فطرت کی ان رعنائیوں کی بدولت دھر تی ا نواع و اقسام کے پھلوں کیلئے جنت نظیر ہے۔ہمارے ملک میں باغات کا کل رقبہ تقریباً16.4 لاکھ ایکڑ ہے جبکہ پیداوار 6 لاکھ ٹن کے قریب ہے باغات سے حاصل ہونے والے پھل اور میوہ جات ہماری غذاکو متوازان بنانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ولڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی سفارشات کے مطابق متوازن غذا کے حصول کے لئے فی کس تقریباً450 گرام روزانہ پھلاور سبزی کا استعمال ضروری ہے لیکن ہمارے ملک میں یہ استعمال 200 گرام کے لگ بھگ ہے چونکہ ہمارے ہاںباغات کا رقبہ اور پیداوار تسلی بخش نہیں ہے۔اس لئے پھل کا استعمال عام آدمی کی پہنچ سے باہر ہے۔حالانکہ ہمارے ہاں باغات کی منافع بخش کاشت کیلئے کافی گنجائش موجودہے۔ہم اس کتابچہ میںکاشتکاربھائیوںکی راہنمائی کیلئے چند اہم پھلوں کے جدید زرعی عوامل بیان کر رہے ہیں تاکہ وہ اپنے باغات کی بہتر نگہداشت سے منافع پیداوار لے سکیں۔عوامل حسبِ ذیل ہیں
´ ´ ´َ۰ پھلوں کیلئے موزوں آب وہوا ۰ زمین کا انتخاب
۰ ا فزائشِ نسل کا صحیح وقت اور طریقہ ۰ شاخ تراشی
۰ کھادوں کا متوازن استعمال ۰ آ بپاشی کی صحیح منصوبہ بندی
۰ کیڑوں اور بیماروں کا تدراک ۰ بروقت برداشت
  موزوں آب وہوا 
باغات کی منصوبہ بند ی کیلئے آب وہوا کو مدِنظررکھنا ضروری ہے تاکہ صحیح طورنشوونماپائیںاور لمبے عرصہ تک بہتر پیداوار دے سکیں۔آب وہوا کا لحاظ رکھے بغیر باغات کی بیل ایک لا حاصل کوشش ہے اس کتابچہ میں درج پھلوں کی بہترنشوونماکیلئے مندرجہ ذیل علاقے اورآب وہوا زیادہ موزوں تصور کیے جاتے ہیں لٰہذا کاشتکاربھائی پھلدار پودوں کی منصوبہ بندی اس لحاظ سے کریں
 پھلدار پودے موزوں آب وہوا علاقہ جات


انار     اعلٰی کوالٹی کی پیداوار کیلئے موسم سرمیں میں سخت سردی  لورا لائی،قلات،کوئٹہ،پشاور،ڈیرہ اسمعٰیل خان اورمظفر گڑھ کی تحصیل
اور موسم گرما میں خشک موسم درکار ہوتا ہے      علی پور۔کشمیر، مری اور چواسید ن شاہ میں خوددار انار اگتا ہے۔
     زمین کا انتخاب
پھلدار پودوں کی کامیاب کاشت کیلئے بہتر نکاس والی ،گہری اور سیم وتھور سے پاک زمین کا انتخاب کریںچونکہ پھل دار پودوں کی جڑیں گہرائی تک پھیلتی ہیں لٰہذا زیرِ زمین کوئی چٹان کنکر وغیرہ نہ ہوں جو جڑوں کی نشوونما میں رکاوٹ پیدا کریں۔باغات مختلف اقسام کی زمینوں پر کاشت ہوتے ہیں تا ہم بہتر نشوونما کیلئے میرا زمین تصور کی جاتی ہے۔
ّآجکل بلوچستان اور کئی دیگروعلاقوں میں کاشتکار پھلدار پودوں کو لگاتے وقت گہرائی تک مٹی بدل دیتے ہیں۔مذکورہ پھلوں کیلئے موزوں زمین اور اس کا انتخاب حسب ِ ذیل ہیں

پھل            موزوں زمین
انار گہری میرا زمین موزوں تصور کی جاتی ہے
کاشتکار بھائیوں کو چاہیے کہ باغات کی منصوبہ بندی میں زمین انتخاب کو خاص اہمیت دیں کیونکہ باغات کی کامیابی کیلئے موزوں زمین بہت ضروری ہے ورنہ تمام کاوشیں بے سود اور لا حاصل ہونگی
ترقی دادہ اقسام
باغات کی بہتر منصوبہ بندی کے لئے ترقی دادہ اقسام کی کاشت اور انتخاب انتہائی اہمیت کا حامل ہے درج ذیل پھلدار پودوں کے لئے ترقی دادہ اقسام ہیں۔
انار: بیدانہ، میٹھا،قندھاری،جھالاری، ترش،شامی،خوزی وغیرہ
    افزائش نسل
باغات کی افزائش نسل کے مختلف طریقہ کار ہیں جن میںمندرجہ ذیل طریقے متذکرہ پھلوں کے باغات لگانے میں معاون ہو سکتے ہیں
ؓبیج کے ذریعے افزائش:بیج سے باغات کی افزائش نسل قدرتی طریقہ کار ہے ،لیکن اس طریقہ سے لگائے پودے صحیح النسل نہیں رہتے۔باغات میں یہ طریقہ کار ان پودوں کے لیے استعمال ہوتا ہے جن کی افزائش بذریعہ چشمہ یا پیوند موزوں نہ ہو۔اس کے علاوہ بیج کے ذریعےاچھا روٹ سٹاک تیار کرتے ہیں جس پر پیوند کاری سے اعلٰی قسم کے پودے حاصل ہو سکتے ہیں بیج کے زریعے افزائش کے درج ذیل احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔
1۔ بیج صحت منداور صحیح النسل پودوں کے اچھی طرح پکے ہوئے اچھی جسامت کے پھلوں سے حاصل کریں۔
2۔سدا بہار پودوں کے بیجوں کو زیادہ دیر تک سٹور نہیں کیا جاسکتا تا ہم اگر سٹور کرنا مقصود ہو تو ان بیجوں کو اچھی طرح دھو کر خشک کرکے بند ڈبوں میںخشک اور ٹھنڈی جگہ پر سٹور کریں۔ 
3۔کچھ بیج سخت جان ہوتے ہیں جن کا اگاو ¿ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے ایسے بیجوں کو بونے سے قبل ریت کی مختلف تہوں میں مناسب نمی میں ٹھنڈی جگہ پر رکھیں۔
 ۔بعض اقسام کے بیجوں کو بونے سے قبل 24 گھنٹے تک بگھو کر کاشت کریں۔
داب کا طریقہ: اکثرباغات کی افزائش بذریعہ داب کی جاتی ہے۔خاص طور پر ان باغات کی جن کی افزائش دیگرطریقوں مثلاً قلم وغیرہ سے
 کامیاب نہ ہو۔اس طریقہ میں مادر پودے کی شاخ سے جڑیں پیدا کرتے ہیں اور پھر بعد میں الگ کر کے باغ میں منتقل کر دیتے ہیں داب موسم 
بہار یا برسات میں لگائی جاتی ہے ۔داب لگانے کے مندرجہ ذیل طریقے ہیں۔
 1 ۔ سادہ داب: اس طریقہ میں مادر پودے سے زمین کے قریب ایک شاخ بغیر توڑے جھکا کر زمین میں دبا دیتے ہیں۔شاخ کا وہ حصہ جس کو زمین کے اندر دبانا
مقصود ہو اس پر ایک ترچھا کٹ آنکھ کے نیچے شاخ کی موٹائی کے نصف حصہ تک دیتے ہیں۔اس کٹے ہوئے حصے کو جڑ نے سے بچانے کے لیے اس مین وہ پتھر وغیرہ 
دے دیتے ہیں۔اور یہ حصہ مٹی کے اندر3-4 انچ گہرائی میں دبا رہتا ہے ۔مٹی کو مناسب گیلا رکھا جائے تا کہ کٹے ہوئے حصہ سے جڑیں نمودار ہو جائیں جسے بعد میں
 مادر پلانٹ سے الگ کر کے گملے یا باغ میں لگا دیا جاتا ہے
2  ۔ہوائی داب: اس طریقہ میں ایک صحتمد زیادہ ٹہنی لے کر اس کی آنکھ یعنی (Bud)کے نیچے 1 1/2 انچ چوڑی رِنگ نما چھال اتار دیتے ہیں۔یہ عام 
سا کٹ دیتے ہیں پھر اس کے کٹے ہوئے حصہ میں پتھر دے کر اس کے گرد چکنی مٹی،راکھ یا لکڑی کا برادہ اور مٹی کا مرکب بنا کر باندھ دیتے ہیں اس کا اوپر کے برتن 
کے ذریعے قطرہ قطرہ پانی دیتے ہیں یا پھر تیز گیلی مٹی کے گرد پٹ سن کا کپڑالپیٹ کر اسے تر رکھتے ہیں۔کچھ عرصہ بعد اس میں جڑیں نکل آنے کے بعد میں مادر
پودے سے الگ کر دیا جاتا ہے۔
قلم کا طریقہ: بعض پھلوں کی افزائش جڑوں یا شاخوں کی قلمیں لگا کر کرتے ہیں ۔لیکن اس طریقہ میں کامیابی کی شرح بہت کم ہے جسے
تجارتی پیمانے پر زیادہ استعمال نہیں کرتے ہیں ۔قلمیںعموماً 25 سے 30 سینٹی میٹر لمبی صحتمند شاخ سے جس پر کم از کم 4 سے زائد آنکھیں ہوں
منتخب کریں۔ان قلموں کا 2/3 حصہ باہر رہے۔زمین کو نمی یعنی گیلا رکھیں۔کچھ عرصہ بعد یہ قلمیں پھوٹ آتی ہیںجنہیں بعد میں منتقل کر دیا جاتا ہے
اسی طرح -10 25 سینٹی میٹرلمبی جڑیں بھی منتخب کرکے انہیں اچھی طرح تیار کیاروں میں زمین کے متوازی دبا دیتے ہیں قلم کا طریقہ عموماً باغبان اچھے روٹ سٹاک بنانے کیلئے 
استعمال کرتے ہیں
بذریعہ چشمہ: یہ طریقہ نسبتاً آسان اور وسیع پیمانے پر پھلوں کی افزائش کیلئے استعمال ہو رہا ہے اس طریقہ میں شاخ کا ایک چھوٹا چشمہ واحصہ یا چشمہ اتار کر روٹ سٹاک پر لگا دیتے ہیں اس میں دو طریقے زیادہ مقبول ہیں۔
(1 ) ٹی بڈنگ یا شیلڈ بڈنگ  (2)رنگ بڈنگ
اس طریقہ میں رواں سال کی شاخ کے چشمے والے حصہ 1/2 انچ نیچے چھال تک تیز چاقو سے تار کر پھر روٹ سٹاک پر اسی طرح کا کٹ دے کر اس 
پر لگا دیں اور آنکھ کے دونوںا طرف اچھی طرح باندھ دیں اس حصہ کو گیلا رکھیں کچھ عرصہ بعد دونوں حصوں کی چھال آپس میں مل جائے گی روٹ سٹاک 
کی باقی شاخیں چشمہ کی کامیابی پر رکاوٹ دیں۔ بڈنگ یا چشمہ روٹ سٹاک پر زمین کے قریب لگائیں۔
گرافٹنگ یا پیوند کاری: اس طریقہ ایک پودے کی وہ شاخ جس پر دو یا تین آنکھیں ہوں اسے روٹ سٹاک پر لگا دیتے ہیں۔اس طریقہ میں سائن اور سٹاک کا مشابہہ ہونا بہے ضروری ہے۔گرافٹنگ کے مختلف طریقے رائج ہیں مثلاًکلفٹ گرافٹنگ،وِپ گرافٹنگ،برجگرافٹنگ وغیرہ
اس کتابچہ میں درج پھلدار پودوں کی افزائش کیلئے مندرجہ ذیل طریقے اپنائے جاتے ہیں۔
پھل           روٹ سٹاک          افزائش کے طریقے
انار ۔ بیج، بذریعہ قلم،داب
باغات کی داغ بیل
¿ ¿1) ( باغات لگانے کا طریقہ:ہمارے ہاں کے کئی ایک طریقے مثلاً مربع ،مستطیل نما طریقہ شش پہلو طریقہ
 وغیرہ لیکن ان تمام طریقہ کار میں باغ لگانے کا مربع طریقہ کار زیادہ مقبول ہے کوکیونکہ یہ طریقہ نسبتاًآسان ہے۔اس طریقہ میں پودے مربع کے 
کونے پر لگائے جاتے ہیں اس طرح پودے سے لائن اور لائن کا فاصلہ یکساں رہتا ہے۔اور پودے کھیت کے تمام کونوں پر اس طرح لگ جاتے ہیں
کہ ان کے درمیان ہو ا اور روشنی گزرنے کے علاوہ آلات کاشتکاری بھی آسانی سے استعمال ہوسکتے ہیں اور کھیت میں کوئی جگہ خالی نہیں رہتی 
تاہم کتابچہ میں درج دیگر پھلوں کے علاوہ انگور کی بیل لگانے کا طریقہ مختلف ہوتا ہے مثلاً(کھائی کا Trench سسٹم) یا تا گر کاطریقہ وغیرہ۔
2)) پودےx پودے اور لائن x لائن کا فاصلہ:پوددں کے درمیانی فاصلے کا انحصار کئی عوامل پر ہے مثلاً پھلدار پودا اور اسکی اقسام ،آب وہوا زمین کی زرخیزی، پانی کی دستیابی، زمین کی قیمت ،اور تیار شدہ مکمل پودے کا سائز وغیرہ اس کتاب میں متذکرہ پھلوں کیلئے مندرجہ ذیل فاصلہ سفارش کیا جاتا ہے۔
 انار کیلئے (20x15 فٹ) 
(3) گڑھے کھودنا:مندرجہ بالافاصلوں کو سامنے رکھتے ہوئے پودوں کی نشاندہی کریں نیز نشان والی جگہ پر 3x3x3x فٹ کے گڑھے بنائیں ۔
گڑھے کھودتے وقت اوپر کی ایک فٹ کی مٹی علٰیحدہ رکھ لیں اور گڑھوں کو 10 سے15 روز تک ہوا اور دھوپ کیلئے چھوڑ دیں تاکہ بیماری پیدا
 کرنے والے جراثیم اور ضرر رساں
کیڑے ختم ہو جائیںبعد ازاں اوپر والے ایک فٹ کی مٹی میں یکساں نسبت سے بھل اور گوبر کی گلی سڑی کھاد ملا کر گڑھے بھر دیں اور پانی لگائیں بعض کاشتکار ان گڑھوں میں ایک ایک مٹھی سونا یوریا،ڈیم اے پی اور پوٹاش بھی ملاتے ہیں تاکہ پودوںکو شروع سے ہی اچھا آغاز دیا جاسکے۔
(4)پودوں کا انتخاب: کاشتکار بھائی باغات کیلئے پودوں کے انتخاب میں مندرجہ ذیل باتوں کا خیال رکھیں
1  ۔پودے ہمیشہ با اعتماد نرسریوں سے خریدیں جن میں کیڑوں اور بیماریوں کے تلف کرنے کے اقدامات کیے گئے ہوں۔
2 ۔پودے کا قد 2 سے 2 1/2 فٹ اور درمیان سے تنے کا قطر نصف انچ ہونا چائیے۔
3۔پودے کا تنا سیدھا اور زمین سے پیوند کا فاصلہ 9سے 12انچ رکھیں۔
4 ۔پودے کے پتے گہرے سبز چمکدار اور داغ دھبوں اور زخموں سے پاک وصاف ہوں نیز تنے پر5-4 شاخیں چھتری نما ہوں۔
5 ۔پودوں کو اکھاڑنے سے پہلے کچھ دیر پہلے فالتو شاخیں تراش دیں تا کہ پتوں سے زائد نمی خارج نہ ہو سکے۔
(5) پودے لگانے کا موسم:پودے کگانے کے دو موسم ہیں موسم بہار اور موسم برسات
(الف) موسم بہار: اس موسم زیادہ تر پت جھڑ والے پودے نئی کونپلیں نکلنے سے پہلے یعنی جنوری تا فروری کے پہلے ہفتہ تک لگائے جاتے ہیں جبلہ سدا 
بہار پودے پندرہ فروری سے آخر مارچ تک لگادینے چاہیے۔
(ب) موسم برسات:موسم بہار کے علاوہ سدا بہار پودے یعنی برسات یعنی جولائی۔اگست میں لگانا زیادہ بہتر ہے۔
 کھادوں کا متوازن استعمال
پھلدار پودوں کی کھاد ضروریات دیگر اجناس سے مختلف ہوتی ہے لیکن بد قسمتی سے ہمارے ہاں باغات میں کھادوں کے متوازن استعمال کی طرف
کوئی خاص توجہ نہیں دی جاتی شاید یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہان باغات میں کھادوں کا استعمال نہ ہونے کے برابر ہے اگر ہے بھی تو غیر متوازن
ہے چنداقسام کے پھلوں تک محدود ہے مثلاً آم،ترشاوہ پھل اور کیلا وغیرہ۔کھادوں کے غیر متوازن استعمال کی وجہ باغات کی پیدا وار اور آمدن حوصلہ شکن ہے جو باغات کے فروغ  میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، لٰہذا کاشرکار بھائیوں کو شاہیے کہ وہ باغات میں کھادوں کی باقاعدہ
منصوبہ بندی تجزیہ اراضی کی بنیاد پر کریں۔اس ضمن میں ایف ایف سی کی جدید کمپیوٹرائزڈ لیبارٹیوں سے مفت تجزیہ کروائیںتاہم اگر تجزیہ نہ 
کرواسکیں تو مندرجہ ذیل عوامل کو ملحوظِ خاطر رکھیں۔
1۔باغات میں گوبر کی کچی تازہ کھاد ڈالیں کیونکہ اس سے دیمک کا اندیشہ ہوتا ہے ہمیشہ اچھی طرح گلی سڑی گوبر والی کھاد استعمال کریں۔
2 ۔کھاد ڈالنے سے قبل تنوں کی چھتری کے نیچے تنے ایک فٹ دور بکھیریں گوڈی سے زمین میں ملا دیں نیز اس کے بعد فوراً بعد پانی لگائیں۔
پھل   عمر  گوبر کی کھاد  کمیائی کھادیں فی پودا (کلوگراموں میں )سالانہ      طریقہ استعمال
   (سالوں میں) (کلو گرام پودا) سونا یوریا  سونا ڈی اے پی  ایف ایف سی 
    ( ایس او پی)  پھل نہ دینے والے پودوں کیلئے گوبر کی کھاددسمبر میں جبکہ کیمیائی کھاد چار 
ّ 
انار  5 - 2    25    1    3/4   3   حصوّں میں پھول آنے سے پہلے اور پھل پکنے کے بعد دیں۔
  6 سے زائد   30   1 1/2   1 1/4   4
  پودا لگاتے وقت   25   ۔    ۔    ۔
  3 - 1    ۔    1/2    1/4   1/4  گوبر کی کھاد بمعہ سونا ڈی اے پی اور ایف ایف سی ایس او پی دسمبر 
نوٹ:۔ اجزائے صغیرہ کی کمی کو دور کرنے کیلئے 3کلو گرام سونا یوریا بوران اور 10 کلو گرام زنک سلفیٹ (% 21 ) فی ایکڑ استعمال کریں۔
            شاخ تراشی
پودا لگاتے وقت اس کی مطلوبہ شکل بنانے کی کوشش کریںبصورت دیگر بعد میں پودوں کی بڑھوتری یا پھیلاو ¿ اس قدر زائد ہو جاتا ہے کہ کاشتکار
کانٹ جھانٹ میں ہچکچاہٹ محسوس کرنے لگتے ہیں اور یوں پودوں کی مناسب شکل اور صحیح پیداوار حاصل نہیںہوتی۔پھل توڑنے کے بعد موسم گرما
اور موسم سرما کے بعد پودوں کی بیمار سوکھی اور غیر ضروری شاخوں کو کاٹ دیں۔پت جھڑ والے پودوں میں ہر سال کانٹ چھانٹ ضروری ہوتی ہے اس
طرح ان پودوں میں پھوٹ یا شاخوں کو کاٹ کر اعلٰی معیار کا پھل حاصل کیا جا سکتا ہے یہ عمل پتے گرنے سے لے کر نئی پھوٹ آنے تک مکمل کریں۔
سدا بہارپودوں میں کم کانٹ چھانٹ کی ضرورت ہوتی ہے مندرجہ ذیل پھلدار پودوںکی شاخ تراشیاس طرح کریں۔
انار: زمین سے اوپر 30 سے 40 سنٹی میٹر تنے کی لمبائی پر تنے پر 3 یا4 شاخیںجو تنے پر ایک دوسرے سے ہر طرف تھوڑے فاصلے پر متوازی ہوں انہیں 
چھوڑ کر باقی غیر ضروری اور کمزور شاخوں کو کاٹ دیں۔بعد ازاںبیمار، مرجھائی ہوئی اور الجھی ہوئی ٹہنیوں اور کچے گلوں کے سو انار کی بہت کم شاخ
 تراشی کی جاتی
ہے۔
    آبپاشی
باغات کے لئے آبپاشی کی منصوبہ بندی میں کئی عوامل مدِنظر رکھے جاتے ہیں جن میں باغ کی عمر،پودے کی جسامت اور پتوں کا نظام،جڑوں کا نظام
موسمی حالات ،زمین کی کیفیت وغیرہ شامل ہیں۔باغات میں اس امر کا خیال رہے کہ 6 انچ سے نیچے زمین خشک نہ ہونے پائے۔ آبپاشی کے
وقفوں کے دوران صرف زمین کی اوپر والی سطح خشک ہونی چاہیے پودے کے اوپر والے پتے(کونپلیں)جونہی نیچے مڑنے لگیں فی الفور آبپاشی
کریں ۔لیکن اس بات کا خیال رہے کہ جب پودوں پر پھول آرہے ہوں تو اس وقت ہرگز پانی نہ دیں کیونکہ بار آوری متاثر ہوتی ہے نیز
پودوں کو کھاد کے بعد آبپاشی نہایت ضروری ہے ۔اس طرح سردی اور بارشوں میں پانی کا وقفہ زیادہ رکھیں تاہم کور اتارنے پر باغات کو کورے کے 
نقصان دہ اثرات سے بچانے کیلئے پانی دیتے رہیں۔
مزکورہ پودوں کے لئے آبپاشی کا شیڈول یہ ہونا چاہیے     
وقفہ آبپاشی(دونوں میں)  
انار موسم گرما 20 - 18 ۔موسم سرما 30 ۔ دیگر اوقات/ مراحل پھول آنے سے پھل بننے تک پانی روک دیںپھل بننے کے بعد آبپاشی دیں۔
نقصان دہ حشرات اور بیماریوں سے تحفظ
منافع بخش باغبانی کے لئے نقصان دہ حشرات اور بیماریوں سے باغات کو بچانا بہت ضرروی ہے کیونکہ ان سے باغات کی آمدن 30 سے 35فیصد
تک کم ہو جاتی ہے۔صاف ستھرے اور بیماروں، کیڑوں کے حملہ سے بچے ہوئے پھل پر کشش اور زائد منافع دینے والے ہوتے ہیں۔اگرچہ
مختلف پھلدار پودوں کی بیماری اور نقصان رساں حشرات مختلف ہیں مندرجہ ذیل مفید تدابیر پر عمل پیرا ہو کر کافی حد تک ہمارے کاشتکار باغات 
کا تحفظ کر سکتے ہیں
۰بیمارویوں سے پاک صحتمند پودوں کا انتخاب کریں اور انہیں موزوں فاصلہ پر کھیت لگائیں۔
۰پودوں کی خوراک کی ضرورت کو صحیح پورا کریں نیز جڑی بوٹیوں اور گھاس پھوس سے باغات کو صاف رکھیں۔
باغات کی کانٹ جھانٹ کے دوران بیمار اور سوکھی شاخیں کاٹ دیں نیز بیمار پودوں کی جگہ پودے منتقل کریں۔
مندرجہ بالا عوامل کے علاوہ باغات کو نقصان رساں حشرات اور بیمارویوں سے تحفظ دینے کیلئے درج ذیل حکمت عملی اپنائیں
1 انار 2 انار کا پروانہ اور انار کی تتلی 3 فالیڈال،پایئریفاس وغیرہ سپرے کریں 4 تنے کی سنڈیاں  5 تھایﺅڈان 200 ملی فی 100 لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں
6 اندورنی سٹرانڈ پتے کے دھبے اور پھپھوند والی بیماریاں
7 ڈائی تھین ایم یار ریڈومل یا ٹاپسن ایم میں سے کوئی ایک دوا 2 گرام فی لٹر پانی میں ملا کر سپرے کریں۔ 8 پھل کا پھٹنا 9 یا اندورنی فعلیاتی بد نظمی کی وجہ سے ہوتی ہے جو گرم مرطوب
آب و ہوا میں زیادہ دیکھنے میں آتی ہے۔غذائی اجزاءخصوصاً بوران کی کمی بھی موجب تصور کی جاتی ہے باغات میں کھادوں کا متوازن استعمال اور آبپاشی کی صحیح منصوبہ بندی (کمی بیشی)سے اس کا تدراک ممکن
 ہے۔پھل کی مکھی ڈپٹرکس 100 گرام 100 لٹر پانی مین ملا کر سپرے کریں۔ سائپر میتھرین گروپ کی کوئی ایک زہر 200 ملی لٹر فی 100 لٹر پانی ملاکر سپرے کریں۔
برداشت
ہمارے ہاں پھلوں کی پیداوار کا اچھا خاصا حصہ برداشت اور فرخت کے دوران بے احتیاطی اور لا پر واہی سے ضائع ہو جاتا ہے۔ پھلوں کی برداشت درجہ بندی اور فروخت کو خصوصی اہمیت دینی چاہیے۔اس ضمن میں ذیل میں دی گئی ہدایت پر عمل کریں
پھلوں کو نہ پکنے سے پہلے اور پکنے کے بعد دیر سے توڑیں کیونکہ کچے پھلوں میں تزابیت زیادہ ہوتی ہے جبکہ زیادہ پکے ہوئے پھل جلد گل سڑ جاتے ہیں لٰہذا پھلوں کو صحیح پختہ حالت،مناسب سائزاور صحیح رنگت کی حالت میں توڑیں۔
پھل توڑتے وقت یا اسے سٹور کرتے وقت یا منڈی میں لے جاتے وقت ضرب لگنے سے بچائیں۔کیونکہ ضرب لگنے سے پھل زخمی ہو کر گل سڑ جاتا ہے۔
ڈنڈی پھل کی سطح کے برابر قینچی سے کاٹیں۔
پھلوں کوصاف کرکے درجہ بندی کریں اور کریٹوں میں احتیاط سے کاغذ کی تہوں میں ہوا کی آمدورفت کا خیال رکھتے ہوئے پیک کریں اور صحیح جگہ فروخت کیلئے لے جائیں









Pterygota Alata ٹیٹلی

نباتاتی نام:پیٹروگٹا آلاٹا Pterygota Alata Botanical Name: 
خاندان ©: Family: Streculiaceae 
انگریزی نام:پیٹ گوٹا Ptegota 
دیسی نام: ٹیٹلی Tattele
ابتدائی مسکن(ارتقائ):
قسم:پت جھاڑ
شکل: قد: 40.30 فٹ  پھیلاﺅ : 30.20فٹ
پتے:پتے،10.4انچ لمبے18.4چوڑے بیضوی بالدار
 پھولوں کا رنگ: گلابی سرخ جس پر زرد نالیاں ۔ پھول آنے کا وقت: مارچ۔پھول گھچوں میں لگتے ہیں۔
پھل: 5انچ قطر ۔سخت لکڑی کیطرح ،تقریبا 40عدد ہوتے ہیں۔
کاشت:بیج سے۔یہ ایک خوبصورت درخت ہے۔
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:بیج کھائے جاتے ہیں۔

Pterospermum acerifolium کارنیکر،کنک چمپا

نباتاتی نام : ٹیروسپرمم اسیروفولیم Botanical Name:Pterospermum acerifolium 
خاندان ©: مالویسی Family: Malvacea 
انگریزی نام: پیٹرو سپرمم ، بائیر ٹری Pterospermum Bayur Tree
دیسی نام: کارنیکر،کنک چمپا Kanak Champa
ابتدائی مسکن(ارتقائ):بھارت ،برما، جنوب مشرقی ایشیا 
قسم:پت جھاڑ سدا بہار
شکل: قد: 15-20 میٹر 60.40 فٹ پھیلاﺅ: 40.30فٹ
پتے:10.5انچ چوڑے اور 15.10انچ لمبے لمبوترے ۔کنارے لب دار اوپر سے چمکدار اور نیچے سے سفید خاکستری۔
 پھولوں کا رنگ: سفید پھول آنے کا وقت: مارچ۔اپریل بڑے نلی دار خوشبودار۔6.4انچ لمبے اور3.2انچ چوڑے۔ درخت کے پتے palmately ribbed چھوٹی پتی ہیں ۔متبادل پتی کی شکل گھنٹی نما ، لمبوترے، بیضوی،چوڑے،درخت کی چھال کا رنگ سرمئی اور کافی نر م جانا جاتا ہے۔
پھل: کیپسول لمبوترے 6.4انچ لمبے اور3.2انچ چوڑے۔
کاشت:بیج سے۔
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:پھول رات کو کھلتے ہیں۔
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:لکڑی فرنیچر سازی اور پنکھڑیاں دواﺅں میں استعمال ہوتی ہیں۔



Pterocarpus Ind پڈوک،پڑوک

نباتاتی نام:پیٹروکاپس Botanical Name: Pterocarpus Ind
خاندان ©:لگیمونیسی Family: Leguminoceae 
انگریزی نام: بر میس روز وڈ  Burmese rosewood 
دیسی نام: پڈوک،پڑوک Pedrok
ابتدائی مسکن(ارتقائ):
قسم:پت جھاڑ
شکل: قد: 50 فٹ پھیلاﺅ: 40,30فٹ
پتے:نیم پت جھاڑ،مرکب پتے،10.8انچ لمبے برگچے،4.3انچ لمبے اور دو ڈھائی انچ چوڑے انڈے کی شکل کے گہرے سبز،
 پھولوں کا رنگ: زرد پھول آنے کا وقت: مئی سے جون ۔تک۔عمر مختصر ہوتی ہے۔چھوٹے پھول گھچے میں ۔
پھل :بیج کی پھلیاں ایک سے دو انچ قطر کی۔درمیان میں واحد بیج ہوتا ہے۔
کاشت:بیج سے۔پھول بڑی تعدار میں زمین گرتے ہیں اور صفائی کا مسئلہ پیدا کرتے ہیں ۔پھولوں سے لدا ہوا بے حد خوبصورت لگتا ہے ۔
جگہ کا انتخاب:
نمایاں خصوصیات:
شاخ تراشی:
بیماریاں:
استعمال ©:گوند نکلتی ہے جو بطور دوا استعمال ہوتی ہے۔اس پر دیمک نہیں لگتی۔لکڑی فرنیچر کے لیے اچھی ہے۔